عمران خان کا بطور وزیراعظم ہیلی کاپٹر کا سفر اور مبینہ اخراجات

،تصویر کا ذریعہAUGUSTA WESTLAND
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
’ارے بھئی اگر وہ وزیر اعظم تھے اور ہیلی کاپٹر استعمال کرتے تھے تو غلط ہی کیا ہے، ہر وزیر اعظم ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتا ہے اور خصوصی سکواڈ بھی۔‘
بات تو بالکل بجا ہے۔ لیکن بحث کرنے والے کہتے ہیں کہ عمران خان تو کفایت شعاری کی مثال دیتے تھے اور ہیں تو پھر ہیلی کاپٹر کی مہنگی سواری کیوں کرتے رہے؟
بنی گالہ اور وزیراعظم ہاؤس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر سپورٹس کمپلیکس واقع ہے۔ یہیں ساتھ میں اسلام آباد ہیلی پورٹ ہے۔ یہاں کابینہ ڈویژن کے ماتحت سکستھ ایوی ایشن سکوارڈن موجود ہے۔
یہاں آپ کو داخلے کی اجازت با آسانی نہیں ملتی کیونکہ یہاں کا انتظام فوج کے پاس ہے۔ تاہم یہاں موجود انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں پانچ سے زیادہ ہیلی کاپٹر ہیں اور عمران خان کے علاوہ ماضی میں جو بھی وزیراعظم رہے ہیں اور جب کبھی وی وی آئی پی مومنٹ ہوتی ہے تو یہی ہیلی پیڈ استعمال ہوتا ہے کیونکہ ان کے بقول اسلام آباد کے اندر یہ واحد ہیلی پیڈ ہے۔
انتظامی اہلکار بتاتے ہیں کہ فوج کے پائلٹ ہی یہاں ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔
آج جمعے کو جب میں وہاں گئی تو اہلکاروں نے مجھے بتایا کہ ’ابھی ابھی دو ہیلی کاپٹر آئے ہیں، آج تو جی وی وی آئی پی موومنٹ ہے اس لیے آپ کو اندر جا کر کوئی معلومات لینے کی اجازت نہیں مل سکے گی۔‘
خیال رہے کہ اسی ہیلی پیڈ کو وی وی آئی پی موومنٹ، صدر اور سی ڈے اے حکام بھی استعمال کرتے ہیں۔

عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے سفر پر مبینہ خرچہ
لیکن جمعرات کو مسلم لیگ ن کی جانب سے عمران خان کی جانب سے بطور وزیراعظم ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا معاملہ بالکل ویسے ہی اٹھایا گیا جیسے ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سنہ 2018 میں سامنے آیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں اس کا ذکر کیا اور پھر صحافیوں کو ایک سفید صفحے پر مشتمل اعداد و شمار واٹس ایپ کیے جو ان کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے استعمال میں رہنے والے ہیلی کاپٹر پر آنے والے خرچے کی تفصیلات ہیں۔
اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور اقتدار میں انھوں نے کل دو ہزار 725 گھنٹے ہیلی کاپٹر پر سفر کیا اور اس حساب سے فی گھنٹہ کل دو لاکھ 75 ہزار روپے خرچ ہوئے۔
مریم اورنگزیب کی جانب سے مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس ہیلی کاپٹر پر جون 2018 سے مارچ 2022 کے دوران کل 984 ملین یعنی 98 کروڑ خرچ ہوئے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال و مرمت پر 51 کروڑ اور فلائٹ کے دوران اخراجات پر 47 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
اب اگر ہم سالانہ بنیادوں پر دیکھیں تو مریم اورنگزیب کی جانب سے مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چار سال کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
2018 میں اگست میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اس برس دسمبر تک ہیلی کاپٹر کا خرچ تین کروڑ 70 لاکھ تک تھا اور کُل 289 گھنٹے پرواز کی گئی۔ سنہ 2019 میں تقریباً 742 گھنٹے پرواز پر 13 کروڑ 10 لاکھ خرچ آیا۔ سنہ 2020 میں کچھ گھنٹے کمی کے ساتھ پرواز کے گھنٹے 729 رہے جبکہ خرچہ 14 کروڑ 30 لاکھ ہوا۔ سنہ 2021 میں سفر کے اوقات بڑھ کر 800 گھنٹے ہوئے، اس برس خرچ کم رہا جو 12 کروڑ 30 لاکھ بتایا گیا ہے۔
