عمران خان اور تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ: ’فوج کو کچھ مت کہیں، خان صاحب نے منع کیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
وزیر اعظم کی کرسی سے اتارے جانے کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار بیرونی سازش کو قراد دیا جس کے بعد انھوں کو عوام سے اپیل کی کہ اس سازش کے خلاف وہ گھروں سے باہر نکلیں۔ لاہور کے پاور شو میں بھی اس مطالبے کا تسلسل دیکھا گیا۔
مگر جہاں پشاور اور کراچی کے جلسوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی، مخالفین پر تنقید، کرپشن، بیرونی سازش اور ’امپورٹڈ‘ حکومت نامنظور کی بات کی تو وہیں، پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ان تمام باتوں کے علاوہ انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ آنے والے دنوں میں وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے سکتے ہیں۔
ببر شیر، چیتا، ہیرو۔۔۔ یہ وہ تمام القاب تھے جو جمعرات کو لاہور کے جلسے میں کئی کارکنان سے اس وقت سننے کو ملے جب سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر کر رہے تھے۔
جب میں جلسہ گاہ میں پہنچی تو تین جگہ سیکیورٹی کی جانب سے چیکنگ کی گئی اور یہی شاہد وہ وجہ بھی ہے کہ کئی لوگ لمبی قطاروں کے باعث جلسہ گاہ کے اندر نہ پہنچ پائے۔
مجھے احساس ہوا کہ یہاں لوگوں کا رش بہت زیادہ نہیں تھا جو پی ٹی آئی کے لاہور کے کسی بھی بڑے جلسے میں غیر معمولی بات ہے۔ تاہم جیسے ہی سٹیج سے اعلان کیا گیا کہ عمران خان جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں تو اسی وقت لوگوں نے سیکیورٹی کے لیے قائم کردہ رکاوٹیں ہٹا دیں اور اپنے کپتان کو دیکھنے کے لیے ان کے فینز جوق در جوق داخل ہونا شروع ہو گئے۔
کئی لڑکے خواتین کے انکلوژر میں داخل ہوئے جس کی وجہ سے بدمزگی بھی دیکھنے کو ملی۔ اس کے باوجود جلسے میں آنے والی ایک خاتون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان جب جب جہاں جہاں کی کال دے گا ہم وہاں جائیں گے۔‘

یہی نہیں بلکہ وہاں موجود تقریباً ہر خاتون کا یہ ماننا تھا کہ عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنانا ایک غلط اقدام ہے۔ عمران خان کے زیادہ تر سپوٹرز سے بات کرنے کے بات ایسا محسوس ہوا کہ وہ ہر اس بات اور بیانیے پر یقین رکھتے ہیں جو عمران خان ان تک پہنچا رہے ہیں۔
کئی لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے عدلیہ اور فوج پر بھی کڑی تنقید کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’یہ سب ملے ہوئے ہیں۔ رات کے بارہ بجے عدالتیں بھی کھل جاتی ہیں اور فیصلے بھی ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے پیچھے کون تھا؟‘
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ فوج بھی اس سب میں شامل تھی۔ باجوہ صاحب نے جو کیا، اس سے تو بہتر تھا کہ وہ کھل کر سامنے آتے اور لگاتے مارشل لا۔۔۔‘
یہ سب سننے کے بعد پاس کھڑے کچھ لوگوں نے کہا کہ ’فوج کو کچھ مت کہیں۔ خان صاحب نے منع کیا ہے۔‘ جس پر وہ دوبارہ بولی کہ ’کیوں نہ بولوں۔۔۔ انھیں بھی پتا چلنا چاہیے کہ عوام میں کتنا غصہ ہے ان کے لیے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ خاتون تنہا نہیں جو کھل کر اپنا مؤقف دینے کو تیار تھیں بلکہ ایسے خیالات کا اظہار کئی لوگوں نے کیا۔ تام ہم نے جو تبدیلی دیکھی وہ یہ تھی کہ عمران کے اس جملے کہ ’پاکستان کو مجھ سے زیادہ فوج کی ضرورت ہے‘ کے بعد لوگ اس بارے میں بات کرنے سے پہلے احتیاط کر رہے تھے۔ یعنی وہ اپنے لیڈر کی دی گئی ہدایت کو کچھ حد تک فالو کرنا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اس سلسلے میں افواہیں نہ پھیلائی جائیں اور نہ ہی غیر ضروری بحث کی جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے

جہاں بات اس جلسے کی ہو رہی ہے تو ایک سوال جو ہر کوئی بعد میں پوچھتا ہے وہ یہ ہے کہ جلسے میں شریک لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟
جب ہم نے یہ سوال شرکا کے سامنے رکھا تو ہر کوئی اپنی مرضی کا جواب دیتا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ لاکھوں کا مجمع تھا جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق یہ جلسہ ’فلاپ‘ تھا۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں کراچی کا جلسہ لاہور کے جلسے سے بڑا تھا۔ اس بارے میں بالکل درست نمبر تو نہیں بتایا جا سکتا لیکن جلسے میں لوگوں کی کثیر تعداد شامل تھی جن میں مردوں کی بڑی تعداد تھی اور ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ ایک تاریخی جلسہ ہو گا۔ تو یاد رہے کہ 2011 میں اسی مقام پر پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ کیا گیا تھا جسے آج بھی تاریخی جلسہ کہا جاتا ہے۔
مگر جمعرات کا جلسہ اس کے مقابلے میں اتنا تاریخی نہیں تھا۔













