عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا خدشہ، وزارت داخلہ نے معلومات طلب کر لیں

،تصویر کا ذریعہ@WASEEMALSALIMI
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگلت بلتستان کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں قائم ان صوبوں کے ہاوسز پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے گھر کے باہر صوبہ خیر پختونخوا اور گلگلت بلتستان کی پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے درجنوں اہلکار تعینات ہیں۔
وزارت داخلہ کی طرف سے یہ اقدام اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ان ہاوسز پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کچھ اہلکاروں کی پاکستان تحریک انصاف کے 25 مئی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے خدشات کی بنیاد پر اٹھایا ہے۔
اسلام آباد میں پنجاب ہاوس، سندھ ہاوس، خیبر پختونخوا ہاؤس، بلوچستان ہاؤس، گلگت بلتستان ہاؤس اور کمشر ہاؤس واقع ہیں اور ان ہاؤسز پر متعلقہ علاقوں کے پولیس اہلکار ہی تعینات ہوتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں بالخصوص سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر ملک کے دیگر حصوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی سے متعلق رائے طلب کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس خط کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس بارے میں سرکاری طور پر معلومات حاصل کر سکیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکار اسلام آباد پولیس کی اجازت اور ان کو مطلع کیے بغیر کیسے بنی گالہ میں جمع ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@PTIOFFICIAL
انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے گھر کے باہر خیبر پختونخوا پولیس، گلگت بلتسان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس اہلکاروں کے جو اہلکار موجود ہیں، کم از کم انھیں وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کے لیے طلب نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام کو یہ بھی معلومات درکار ہیں کہ ان میں سے کتنے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار مختلف ہاؤسز پر کتنے عرصے سے تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ ان اہلکاروں کے سروس ریکارڈ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جانی چاہیے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ ایسی رپورٹس بھی وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ہیں کہ پنجاب اور سندھ کے علاوہ دیگر ہاؤسز اور بنی گالہ میں تعینات قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے 25 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں اس جماعت کے کارکنوں کو ریڈ زون اور بلیو ایریا تک رسائی میں مدد فراہم کی تھی۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے مختلف عوامی جلسوں میں اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے علاوہ گلگلت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے اہلکاروں کو سابق وزیر اعظم کی بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر تعینات کر دیا گیا۔ ملک کے ان حصوں میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ان اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی بنی گالہ میں موجود ہے تاکہ اگر کوئی عمران خان کو گرفتار کرنے آئے تو اس کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
چند روز قبل اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے بنی گالہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا تھا تو پی ٹی آئی کے ان کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں وہاں پر اکھٹے ہو گئے تھے، جن میں زیادہ تر سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے یہ سرچ آپریشن مؤخر کر دیا تھا۔
اسلام آباد پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پولیس اور ایف سی نے وزارت داخلہ کی اجازت اور اسلام آباد پولیس کو مطلع کیے بغیر سابق وزیر اعظم عمران خان کے گھر کے باہر کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم کسی مقدمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں اور پولیس اہلکار انھیں گرفتار کرنے کے لیے بنی گالہ جائیں تو کم از کم پولیس اہلکاروں کو یہ تو معلوم ہو کہ وہاں پرسکیورٹی کے نام پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کون ہیں اور وہ کتنے عرصے سے یہاں پر تعینات ہیں۔
پولیس ذرائع یہ بھی خدشتہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں کہیں یہ نہ ہو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایک دوسرے پر ہی اسلحہ تانے ہوئے کھڑے ہوں۔
سابق وزیر اعظم کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں دس سے زاید مقدمات درج ہیں اور ان مقدمات میں انھوں نے پشاور ہائی کورٹ سے راہدری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔
25 مئی کے لانگ مارچ کے بعد عمران خان پشاور میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
عمران خان کی اپنی جان کو خطرے کی بات بعد موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو سابق وزیر اعظم کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے درجنوں پولیس اہلکاروں کو سابق وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر تعینات کیا جبکہ رینجرز کے اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے مشترکہ اینٹی رائٹ مشقوں کا آغاز کر دیا ہے اور یہ مشقیں اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔
اسلام آباد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔













