صوبہ سندھ میں پانی کی شدید کمی: ’ہمیں تو عملی طور پر قحط سالی کا سامنا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAzizulah Dero
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’سو ایکڑ میں سے کچھ رقبے پر میں نے کپاس لگائی تھی۔ پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ کپاس جل چکی ہے۔ اب سارا رقبہ خالی پڑا ہے۔ پانی ہی نہیں ہے کہ ہم اپنے رقبے کو آباد کرسکیں‘۔
یہ کہنا ہے صوبہ سندھ کے ضلع بدین کے زمیندار لالہ اللہ نواز شیخ کا۔
لالہ اللہ نواز شیخ کہتے ہیں کہ ’ہم پانی کے مسائل سے دوچار ہیں مگر یہ سال تو پانی کی قلت کی وجہ سے بدترین رہا ہے۔ ہمیں تو عملی طور پر قحط سالی کا سامنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’کبھی ہمارے بچے شہروں کے سکول میں پڑھتے تھے۔ اب ہم نے ان کو واپس بلا لیا ہے کیونکہ ہمارے پاس ان کی فیسیں اور اخراجات ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اب وہ گاؤں ہی کے سکول میں پڑھتے ہیں۔ کبھی ہم چاروں بھائی مل کر اپنی ہی زمین پر کام کرتے تھے۔ اب میرے تین بھائی شہر میں محنت مزدوری کرنے گئے ہیں۔‘
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق اس وقت پورا ملک ہی کسی نہ کسی حد تک پانی کی قلت کا شکار ہے۔ سندھ میں یہ قلت 50 فیصد تک ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں یہ قلت 70 فیصد تک ہے۔
عزیز اللہ ڈیرو ٹیل آبادگار ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘ویسے تو پانی کا مسئلہ پورے سندھ کا ہے۔ سندھ کو اس کا جائز حق نہیں مل رہا ہے مگر اس وقت کوٹری بیراج سے منسلک اضلاع میں تو عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ زیر زمین پانی کڑوا اور زہریلا ہوچکا ہے۔ ربیع کی زیادہ تر فصلیں خراب ہوچکی ہیں جبکہ مال مویشی کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAzizulah Dero
’لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں‘
عزیز اللہ ڈیرو کہتے ہیں کہ دریائے سندھ پر انحصار کرنے والے آخری اضلاع سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ‘زمنیں خالی پڑی ہیں، کسانوں اور زمینداروں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ مجبور ہو کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں کہ وہاں پر محنت مزدور کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اضلاع میں کسی زمانے میں کیکر کا درخت لگا کرتا تھا۔ ‘جب کبھی پانی کی قلت زیادہ ہوتی، کسان اور زمینداروں کو فصل میں کوئی نقصان وغیرہ ہوتا تو وہ کیکر کو کاٹ کر اپنی گزر بسر کر لیا کرتے تھے۔ مگر گذشتہ پانچ سالوں اور خاص طور پر اس سال تو کیکر کے درخت بھی نہیں ہیں کیونکہ زمین بالکل خشک ہوچکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لالہ اللہ نواز شیخ کہتے ہیں کہ ’ہمارے مال مویشی بھی مر رہے ہیں۔ ہم اپنے مویشیوں کو زہریلا زیر زمین اور گندا پانی پلانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کسی زمانے میں ہماری بھینس کی قیمت 10 لاکھ روپے ہوا کرتی تھی۔ اب اس کو کوئی دو لاکھ میں بھی نہیں لیتا۔ ہماری بکری کبھی ہاتھوں ہاتھ تیس ہزار کی فروخت ہوا کرتی تھی۔ اب کوئی پانچ ہزار بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAzizulah Dero
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ اور اپریل میں بارشوں کی ریکارڈ اوسط تاریخی طور پر کم رہی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان خشک سالی کے دور سے گزر رہا ہے۔
پانی اور ماحولیات کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ پانی کی قلت کا ایک سبب خشک سالی ہے تو دوسرا اہم سبب پانی کی تقسیم کا طریقہ کار اور تعمیر کی گئی نہروں کا ڈھانچہ ٹھیک نہ ہونا اور جدید طریقے اختیار نہ کرنا ہے۔
پانی کی قلت کی وجہ
ارسا کے مطابق اس وقت ملک بھر میں پانی کے ذرائع دریاؤں اورڈیموں میں اوسط توقع سے مجموعی قلت 38 فیصد ہے جس میں دریائے سندھ اور تربیلا ڈیم میں 13 فیصد، دریائے کابل میں 46 فیصد، دریائے جہلم اور منگلا ڈیم میں 44 فیصد، دریائے چناب میں 48 فیصد اور دیگر ذرائع میں یہ کمی 66 فیصد ہے۔
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں اس میں شک نہیں کہ یہ سال خشک سالی اور برف باری کے حوالے سے بدترین رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ میں اس وقت جو زراعت ہے یہ مکمل طور پر دریائے سندھ کی مرہونِ منت ہے۔ یہ کوئی آج کا نہیں بلکہ کئی سو سالوں کا معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مارچ، اپریل اور مئی کے آغاز میں پانی کا زیادہ انحصار برفباری پر ہوتا ہے۔ گلیشیئر پر موجود برف کا مئی کے بعد پگھلنا اور اس کا پانی دریاوں میں شامل ہونا شروع ہوتا ہے۔ اب ہوا یہ کہ سردیوں میں کم بارشیں ہوئیں اور برفباری بھی ریکارڈ کم ہوئی۔ جس کی وجہ سے مارچ اور اپریل میں پانی کم رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAzizulah Dero
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ دریائے سندھ اور دوسرے دریاؤں پر ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں۔ ’ان کا قدرتی بہاؤ روک لیا گیا ہے یا متاثر ہو گیا ہے اور اس کا اثر بھی سندھ پر پڑتا ہے۔ اب پانی تقسیم کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا جاتا کہ سندھ کو کس وقت پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
پانی کی تقسیم کا طریقہ کار
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ سندھ کے موسم پنجاب سے ایک ماہ آگے ہیں۔ یعنی سندھ میں پنجاب سے ایک ماہ پہلے گرمیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے جس وجہ سے ربیع کا سیزن بھی پہلے شروع ہوتا ہے۔ جس وقت پنجاب میں گندم کاشت کی جا رہی ہوتی ہے اس وقت سندھ میں گندم کی کٹائی کا وقت ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAzizulah Dero
ڈاکٹر حسن عباس کہتے ہیں کہ سندھ کو عموماً مارچ اور اپریل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت سندھ کو پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ پانی کی یہ فراہمی سندھ کو مئی، جون میں شرو ع ہوتی ہے۔ اب اس میں بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ پانی پہلے پنجاب کو فراہم کیا جاتا ہے بعد میں سندھ کو دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سندھ کی فصلیں پانی کی قلت کے سبب خراب ہو رہی ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ اس سال تو سندھ میں پانی کی قلت شاید تاریخی ہے۔ جس سے کھڑی فصلیں خراب ہوچکی ہیں۔ زمین کو نئی فصلوں کے لیے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسان اور زمیندار پانی کی قلت کے بارے میں آواز اٹھاتے رہے لیکن ان کی آواز کسی نے بھی نہیں سنی ہے۔







