لگژری اشیا پر پابندی اور آپ کے سوالات: ’میک اپ انڈسٹری میں اس وقت بلیک مارکیٹ چل رہی ہے‘

- مصنف, عمیر سلیمی اور حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے گذشتہ روز لگژری آئٹمز پر پابندی لگا دی ہے جن میں میک اپ بھی شامل ہے، میرا جملہ ابھی ادھورا تھا کہ ملک کے معروف بیوٹی پارلر کی ایک برانچ میں موجود منتظم نے مجھے کہا جی یہی تو مسئلہ بنا ہوا ہے، آج آپ شاید اس کا اندازہ نہیں لگا سکتیں لیکن میک اپ مارکیٹ اس وقت بلکل بلیک ہے اور وینڈر ہمیں کچھ نہیں دے رہے۔
سیمی خود ایک میک اپ آرٹسٹ بھی ہیں اور اسلام آباد میں سیلون کا تمام انتظام بھی ان کے پاس ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کورونا کی وبا کے دوران ہمیں پہلے ہی نقصان ہوا تھا، ابھی تو ہم صرف سیلون کی کوسٹنگ ہی پوری کر رہے تھے، ہمارے پاس سٹاک تو ہے ہی نہیں اور نہ ہی ہمارے ملک میں مینوفیکچرنگ ہے۔
صورتحال کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ریکا (ویکس) صبح سے کمپنیوں نے دینی ہی بند کر دی ہے۔ وینڈر پہلے اسے 2000 میں دے رہے تھے آج اگر کہیں اکا دکا مل رہی ہے تو وہ 2300 میں مارکیٹ بلیک ہو چکی ہے اور وینڈر اب آنے والے دنوں میں دام بڑھا کر اسے بیچیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ہم پارلر کا تمام سامان امپورٹ کرتے ہیں، معلوم نہیں اب کیا ہو گا، کل مارکیٹ جانا ہے اور دیکھنا ہے کہ معاملات کیسے چلیں گے۔
میک اپ انڈسٹری میں یہ بھونچال گذشتہ روز حکومت کی جانب سے غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کے بعد آیا ہے۔
میک اپ کے علاوہ جیسے موبائل فونز، پالتو جانوروں کا کھانا بھی ایسی اشیا میں شامل ہیں جن کے مقامی سطح پر مناسب متبادل نہیں اور اب ان اشیا کے مزید مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے ہنگامی‘ معاشی منصوبے کے تحت 38 ’غیر ضروری لگژری اشیا‘ کی درآمد پر پابندی لگائی ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کچھ سوالات کر رہے ہیں جن کے جواب ہم نے یہاں دینے کی کوشش کریں گے۔ میک انڈسری کی صورتحال تو ہم نے اوپر بیان کر دی اب چلتے ہیں کچھ اور سوالوں کی جانب۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا مقامی سطح پر اتنے موبائل فونز تیار ہو رہے ہیں؟
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق مارچ 2021 تک پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد قریب 18 کروڑ تھی۔ سال 2021 تک ملک میں قریب ڈھائی کروڑ موبائل فون مقامی سطح پر اسمبل کیے گئے تھے جبکہ ایک کروڑ فون درآمد کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ ملک میں اسمبل کیے جانے والے فونوں کی تعداد درآمد کیے جانے والے فونوں سے اب زیادہ ہے مگر کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کہتے ہیں کہ اب ابھی ملک میں بڑے پیمانے پر نئے اور پرانے سمارٹ فون درآمد کیے جاتے ہیں اور موبائل فون کی درآمد پر پابندی سے نہ صرف دکانداروں کو بلکہ صارفین کو بھی نقصان ہوگا کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد بڑھتی قیمتیں مزید ان کے پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں فون مینوفیکچر نہیں بلکہ اسمبل ہو رہے ہیں اور اس سے امپورٹ بل میں کوئی کمی نہیں آئی۔
