شہباز حکومت کو چیلنج کرتے مشکل فیصلے اور ان کے عوام پر ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPMLN
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان میں گذشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی سربراہی میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو سیاسی محاذ کے ساتھ معاشی میدان میں اس وقت مشکلات حالات کا سامنا ہے جس میں خاص کر مہنگائی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جن کا بوجھ ابھی تک مقامی طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا تاہم اس کے نتیجے میں ملک کا بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے کیونکہ حکومت کو تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے خزانے سے سبسڈی کی صورت میں ماہانہ بنیادوں پر اربوں روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے اتحادی اب تک مشکل معاشی فیصلوں پر گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ وزیر اعظم کی اپنی کابینہ کے اراکین کے ساتھ لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد بھی کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی کہ حکومت معیشت کے شعبے میں کیا فیصلے کرنے جا رہی ہے۔
حکومت کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی فنڈنگ کا ہے جو ابھی تک کسی ذریعے سے نہیں ملی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے تیل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کی شرط رکھی ہے جب کہ سعودی عرب سے وزیر اعظم کے دورے کے باوجود کوئی فنڈنگ ابھی تک پاکستان کو نہیں ملی۔
پاکستان میں معیشت اور سیاست کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت سخت معاشی فیصلوں سے کترا رہی ہے جس کا مقصد عوام پر پڑنے والے بوجھ کی صورت میں عوامی غیض و غضب سے بچنا ہے تاہم ان کے مطابق اس کی وجہ سے ملک کو معاشی طور پر بے پناہ نقصان ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ایسا کوئی جواز نہیں کہ وہ اس ساری صورتحال کا الزام سابقہ حکومت پر ڈالے کیوںکہ خراب معاشی صورتحال کے باوجود عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے سے پہلے سیاسی قیادت کو معلوم تھا کہ معاشی حالات مشکل ہیں اور اس کے لیے سخت فیصلے لینے پڑیں گے۔
حکومت کو کون سے مشکل معاشی فیصلوں کی ضرورت ہے؟
موجودہ حکومت کو اقتدار منتقل آئے ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور پہلے دن سے سب سے بڑا معاشی چیلینج تیل مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2022 کو ملک میں تیل و بجلی کی قیمتوں کو ایک خاص سطح پر منجمد کر دیا تھا اور ان کے اعلان کے مطابق اگلے مالی سال کے بجٹ تک تیل و بجلی کی قیمتیں اس خاص سطح تک برقرار رہیں گی۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد تیل کی قیمتوں پر نظرثانی کے تین مواقع پر قیمتوں کو تحریکِ انصاف کے دور کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا تاہم اس فیصلے کی قیمت اربوں روپے کی سبسڈی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو مارچ کے مہینے میں 33 ارب سے زائد کی سبسڈی، اپریل میں 60 ارب اور مئی کے مہینے میں دی جانے سبسڈی کا تخمینہ 118 ارب لگایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اشفاق تولہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت کو درپیش سب سے بڑا معاشی فیصلہ تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کا ہے۔ انھوں نے کہا ’یہ فیصلہ (قیمتیں بڑھانے کا) لینا پڑے گا کیونکہ اس سے خسارہ بڑھ رہا ہے۔‘
تولہ نے کہا حکومت اس سلسلے میں ڈائریکٹ سبسڈی دے اور اِن ڈائریکٹ سبسڈی کا سلسلہ بند کرے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گا تاہم اس کے لیے حکومت کاروباری اداروں کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں مداوا کر سکتی پے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا اسی طرح احساس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی دی جانے والی امدادی رقم کو بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے ہونے والی مہنگائی کے اثر کو زائل کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا آئی ایم ایف یہ دیکھتا ہے کہ آپ کو سبسڈی دے رہے ہیں اور اس کے لیے مطلوبہ فنانسنگ موجود ہے، اگر نہیں ہے تو یہ ملک کے بجٹ میں پرائمری خسارے کا باعث بنتا ہے۔
انھوں نے کہا اسی طرح صوبوں خاص کر پنجاب اور سندھ سے این ایف سی ایوارڈ سے کم رقم لینے کا کہا جائے تاکہ اس خسارے کا کم جا سکے۔
ڈاکٹر تولہ نے کہا حکومت کو تیل مصنوعات کی قیمتوں بڑھانے کا فیصلہ کرنا ہو گا کیونکہ اسی صورت پاکستان کو آئی ایم ایف سے پیسے مل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا اگر آئی ایم سے پیسے مل جاتے ہیں تو پھر مقامی طور پر فیصلے لینے ہوں گے جس میں مہنگائی کم کرنے کے لیے پرائس کنٹرول میکنزم بنانا ہو گا کیونکہ اس کے بغیر مہنگائی کم نہیں کی جا سکتی۔
اشفاق تولہ نے کہا درآمدات پر بھی کنٹرول کرنے کے سخت فیصلے لینے ہوں گے خاص کر درآمدی گاڑیوں پر پابندی لگانا ہو گی جیسا کہ سی بی یو اور سی کے ڈی پر کم ازکم بجٹ تک پابندی لگا دی جائے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ نے بتایا کہ سخت فیصلے تو لینے ہوں گے لیکن لگتا ہے کہ یہ حکومت اس سلسلے میں غیر سنجیدہ ہے اور حالات کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔
انھوں نے کہا اگر آئی ایم ایف سے پیسے نہیں ملتے تو ملک کی معیشت نہیں چلے گی اسی طرح دوست ممالک سے بھی پاکستان کو مالی معاونت دینے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ انھوں نے کہا حکومت کو عوام کو بتانا چاہیے کہ معاشی حقائق کیا ہیں ورنہ ملک اقتصادی طور پر ڈوب جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اعتماد میں لیا جائے جیسا کہ تیل و بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔
حکومت کیا کہہ رہی ہے؟
ان سوالات کا کسی حد تک جواب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

تیل کی قیمتوں پر انھوں نے کہا کہ فی الحال حکومت کسی قسم کا اضافہ نہیں کرے گی حالانکہ ان کے مطابق ’گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے اٹھارہ تاریخ کو قطر میں مزاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ میں آئی ایم ایف سے بات کروں گا کہ کچھ بیچ کا راستہ نکالا جائے۔ ہم عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔‘
مفتاح اسماعیل کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جائے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مستقبل میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر بین الاقوامی منڈی میں قیمت کم نہیں ہوئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ حالات کیا ہیں۔ ہم آئی ایم ایف سے مل کر معاملات خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔‘
دوست ممالک سے امداد کے سوال پر انھوں نے جواب دیا تھا کہ دورہ سعودی عرب میں ڈیپازٹ میں توسیع اور اور سو ملین ڈالر آئل لائن کی ایکسٹینشن پر بات ہوئی اور ’مثبت بات ہوئی۔ متحدہ عرب امارات سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ کسی نے منع نہیں کیا، بات چل رہی ہے، کچھ وقت لگتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سخت معاشی فیصلوں کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟
حکومت کی جانب سے اگر سخت فیصلے لیے جاتے ہیں تو اس کے لوگو ں پر اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تولہ نے کہا اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح میں دو سے تین فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہر معاشی امور ڈاکٹر حزیمہ بخاری نے اس سلسلے میں بتایا کہ سخت معاشی فیصلوں کا براہِ راست اثر عوام پر مہنگائی میں اضافے کی صورت میں پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ سخت فیصلے لینے سے مہنگائی کی شرح میں ایک سے دو فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا اس وقت حکومت جو کر رہی ہے وہ عوامی رد عمل سے بچنے کے لیے کر رہی ہے۔
ڈاکٹر حزیمہ نے کہا اصل مسئلہ پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے کہ جس کے بغیر معیشت نہیں سدھر سکتی۔
ڈاکٹر عالیہ نے کہا اس حکومت کا سابقہ حکومت کے حوالے سے یہ الزام مکمل طور پر درست نہیں کہ سابقہ حکومت نے معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ انھوں میں کہا مہنگائی بھی تھی جس کی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں تاہم حکومت بیرونی ذرائع سے فنڈنگ لینے کے انتظامات بھی کر رہی تھی اور سسٹم کو چلا رہی تھی۔
تاہم انھوں نے کہا اس وقت موجودہ حکومت وقت ضائع کر رہی ہے اور کوئی فیصلہ نہیں لے پا رہی جس کہ وجہ سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
انھوں نے کہا موجودہ حکومت اس وقت غیر سنجیدہ ہے کیونکہ اگر اسے فیصلہ لینا ہے تو ابھی لے، ورنہ تاخیر سے لیے گئے فیصلوں کو معیشت اور عوام پر بہت منفی اثر ہو گا۔
سخت معاشی فیصلوں کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے؟
موجودہ حکومت کی جانب سے سخت معاشی فیصلوں کی صورت میں اس کے لیے سیاسی طور پر مسائل پر بات کرتے ہوئے سیاسی امور کے تجزیہ کار مظہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملکی معیشت کو سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے اور کہیں خدا نخواستہ ملک دیوالیہ نہ ہو جائے۔
انھوں نے کہا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی پوزیشن کا ہے۔ ’اگر حکومت سخت معاشی فیصلے کرتی ہے اور عوام سے قربانی دینے کا کہتی ہے تو عوام پوچھے گی کہ آپ کئی عشروں سے حکومت کر رہے ہیں اور آپ کی دولت میں اضافہ ہوا ہے جب کہ عوام کی حالت خراب ہوئی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی یہی اخلاقی کمزوری اس کے معاشی فیصلوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
مظہر عباس نے کہا کہ ان کی شروع دن سے رائے تھی کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد تحریک کا عمران کو کم نقصان اور موجودہ حکومت میں شاملِ جماعتوں کو زیادہ ہو گا۔ تاہم ان جماعتوں کے بقول اگر عمران خان کو ایک سال مزید مل جاتا تو وہ ایسے قوانین پاس کروا لیتے جس میں وہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیتے۔
مظہر عباس کے مطابق حزب اقتدار کی موجودہ جماعتوں نے نہیں سوچا کہ عدم اعتماد کے عمران خان کو زیادہ عوامی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اگر وہ زیادہ اکثریت سے آتے ہیں تو ان کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔
مظہر عںاس نے کہا کہ درحقیقت حکومت پھنس گئی ہے اور نواز لیگ کا یہ کہنا کہ وہ ’عمران کے پھیلائے ہوئے گند کا ٹوکرا کیوں اٹھائے‘ کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ اب انھوں نے حکومت سنبھالی ہے تو انھیں یہ ’ٹوکرا‘ بھی سنبھالنا پڑے گا۔