رواں برس مارچ تک کے اعداد و شمار بھی بتائے گئے ہیں اور اس عرصے میں عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے 164 گھنٹے اس ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا اور اس پر ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
چار برسوں کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو بجٹ میں مخصوص رقم اس کے اخراجات کے لیے رکھی جاتی تھی۔
یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ عمران خان ہیلی کاپٹر پر سفر صرف بنی گالہ اور دفتر جانے کے لیے ہی نہیں کرتے تھے بلکہ پنجاب اور خیبرپختواخوا اور نور خان بیس کے لیے بھی کرتے تھے۔
اور بارش کی صورت میں وزرائے اعظم ہیلی کاپٹر کا سفر کسی صورت نہیں کرتے ہیں۔
حکومت نے خرچے کا حساب کہاں سے حاصل کیا؟
بی بی سی نے اس حوالے سے مریم اورنگزیب اور ایوی ایشن ڈویژن سے بھی بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
رابطہ کرنے پر وزیر برائے ہوا بازی اور ریلوے سعد رفیق نے بھی مریم اورنگزیب سے ہی رابطہ کرنے کو کہا لیکن اس تحریر کی اشاعت تک حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
’لطیفہ یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر کا کرایہ لگا رہے ہیں‘
اس خبر کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کی اور لکھا ’لطیفہ یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر کا کرایہ لگا رہے ہیں کہ اتنے گھنٹے کرائے کا ہیلی اڑے گا تو کتنا کرایہ ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک ماہر نے حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے سالانہ اخراجات کی شیٹ دیکھی اور کہا کہ ’جتنے گھنٹے پرواز کے بتائے گئے ہیں اس تناسب سے رقم لگ بھگ اتنی ہی بنتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہیلی کاپٹر میں استعمال ہونے والا ایندھن تھوڑا سا ہی مختلف ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز سے پہلے اسے فرض کیجیے کے آدھ گھنٹہ بھی سٹارٹ کیا جاتا ہے اور مینٹیننس کے الگ اخراجات ہوتے ہیں اس کی انسپیکشن کی جاتی ہے تو بات کروڑوں تک پہنچتی ہی ہے۔ ‘
2018 میں کیا ہوا تھا؟
عمران خان کا گھر بنی گالہ میں واقع ہے جو وزیرِ اعظم کے دفتر سے تقریباً 15 سے 16 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ فضائی اعتبار سے یہ فاصلہ 8 ناٹیکل میل بنتا ہے۔
بنی گالہ کے رہائشی وقت کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کی آواز اور گونج کے عادی ہو چکے تھے لیکن ابتدا میں شہر کی ٹریفک سے دور رہنے والی اس آبادی کے مکین اس پر نالاں بھی دکھائی دیے۔
اس ہیلی کاپٹر کا چرچا تب بنی گالہ سے باہر ہونے لگا تھا جب ان کے اپنے ایک ہمسائے نے سوشل میڈیا پر ان کے زیر استعمال ایک ہیلی کاپٹر کی ویڈیو شیئر کی تھی اور ساتھ لکھا تھا کہ آج کل یہ ہیلی کاپٹر بنی گالہ میں وزیراعظم کو لانے اور لے جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کو منتخب ہوئے کچھ ہی روز گزرے تھے اور اس وقت ٹوئٹر پر یہ بحث ہوئی کہ عمران خان تو کفایت شعاری کی مثال دیتے ہیں اور ہالینڈ کے وزیراعظم کی مثال دیتے ہیں جو سائیکل پر دفتر جاتے تھے تو پھر ہیلی کاپٹر کی مہنگی سواری کیوں لے رہے ہیں؟
لیکن اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہیلی کاپٹر کا خرچ 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر ہے۔‘
اس بیان کے بعد انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
عمران خان کا بطور وزیراعظم سفر
اس وقت بھی اگر آپ وہاں سے گزریں تو ان کے گھر جانے والے راستے پر سکیورٹی ہے۔ جب وہ وزیرِ اعظم تھے تب یہاں اضافی چوکی بھی تھی اور ان کے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی اس پورے راستے پر پیٹرولنگ بھی ہوتی تھی اور روٹ بھی لگ جاتا تھا۔
