آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آئزک سیمسن: دس برس قبل کراچی سے ’اغوا‘ ہونے والے مسیحی نوجوان کو آسمان کھا گیا یہ زمین نِگل گئی؟
- مصنف, نعیم اکبر
- عہدہ, صحافی
‘دس سال ہو گئے ہیں، آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں چلا، میں روز اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہوں۔ رات ہوتی ہے تو میں سوچتی ہوں کہ شاید وہ آج رات آ جائے گا۔ دن کا اجالا ہوتا ہے تو میں کہتی ہوں شاید آج دن میں کہیں سے آ جائے گا۔‘
‘لیکن جب (آئزک) نہیں آتا تو میں اپنے خداوند کے حضور بیٹھ جاتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ خداوند (وہ) جہاں پر بھی ہے تو اسے جلد واپس لے آ۔ میری حکومت سے بھی اپیل ہے کہ وہ میرے بیٹے کو جلد رہا کرنے میں مدد کرے۔‘
کراچی سے تعلق رکھنے والے مسیحی نوجوان آئزک سیمسن کی 58 سالہ والدہ سریہ یونس نے آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بیٹے کے ‘اغوا' اور گذشتہ دس برسوں سے اُس کی واپسی کی امید کی کہانی کچھ اس طرح بیان کرنی شروع کی۔
آئزک کے ’اغوا‘ کا معمہ
یہ 29 فروری 2012 کی ایک خُنک صبح تھی جب آئزک کراچی کے علاقے محمود آباد میں واقع اپنے گھر سے آفس کے لیے نکلے تھے۔
وہ اورنگی ٹاون میں قائم ایک نجی ہاسپٹل میں بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتے تھے۔ اس ہسپتال کو ساؤتھ کوریا کی ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم گذشتہ 30 سال سے شہر کے اس متوسط علاقے میں چلا رہی ہے۔
آئزک کے ساتھ تین اور ملازمین دفتر کی گاڑی میں ہسپتال جا رہے تھے جب ایک سفید رنگ کی کرولا کار نے اُن کی گاڑی کو زبردستی روکا۔
کار میں سے چار مسلح افراد نکلے۔ وہ آئزک سیمسن اور گاڑی میں سوار اُن کے ساتھی اندریاس جاوید کو مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے جبکہ اُن کے تیسرے ساتھی (میل نرس) آسٹن جان اور ڈرائیور ناصر مسیح کو وہیں چھوڑ دیا گیا۔
آئزک کے والد یونس صادق بتاتے ہیں کہ ‘بعد میں ڈرائیور ناصر مسیح نے پولیس کو بیان دیا کہ اغوا کاروں نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کورین شہری کون ہے؟ ہم نے بتایا کہ ہم میں سے کوئی بھی کورین نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ آئزک اور اندریاس کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ‘واقعہ کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے ہمیں یقین دہانی کروائی کہ ہم پریشان نہ ہوں بلکہ اگر کوئی شخص فون کر کے آئزک کی رہائی کے عوض تاوان کامطالبہ کرے تو ہمیں آگاہ کریں، ہم پیسے ادا کریں گے۔‘
جاوید کی واپسی
لاپتہ ہونے کے 37 دن بعد اندریاس جاوید اچانک اپنے گھر واپس لوٹ آئے۔
جاوید نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ ‘اغواکاروں نے ہمیں بتایا تھا کہ اُن کی ہسپتال انتظامیہ سے تاوان کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ وہ (اغواکار) کہہ رہے تھے کہ اگر انھیں آٹھ، دس لاکھ تاوان مل جائے تو وہ ہمیں رہا کر دیں گے۔ لیکن ایک روز جب ہمیں کسی اور جگہ منتقل کیا جا رہا تھا تو میں موقع پا کر ٹرک سے کود کر بھاگ نکلا۔‘
کچھ عرصے بعد جاوید اچانک خاموشی سے اپنے بیوی بچوں سمیت سری لنکا جا پہنچے۔ جہاں اس خاندان نے ‘پناہ‘ کی درخواست دے دی۔
‘واحد مسیحی مِسنگ پرسن‘
آئزک سیمسن کی منگنی اُن کے لاپتہ ہونے سے فقط دو ماہ قبل یعنی دسمبر 2011 میں ان کے ساتھ ہسپتال میں کام کرنے والی ایک جواں سالہ نرس سے ہوئی تھی۔
جب کئی مہینوں تک اُن کی خیریت کی کوئی خبر نہ ملی تو آئزک کے والدین نے لڑکی کے گھر والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی اور شخص سے کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح دو سال بعد آئزک کی منگیتر کسی اور کے گھر دلہن بن کر چلی گئیں۔
بلآخر آئزک کے والدین نے سندھ ہائی کورٹ میں ‘مسنگ پرسن‘ کا کیس دائر کر دیا۔
ہائیکورٹ میں سینکڑوں ایسے مسلمان مسنگ پرسنز کے کیسز پہلے سے ہی زیرالتوا ہیں تاہم آئزک واحد ‘مسیحی مسنگ پرسن‘ تھے۔
ان کے والد یونس صادق نے افسردہ لہجے میں بتایا کہ ‘آٹھ سال تک ہمارا کیس ہائی کورٹ میں چلتا رہا جس کے دوران عدالت نے درجنوں بار قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئزک سیمسن کی بازیابی کے لیے ہدایات اور احکامات جاری کیے۔ ایک جے آئی ٹی بھی بنی لیکن عدالتیں کچھ نہ کر پائیں۔‘
یونس کا کہنا ہے کہ ‘ہمارا بیٹا ایک نیک شخص تھا۔ وہ نوکری سے واپس آ کرشام کو بائبل کی تعلیم لینے علاقے کے ایک مسیحی دینی ادارے میں جاتا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا تھا کہ اس کے ہسپتال میں ایک جگہ مخصوص کی گئی ہے جہاں صبح اور شام کے اوقات میں کورین افسران اور ڈاکٹرز باقاعدگی سے عبادات کیا کرتے تھے۔۔۔‘
