بنی گالہ: کیا سی ڈی اے نے صرف وزیرِ اعظم عمران خان کے گھر کو ریگولرائز کیا ہے؟

بنی گالہ

،تصویر کا ذریعہ@PTIOfficial

،تصویر کا کیپشنسی ڈی اے کی جانب سے عمران خان کے گھر کے نقشے کو مشروط اجازت اور اس حوالے سے کنسلٹینٹ بھرتی کرنے کا خط 05 مارچ 2020 کو جاری کیا گیا تھا تاہم نو مہینے گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی کنسلٹینٹ نہیں رکھا جا سکا
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں بنی گالہ کے مقام پر وزیرِاعظم عمران خان کے گھر کے نقشے کو 12 لاکھ چھ ہزار ’جرمانے‘ کی ادائیگی کے بعد مشروط قانونی حیثیت دے دی ہے۔

سی ڈی اے کے ترجمان رانا شکیل اصغر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پچھلے سال وفاقی کابینہ سے منظور شدہ نئے بائی لائز کے تحت عمران خان کے گھر کے بلڈنگ پلان کو (قانونی حیثیت) منظور کر لیا گیا ہے۔

سی ڈی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے سی ڈی اے کو صرف بلڈنگ پلان جمع کروایا گیا تھا جو مارچ 2020 میں سی ڈی اے نے منظور کیا ہے اور اتھارٹی کی اجازت کے بغیر جو تعمیر کی گئی تھی، اس کا جرمانہ (بارہ لاکھ چھ ہزار روپے ) ادا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے نے وزیرِ اعظم کو کوئی خاص رعایت نہیں دی ہے اور اس علاقے کے زون 2، 4 اور 5 میں تعمیر شدہ فارم ہاؤسز کے مالکان میں سے جو بھی ریگولرائزیشن کے لیے درخواست دیتے ہیں انھیں منظور کر لیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے ذاتی گھروں کی اجازت نہیں تھی لیکن نئے بائی لاز کے تحت اگر ان گھروں کے مالکان درخواست دیتے ہیں تو اسے بھی منظور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ’ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اس سے متعلقہ منصوبوں کی اجازت نہیں ہے۔‘

اسی حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگی رہنما جھوٹ کا سہارا لے کر بد نیتی پر مبنی غلط تاثر نہ پھیلائیں۔ عمران خان نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا ہے۔ ان کے گھر کا نقشہ ابھی مشروط طور پر منظور کیا گیا ہے، یہ اپنے مذموم پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے، وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے ہمیشہ سچ اور اصول کا راستہ اپنایا ہے۔

جمائما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافتخار درانی کے مطابق 'جب برطانیہ میں عمران خان کا اپارٹمنٹ نہیں بک رہا تھا، انھوں نے اپنی سابقہ اہلیہ جمائمہ سے ادھار رقم لے کر زمین خریدی اور بعد میں جب اہارٹمنٹ بک گیا تو انھیں پیسے واپس کر دیے‘

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2017 میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مسلم لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے اثاثے چھپانے پر عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

اس وقت جہاں ایک طرف سیاسی پارٹی کے رہنما کی حیثیت سےانھیں اپنے اثاثوں کی وضاحت دینی پڑی تھی وہیں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ ان کی اپنی رہائش گاہ بھی سی ڈی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہے۔

اس سماعت میں عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے بنی گالا اراضی کے لیے بذریعہ بینک رقم بھجوائی تھی جبکہ اراضی کے لیے کچھ رقم عمران خان نے براہ راست بھی ادا کی تھی۔

عدالت نے اثاثوں سے متعلق عمران خان کی وضاحت تو تسلیم کرلی تاہم انھیں غیر قانونی تعمیرات کا جرمانہ ادا کرکے بے ضابطگیوں کو درست کرنے کا حکم دیا گیا۔

سی ڈی اے

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنسی ڈی اے کی جانب سے مارچ 2020 میں جاری کردہ لیٹر میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے خسرہ نمبر 1939، خیوت نمبر 960، خاتونی نمبر 1652، 1654، 1656، 1658، 1660 اور 1674، موضع موہڑا نور، اسلام آباد میں عمارت کی تعمیر کے لیے بلڈنگ پلانز کو منظور کرتی ہے

نو مہینے گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی کنسلٹینٹ ہائر نہیں کیا جاسکا