اسلام آباد ہیلی پورٹ پر موجود اہلکار کہتے ہیں کہ ’یہاں اندر ہیلی پیڈ پر سفید رنگ کے کچھ ہیلی کاپٹر ہیں۔ سب ایک ہی جیسے ہیں اور عمران خان بنی گالہ سے انہی میں سے ایک ہیلی کاپٹر میں آتے تھے اور پھر یہاں سے سکیورٹی کے ہمراہ تھوڑے فاصلے پر موجود وزیراعظم سکریٹریٹ جاتے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر ڈیوٹی دینے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عمران خان وزیراعظم تھے تو صبح 10 سے گیارہ بجے تک روز دفتر جاتے تھے اور شام چھے بجے تک ان کی واپسی ہوتی تھی۔‘
ان کے مطابق ’اپنے دور کے دوران ان کا ہمیشہ یہی معمول رہا۔ اب ہوتا یہ تھا کہ ان کی موومنٹ یعنی گھر سے نکلنے اور گھر واپسی سے 2 گھنٹے پہلے یہاں ڈیوٹی شروع ہو جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ ہیلی کاپٹر ہی استعمال کرتے تھے، ہاں جب موسم خراب ہوتا تھا تب وہ بذریعہ روڈ دفتر جاتے تھے۔‘
سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’ایسا صرف ایک بار ہوا کہ ہمیں زمینی روٹ اور فضائی دونوں کو کچھ دن کے لیے استعمال کرنا پڑا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’کوئی چھ ماہ پہلے ایسا ہوا تھا کہ کوئی تھریٹ آئی تھی جس کی وجہ سے عمران خان کے لیے زمینی روٹ بھی تیار کیا جاتا تھا اور ظاہر یہ کیا جاتا تھا کہ وہ نیچے گاڑی میں سفر کر رہے ہیں لیکن تب بھی وہ ہیلی کاپٹر میں ہی سوار ہوتے تھے۔‘
زمینی اور فضائی راستوں کے لیے سکیورٹی میں کیا فرق ہوتا تھا؟
اس سوال کے جواب میں سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’جب عمران خان فضائی راستہ استعمال کرتے تھے تو ہم یہاں بنی گالہ کی اونچی عمارتوں پر اپنے سکیورٹی اہلکار تعینات کرتے تھے جسے ہم ’فنل ایریا‘ کہتے ہیں اور زمینی روٹ کی سکیورٹی الگ ہوتی تھی۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب کبھی عمران خان کو زمینی سفر کرنا پڑتا تھا تو اس کے لیے روٹ لگانا لازمی ہوتا تھا اور وہ صورتحال زیادہ چیلنجنگ ہوتی تھی۔
سوشل میڈیا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پی پی پی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکر نے کہا کہ ’وزیراعظم نے جو ایسے وزرا اعظم کی مثالیں دیا کرتے تھے جو سائیکلیوں پر آفس جاتے ہیں، آفس جانے پر ایک ارب روپے خرچ کر دیے۔ ٹیکس دینے والوں کا پیسہ۔‘
صحافی زاہد گشکوری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’غریب عوام کو ریاست مدینہ کے وزیر اعظم عمران خان کو دفتر آنے جانے کے لیے تقریباً روزانہ نو لاکھ ادا کرنے پڑے۔ اگر وہ چاہتے تو یہ سفر پانچ ہزار میں کر سکتے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
لیکن ٹیپو نامی صارف نے زاہد کی ٹویٹ پر لکھا ’یہ کل پرواز کے اوقات ہیں صرف بنی گالہ سے پی ایم ہاؤس جانے کے نہیں۔ وہ پورے ملک میں ان ہیلی کاپٹروں پر گئے ہیں، یہ جھوٹا پراپیگنڈا کرنا بند کریں۔‘
فضل کاکڑ نے لکھا ’عمران خان نے 36 کروڑ کا پیٹرول خرچ کیا دفتر جانے کے لیے، یہ وہی شخصیت ہیں جو دفتر سائیکل پر جاتی تھی۔‘
ماریانہ بابر نے اس لاگت کو دیکھ کر سوال کیا کہ ’کوئی بھی وزیر اعظم کام کے لیے ایسے فضائی سفر کر کے نہیں پہنچے، وہ پی ایم ہاؤس میں رہے اور پی ایم آفس کام کے لیے جائے بنی گالہ کے بارے میں کیا خاص ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سوشل پرایا نامی اکاؤنٹ سے مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ’یہ ایکسل شیٹ ہے، اس کے کوئی شواہد مہیا نہیں کیے گئے۔‘
انھوں نے لکھا کہ 2726 گھنٹے بتائے گئے ہیں جو کہ روزانہ کی اوسط 2 گھنٹے بنتے ہیں تاہم بنی گالہ سے وزیراعظم کے دفتر کا فاصلہ 15 منٹ کا ہے۔