علی شیر جاکھرانی اس وقت سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (لیگل) تھے اور آئزک کی بازیابی کے حوالے سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہائیکورٹ کو آگاہ کرتے تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘شروع میں یہ بات سُنی گئی تھی کہ آئزک سیمسن کے اغوا کی ممکنہ وجہ ہسپتال میں مذہبی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ تو میں نے تمام اداروں سے رپورٹس منگوائیں لیکن کسی بھی ادارے نے اس حوالے سے کوئی شواہد ملنے کی بات نہیں کی۔‘
اس نجی ہسپتال کے جنرل منیجر میکس جیمز نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘میں آئزک اور اندریاس کے اغوا ہونے کے دو سے ڈھائی ماہ بعد اس عہدے پر آیا۔ اس سے پہلے یہاں کیا ہو رہا تھا مجھے نہیں پتہ۔‘
تاہم انھوں نے بتایا کہ ‘ان دو افراد کے اغوا سے ایک سال قبل ہسپتال کے ایک کورین انتظامی افسر پر فائرنگ کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس میں وہ خوش نصیبی سے زندہ تو بچ گئے تھے لیکن اس واقعے کے بعد وہ کوریا واپس چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20کے تحت غیرمسلموں کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ نہ صرف آزادانہ طور پر اپنی عبادت گاہوں میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادات کر سکتے ہیں بلکہ ان کی تبلیغ و ترویج بھی کر سکتے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘پاکستان کے آئین کے تحت ہر غیر مسلم کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کر سکتے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے یہ واضح کیا کہ ‘وہ یہ تبلیغ صرف اپنے مذاہب کے لوگوں کو کر سکتے ہیں۔ کسی مسلمان کو کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔‘
یہ بھی پڑھیے
یونس صادق الزام عائد کرتے ہیں کہ آٹھ سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران محض کاغذی کارروائی کرتے رہے اور بالآخر ہائیکورٹ نے ان کے بیٹے کی گمشدگی کا کیس بغیر اس کو بازیاب کرائے ہی نمٹا دیا۔
اور اس طرح بوڑھے والدین کے لیے آئزک کے زندہ ہونے کی امید لگ بھگ ختم ہو چلی تھی۔
لیکن پھر اچانک ایک دن لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم سماجی کارکن آمنہ جنجوعہ نے ان سے رابطہ کر کے آئزک سیمسن کی بازیابی کا کیس حکومت کی جانب سے قائم لاپتہ افراد کی بازیابی کے کمیشن میں دائر کیا۔
یونس صادق یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ‘کمیشن میں جب کیس لگا تو چند سینیئر پولیس افسران نے مجھے مشورہ دیا کہ پہلے میں پولیس کے پاس اپنے بیٹے کے اغوا کا مقدمہ درج کراؤں۔ لیکن جب میں نے سولجر بازار تھانے (کراچی) میں مقدمہ درج کروا دیا تو انہی پولیس افسران نے بعد میں کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ چونکہ آئزک سیمسن کے اغوا کا مقدمہ پولیس نے درج کر لیا ہے، لہٰذا اب یہ معاملہ ‘لاپتہ‘ کے بجائے اغوا کے زمرے میں آتا ہے اور کمیشن اس معاملے کو نہیں سُن سکتا۔‘
یوں ہائی کورٹ کے بعد حکومتی کمیشن نے بھی آئزک سیمسن کو بازیاب کروائے بغیر ہی کیس خارج کر دیا۔
امید اب بھی قائم ہے
یہ اتوار کا دن ہے اور کراچی کے سینٹرل بروکس میموریل چرچ میں آئزک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔
ان کے گھر والے، رشتہ دار اور دوست احباب تو سلامتی کی اس خصوصی میں شامل ہیں لیکن آئزک کی جگہ ان کی ایک بڑی سی تصویر رکھی ہے۔
یونس صادق کہتے ہیں کہ ‘پہلے ہم نے دن رات ایک کر دیا اور پولیس کے پیچھے لگے رہے کہ وہ ہمارے بیٹے کو ڈھونڈیں۔ لیکن بعد میں ہم نے چرچ کی انتظامیہ اور رشتہ داروں کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔ کراچی پریس کلب کے باہر ہم نے گذشتہ دس برسوں میں سینکڑوں مظاہرے کیے ہیں لیکن تاحال کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘
چرچ میں عبادت ختم ہوتے ہی سیمسن کے گھر والے اپنے اگلے مشن یعنی احتجاج کے لیے کراچی پریس کلب کی جانب نکل پڑتے ہیں۔
لاپتہ آئزک کے ضعیف والدین کہتے ہیں کہ وہ گذشتہ دس سال سے اسی طرح عبادت اور احتجاج ساتھ ساتھ کر رہے ہیں ‘تاکہ کسی بھی طریقے سے ان کے لاپتہ بیٹے کا کوئی سراغ مل سکے۔‘
دوسری طرف مسیحی برادری کے روزوں کے ایام شروع ہو چکے ہیں اور آئزک سیمسن کی والدہ کو امید ہے کہ شاید اس سال ایسٹر پر ان کا بیٹا اچانک معجزاتی طور پر کہیں سے آ جائے۔