یاد رہے سنہ 2018 میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے حوالے سے کابینہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے کمیشن نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری ریزیڈینشل سیکٹر زوننگ ریگولیشنز 2020 کو حتمی شکل ضرور دی تھی، تاہم اس کمیشن نے بائی لائز میں ترمیم کے حوالے سے ماسٹر پلان پر نظرثانی کا کام ایک کنسلٹنٹ کے ذمے لگا دیا تھا۔

سی ڈی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ناصرف اس علاقے میں بلکہ پورے اسلام آباد میں جہاں جہاں غیر قانونی سوسائٹیاں اور تعمیرات کی گئی ہیں، ان کے جائزے کے لیے ایک کنسلٹنٹ ہائر کیا جا رہا ہے جو کابینہ کی سفارشات کی روشنی میں تمام شہر کا سروے کرے گا۔

مشروط اجازت کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اگر وہ کنسلٹنٹ، سی ڈی اے کی جانب سے پہلے سے منظور شدہ چیزوں سے متصادم کوئی سفارشات پیش کرتا ہے تو ان سفارشات کو بورڈ اور کابینہ کے سامنے رکھ کر دیکھا جائے گا۔

یہاں یہ یاد رہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے عمران خان کے گھر کے نقشے کو مشروط اجازت اور اس حوالے سے کنسلٹینٹ ہائر کرنے کا لیٹر 05 مارچ 2020 کو جاری کیا گیا تھا تاہم نو مہینے گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی کنسلٹینٹ ہائر نہیں کیا جاسکا۔

بی بی سی نے جب اس بارے میں سی ڈی اے سے سوال کیا تو رانا شکیل اصغر کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کنسلٹنٹ ہائر کرنے کے حوالے سے کام کا آغاز ہو چکا ہے (ٹینڈر کھل چکے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے )اور ایک مہینے کے اندر اندر یہ فائنل ہو جائے گا۔

شبلی

،تصویر کا ذریعہ@shiblifaraz

’عمران خان نے سنہ 2002 میں یونین کونسل موہڑہ نور سے تقشے کی منظوری لے لی تھی‘

وزیرِاعظم عمران خان کے سابقہ مشیر اور قریبی ساتھی افتخار درانی 12 لاکھ چھ ہزار روپے کی رقم کو جرمانہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ریگولرائزیشن فیس ہے۔

افتخار درانی کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کے اس گھر کی تعمیر سنہ 2002 میں شروع کی گئی تھی اور اس وقت بنی گالہ اسلام آباد رورل کا حصہ تھا اور سی ڈی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا۔ لہذا عمران خان نے یونین کونسل موہڑہ نور سے تقشے کی منظوری لی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ بعد میں جب نیشنل پارک بنی گالہ پر تجاوزات قائم کی جا رہی تھیں، عمران خان نے تجاوزات کو روکنے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔ اور تبھی بنی گالہ کو ریگولرائز کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔

افتخار درانی کے مطابق اب چونکہ یہ علاقہ سی ڈی اے کے دائرہ کار میں آ گیا ہے لہذا ریگولرائزیشن کے لیے کنسلٹینٹ کی ہائیرنگ اور ماسٹر پلان بننا ضروری ہے اور اسی لیے اس سارے عمل سے پہلے وہاں رہنے والے ریگولرائزیشن فیس جمع کروا کے مشروط اجازت حاصل کر رہے ہیں۔

افتخار درانی نے دعویٰ کیا کہ بنی گالہ میں رہنے والے تمام رہائشی سی ڈی اے کو درخواستیں دے رہے ہیں اور اکیلے عمران خان کو مشروط اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ریگولرائزیشن فیس جمع کروا رہا ہے اسے مشروط اجازت دی جا رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کسی سرکاری زمین پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ انھوں نے اپنے پیسوں سے زمین لے کر گھر بنایا جس کی 2002 میں اجازت لے لی گئی تھی اب اس عمل پر وزیِرِ اعظم کی تعریف کرنے کے بجائے الٹا ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جیسے انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہو۔‘

افتخار درانی کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2017 میں جب عمران خان کے گھر کا معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کا فنانشل آڈٹ کرایا تھا جس میں ثابت ہوا تھا کہ یہ گھر کرکٹ کھیل کر کمائی گئی رقم سے قانونی طور پر بنا ہے۔