رضوان عرفان کے مطابق موبائل فون کے پارٹس بنانا کوئی اتنا آسان کام نہیں، اس لیے زیادہ انحصار درآمد شدہ سمارٹ فون پر ہی کیا جاتا ہے، جس کے عوض صارفین بڑے پیمانے پر حکومت پاکستان کو ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق مالی سال 2020-21 کے دوران موبائل فونز پر جنرل سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں 179 ارب روپے ادا کیے گئے۔
انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں معیشت کے استاد صائم علی کے مطابق موبائل فون وہ چیز ہے جو عام آدمی بھی استعمال کرتا ہے۔
’ان کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ ان کی ڈیمانڈ تو ہے لیکن مقامی پیداوار اتنی نہیں ہے کہ وہ طلب کو پوری کر سکے۔‘
معاشی ماہر سمیع اللہ طارق کہتے ہیں کہ سی کے ڈی موبائلز پہے ہی مارکیٹ میں 90 فیصد ہیں اس لیے یہ باقی ماندہ مارکیٹ کو بھی کور کر لیں گے۔
کیا اب پالتو جانوروں یعنی کتوں اور بلیوں کے کھانے کی قلت پیدا ہوجائے گی؟
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کئی لوگوں نے عموماً کتے یا بلیاں، پال رکھے ہیں اور وہ انھیں اپنے گھر کا ایک فرد ہی تصویر کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جانوروں کی امپورٹڈ خوراک پر پابندی کے فیصلے پر عروج فاطمہ پوچھتی ہیں کہ ’پیٹ فوڈ کوئی لگژری کیسے ہے؟ یہ تو ضرورت ہے۔‘ ان سمیت ریسکیو ہوم اور اینیمل شیلٹر چلانے والے کئی افراد نے اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔
وٹنری ڈاکٹر محمد اویس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر ایک کتے میں کڈنی فیلیئر، جلد کی الرجی یا جگر کے مسائل ہیں تو ان کے لیے خاص خوراک دستیاب ہوتی ہے۔ یہ کھانا شروع سے کافی مہنگا رہا ہے۔ پہلے اس کی قیمت اتنی ہوا کرتی تھی کہ صارفین اسے خرید سکتے تھے مگر اب اس کی قلت پیدا ہوجائے گی۔‘
ان کے خیال میں اس پابندی کے بعد جانور رکھنے والے افراد خوراک کی ذخیرہ اندوزی کریں گے جس سے مزید قلت پیدا ہوگی یا متبادل کے طور پر مقامی کمپنیوں کی تیار کردہ خوراک استعمال کریں گے جس پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی کہ آیا وہ جانوروں کے لیے واقعی فائدہ مند ہے۔
’بہت سے لوگوں کو تشویش ہے کہ اب ہمارا پالتو جانور کیا کھائے گا۔ اب متبادل یہ ہے کہ آپ اپنے کتوں اور بلیوں کو گھر میں تیار کردہ کھانے دے سکتے ہیں، جیسے کتوں کے لیے چکن اور چاول اور بلیوں کے لیے چکن۔‘
ڈاکٹر اویس نے بتایا کہ بہت سے لوگ اب لوکل کمپنیوں سے کھانے خریدیں گے حتی کہ ماضی میں کئی بار ایسی خوراک سے جانوروں میں مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں جن پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی بیماریوں جن کا علاج صرف بہتر خوراک سے کیا جاسکتا ہے، اب اس کی جگہ ادویات پر انحصار کرنا پڑے گا جس سے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
گاڑیوں کی مقامی صنعت کو کیا اس پابندی سے فائدہ ہوگا؟
مشہود خان آٹو سیکٹر کے ماہر ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ حکومت نے جو پالیسی کا اعلان کیا ہے تو سابقہ حکومت نے بھی امپورٹڈ آئٹمز پر پابندی لگائی تھی اس سے فارن ریزرو کو کنٹرول کیا جاتا ہے، عام مصنوعات کے لیے فنڈ نہ ہوں تو ایسے میں لگژری اشیا پر پابندی ہی لگتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے جو گاڑیوں کی انڈسٹری میں سی بی یو پر پابندی لگی ہے وہ ان لگژری گاڑیوں پر لگی ہے جو پاکستان میں اسمبل نہیں ہو رہیں، جو نئے پلئیر آئے ہیں انھوں نے اپنے اسمبلی پلانٹس لگائے ہیں اور وقت کے ساتھ وہ خود میں بہتری لائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اس پابندی کا ٹائم فریم کیا ہے ایک سال یا ایک مہینہ، اس سے معیشت پر کیا بہتری آئے گی۔‘