عمران

،تصویر کا ذریعہ@Jemima_Khan

سوشل میڈیا پر ردِعمل: ’عمران خان نے اپنے آپ کو این آر او دے دیا‘

وزیرِ اعظم عمران خان کے گھر کو قانونی حیثیت دینے سے متعلق سی ڈی اے کی جانب سے مارچ 2020 میں جاری کیا گیا نوٹس جب گذشتہ ہفتے کے اختتام پر سوشل میڈیا پر سامنے آیا تو کئی صارفین اس اقدام پر تنقید کرتے نظر آئے۔

کئی افراد کا خیال ہے کہ عمران خان نے بھی حکومت میں آ کر وہی کام کیا جس کا الزام وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے گذشتہ حکمران پر لگاتے آئے ہیں۔

صافی

،تصویر کا ذریعہ@SaleemKhanSafi

کچھ صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ ’عمران خان نے اپنے آپ کو این آر او دے دیا۔‘

کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے پورے علاقے کو ریگولرآئز کیا جا رہا ہے۔

فرح

،تصویر کا ذریعہ@FarahSaadya

کئی صارفین اس اقدام کو ناانصافی مانتے ہیں۔ ڈاکٹر مہرین نامی صارف لکھتی ہیں ’غریبوں کے گھر گرا دیے گئے جبکہ سی ڈی اے نے عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کو 12 لاکھ روپے جرمانہ کر کے ریگولرائز کر دیا۔ کیا یہ ہے وہ تبدیلی جس کا وعدہ تھا؟‘

دوسری جانب ایسے صارفین بھی ہیں جو اس خبر پر وزیرِ اعظم عمران خان کی تعریف کرتے یہ کہتے نظر آئے کہ ’عمران خان کو عدالت کی طرف سے یہ حکم ملا تھا اور انھوں نے اس کی تعمیل کیا، کیا اس سے قبل کسی وزیرِ اعظم نے جرمانہ ادا کیا؟‘

بنی گالہ

،تصویر کا ذریعہ@Waseemalsalimi

سی ڈی اے کی وضاحت

سی ڈی اے کے مطابق عمران خان کا گھر زون فور کے ذیلی زون بی میں آتا ہے۔ سی ڈی اے کے پاس اس علاقے میں بلڈنگ پلانز کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہاں بلا اجازت تعمیرات ہوئیں۔

تاہم تھارٹی کے مطابق یہ تعمیرات جس علاقے میں کی گئیں، گذشتہ سال منظور کیے گئے قوائد کی رو سے وہاں تعمیر جائز تھی لہذا ان گھروں کو ریگولرائز کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان بنی گالا میں 300 کنال جائز اراضی کے مالک تھے اور ان کا گھر فارم ہاؤس سکیم کے حساب سے ریگولرائز کیا گیا ہے، جس کے تحت فارم ہاؤس کے مالکان زمین کے 20 فیصد حصے پر عمارتیں تعمیر کرسکتے ہیں۔

عمران خان کا گھر 11 ہزار 371 اعشاریہ 09 اسکوائر فٹ پر تعمیر کیا گیا تھا، اگرچہ وہ 60 کنال پر کورڈ ایریا رکھنے کے حقدار تھے۔

اسلام آباد میں رہائشی علاقے سے متعلق قوانین (بلڈنگ کنٹرول) ریگولیشنز 2020 بنی گالہ کے زون 2، 4 اور 5 میں بغیر اجازت کے تعمیر کردہ عمارت کے مالکان کو سی ڈی اے سے اپنے فارم ہاؤسز یا گھر ریگولرائز کروانے کی اجازت دیتا ہے تاہم اس عمارت میں صرف دیکھ بھال یا نگرانی کا عملہ رہائش اختیار کر سکتا ہے اور فارم یا مالک مکان کو وہاں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ان فارم ہاؤئسز کا مقصد اسلام آباد کے شہریوں کو سستے نرخوں پر سبزی، پھل، اور گوشت وغیرہ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی وجہ سے سی ڈی اے نے یہ فارم ہاؤسز انتہائی ارزاں نرخوں پر فروخت کیے۔ ان شرائط پر پورا نہ اترنے والے کی الاٹمنٹ کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان نے سنہ 2018 میں اپنے بنگلے کی ریگولرائزیشن کے لیے درخواست دی تھی تاہم اتھارٹی نے ان کی درخواست پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے مکمل معلومات فراہم کرنے کا کہا تھا لیکن بعد ازاں سی ڈی اے کی طرف سے ریگولرائزیشن کا عمل روک دیا گیا تھا۔