عباسی اینڈ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ میں ریسرچ کے شعبے کے سربراہ فواد نوید کہتے ہیں کہ ’موبائل اور گاڑیوں کے مکمل طور پر بِلڈ یونٹس ہوتے ہیں، ان پر مکمل پابندی لگی ہے۔ اور جو ناک ڈاؤن ہیں ان کی امپورٹ پر بھی کہا گیا ہے کہ نصف پابندی لگے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ ان کو کوئی فائدہ ہو گا کیونکہ یہی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں جیسے ہنڈا اور ٹویوٹا سوزوکی اور بھی بہت آ گئی ہیں جیسے ’کِیا‘ ہے، ان کو تو نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ جیسے سی کے ڈی یونٹس ہیں ان کی امپورٹ کم ہو گی تو ان کے سپیئر پارٹ جو ہم امپورٹ کر رہے ہیں تو ان کی امپورٹ کم ہو گی تو ان کی اسمبلنگ جو مکمل یونٹ یہاں بن رہے ہیں وہ کم ہو رہی ہیں تو کمپنی کی سیل کم ہو گی۔ تو ان کو فائدہ نہیں ہو گا۔
’جہاں تک موبائل کی بات ہے تو میرا نہیں خیال اتنا اثر ہو گا۔ ائیر لنک کمپنی ہے اس نے چند دن پہلے ہی شروع کیا ہے زیادہ تر ڈیمانڈ تو امپورٹڈ سے ہی پوری ہوتی ہے۔
جن مصنوعات پر پابندی لگی کیا ان کا مقامی طور پر متبادل ہے؟
فواد نوید کہتے ہیں کہ کیونکہ جن بھی چیزوں پر پابندی لگی ہے ان کے سپیئر پارٹس کی امپورٹ پر پابندی نہیں لگی۔ اپلائسنز پر پابندی لگی ہے، ان کے سپیئر پارٹ امپورٹ ہو سکتے ہیں بہت سی کمپنیاں ان کو مقامی طور پر تیار کر رہی ہیں۔
تاہم ان کے خیال میں ‘زیادہ تر موبائل فون کے بِلٹ یونٹس باہر سے ہی آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سابق وزیر حماد اظہر نے اقدام پر کہا کہ حکومت نے جن اشیاکی درآمد پر پاپندی لگائی وہ مجموعی درآمدات کا صرف %1.5 حصہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے مصنوعی اقدامات سے معیشت نہیں سنبھلتی۔موجودہ بحران کے وجہ منڈیوں کا اِس حکومت پر عدم اعتماد ہے۔
خیال رہے کہ اس وقت حکومت نے 41 مصنوعات پر پابندی لگائی ہے۔
فواد نوید کہتے ہیں کہ اس کے اثرات کو دیکھیں تو `ابھی تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بارہ سے تیرہ بلین تک ہے لیکن اگر آپ نان آئل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بات کریں تو وہ صرف ایک بلین ڈالر کا ہے۔ اس کا مطلب ہے سب سے زیادہ بیلنس پیٹرولیم مصنوعات پیمنٹ کی وجہ سے ڈسٹرب ہو رہا ہے۔ اب اگر آپ اس پر پابندی لگاتے ہیں تو اس سے بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔ ‘
’جب تک تیل کی قیمتیں کم نہیں ہو گی خسارہ اسی طریقے سے رہے گا۔‘
سمیع اللہ طارق کہتے ہیں کہ ہمارا ہر مہینے امپورٹ کا بل چھ اعشاریہ پانچ سے سات بلین ڈالر ہے اور ہم نے ابھی 400 ملین ڈالر کی اضافی ایل این جی امپورٹ کی ہے۔
مشہود خان کہتے ہیں کہ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے جو لسٹ دی ہے اس پر کب تک پابندی رہے گی اور کیا اس لسٹ میں اضافہ ہو گا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ٹیکنالوجی کی ٹرانسفر اور لوکل انڈسٹری کے لیے سہولت فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔








