آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یسوع بادشاہ کی عید‘: پاکستان کے سب سے بڑے کیتھولک گاؤں کا منفرد مسیحی تہوار
- مصنف, کریم الاسلام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، فیصل آباد
یہ خوش پور ہے۔۔۔
پہلی نظر میں تو یہ خوبصورت گاؤں پاکستانی پنجاب کے کسی بھی دوسرے گاؤں کی طرح ہی نظر آتا ہے، لیکن اِس چھوٹے سے گاؤں میں ایک بڑی خاص بات ہے اور وہ یہ کہ پانچ ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل خوش پور پاکستان میں کیتھولک مسیحیوں کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔
لیکن ایک چیز اور ایسی ہے جس نے خوش پور کو منفرد بنایا ہے۔ وہ ہے ہر سال اکتوبر کے مہینے کے آخری اتوار یہاں منایا جانے والا انوکھا تہوار۔
’یسوع بادشاہ کی عید‘ یا ’فیسٹ آف کرائسٹ دی کنگ‘ کا گذشتہ 125 برس سے ہر سال خوش پور میں انعقاد کیا جاتا ہے۔
آخر اِس تہوار میں کیا خاص بات ہے اور کیوں یہ پاکستان کے کیتھولک مسیحیوں کے لیے اہم ہے؟ آئیے ’یسوع بادشاہ کی عید‘ میں شرکت کر کے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
گاؤں میں رونق
آج خوش پور میں عام دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رونق ہے۔ گلیوں بازاروں میں مرد، عورتیں اور بچے تہوار کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دور لگے کسی بڑے ساؤنڈ سسٹم سے مذہبی گیتوں کی آوازیں آ رہی ہے تو گھروں کی بیرونی دیواروں کو نیا پینٹ کر کے اُن پر بائبل سے منتخب آیات تحریر کی جا رہی ہیں۔
ایک جانب ٹریکٹر ٹرالی سے کیلے کے درخت کے بڑے بڑے پتے اُتارے جا رہے ہیں جنھیں سڑکوں کے دونوں جانب لگایا جائے گا۔ کچھ ہی دور بچے اور بڑے مخصوص فاصلے پر زمین میں گڑھے کھود رہے ہیں تاکہ اُن میں بینروں کے لیے بانس گاڑے جا سکیں۔
یہاں کام کرتے نوجوان شہرام کیلاش نے بتایا کہ ’ہم یسوع مسیح کی یروشلم آمد کا جشن منا رہے ہیں۔ ہم سب خدا کا کام کر رہے ہیں۔ ایک آدمی نہیں کر سکتا یہ سب کچھ اِسی لیے مل کر کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیاریوں کو فائنل ٹچ
گاؤں کے ایک دوسرے حصے میں گھروں کے سامنے بیٹھے بہت سے بچے اور چند بڑے لکڑی کے بُرادے کو رنگ رہے ہیں جسے جلوس کے راستے میں زمین پر بچھایا جائے گا۔ یہ استقبال کا ایک منفرد انداز ہے جو صرف خوش پور میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہاں جلوس کے راستے میں بڑے بڑے آرائشی گیٹ نصب کیے گئے ہیں جن پر مصنوعی پھول، جھنڈیاں، مذہبی شخصیات کی تصاویر اور خیر مقدمی پوسٹر لگائے جائیں گے۔
اپنا ذاتی کاروبار کرنے والے آصف مسیح کا کہنا تھا کہ ’یہ کام کرتے ہوئے ہم لوگوں میں بہت جوش اور جذبہ ہوتا ہے۔ ہم ساری ساری رات کام کرتے ہیں اور بالکل بھی نہیں تھکتے۔ کوئی لڑکا پرائیویٹ کام کرتا ہے کوئی سرکاری ملازمت کرتا ہے لیکن جلوس کے لیے وہ چھٹیاں لے کر آتے ہیں۔‘
جلوس سے ایک رات پہلے خوش پور میں میلے کا سماں ہوتا ہے۔ جگہ جگہ دیگیں چڑھی ہیں جہاں جلوس کی تیاری کرنے والے رضا کاروں کے لیے کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔ چائے کے دور چل رہے ہیں اور ساؤنڈ سسٹم کے شور کے درمیان تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
’پہلے دادا اب ہم‘
تہوار کے دنوں میں خوش پور کا کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں جہاں اِس موقع کی مناسبت سے تیاریاں نہ کی جا رہی ہوں۔ انتظامات ہفتوں پہلے شروع کر دیے جاتے ہیں اور ہر خاندان اپنے گھر کے سامنے والے حصے کی سجاوٹ کا ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے۔
گلیوں کی کمیٹیاں بن جاتی ہیں اور چندہ جمع کر کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ جلوس کے دن گھروں کی صفائی کی جاتی ہے۔ عورتیں، مرد اور بچے نئے کپڑے پہنتے ہیں اور کھانے کے لیے روایتی سوغات تیار کی جاتی ہیں۔
لاہور سے خاص طور پر جلوس میں شرکت کے لیے آئے سرفراز کھوکھر نے بتایا کہ ’تمام تر انتظام جذبہِ ایمانی کے تحت کیا جاتا ہے۔ پہلے ہمارے بزرگ اِس میں شامل ہوتے تھے۔ دادا کیا کرتے تھے پھر والد اور اب ہم۔ آگے ہمارے بچے یہ کام کر رہے ہیں۔ اِس میں تمام لوگ شامل ہوتے ہیں۔ بزرگ رہنمائی کرتے ہیں اور نوجوان کام کرتے ہیں۔‘
’یسوع بادشاہ کی عید‘
خوش پور میں منائے جانے والے اِس تہوار کو مقامی طور پر ’یسوع بادشاہ کی عید‘ یا ’فیسٹ آف کرائسٹ دی کنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تہوار دراصل حضرت عیسیٰ کی یروشلم آمد کی یاد دلاتا ہے۔
جس طرح یروشلم کے لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر حضرت عیسیٰ کا والہانہ اسقبال کیا تھا، اِس تہوار کے ذریعے اُن واقعات کو دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
’یسوع بادشاہ کی عید‘ پاکستان میں صرف خوش پور میں ہی منائی جاتی ہے۔
جلوس روانہ ہوتا ہے
دن ڈھلے جلوس گاؤں کے چرچ سے برآمد ہوتا ہے۔ دعائیہ کلمات ادا کیے جاتے ہیں جس کے بعد شرکا پر گلاب کے پھول کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں۔ پھر پادری، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چھوٹی بڑی سڑکوں سے جلوس کی شکل میں گزرتے ہیں۔
سکول بینڈ دھنیں بجاتا ہوا ساتھ ساتھ چلتا ہے جبکہ نوجوانوں کی ایک ٹولی ہارمونیم، دف اور ڈھولک پر بائبل سے منتخب آیات گاتی ہے۔
ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازم سرفراز ایمانوئل بھی جلوس میں شامل ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ جلوس خوش پور کی روایت ہے اور وہ خوش ہیں کہ یہاں کے لوگ اِس روایت کو زندہ رکھ پائے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ یہ مذہبی ورثہ اُن کی اگلی نسلوں تک بھی پہنچے۔
کئی ہزار کا مجمع
جیسے جیسے جلوس آگے بڑھتا ہے آس پاس کے گھروں سے لوگ اِس میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔ گاؤں کی تمام چوبیس گلیوں سے گزرتے گزرتے جلوس میں شامل افراد کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
پاکستانی مسیحی سارا سال اِس تہوار کا انتظار کرتے ہیں۔ کئی ملک کے مختلف شہروں یہاں تک کے بیرونِ ملک سے بھی ’یسوع بادشاہ کی عید‘ میں شرکت کرنے آتے ہیں۔
ٹیچنگ کے شعبے سے منسلک راحیل اختر کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مذہبی عقیدہ اِس جلوس کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں ہمارے بچے اپنے مذہب کو سیکھیں اور اُس پر عمل کریں۔‘
خوش پور کی تاریخ
125 ایکڑ پر پھیلا یہ گاؤں انیسویں صدی کے آخر میں مشنری جذبے کے تحت آباد کیا گیا۔ سنہ 1897 میں انگریز پادری فلیکس سیالکوٹ سے یہاں آئے اور خوش پور کی بنیاد رکھی۔
آج خوش پور کی آبادی پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں کئی تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ گاؤں کا واحد چرچ سنہ 1903 میں بنایا گیا تھا۔ یہاں ایک مسجد بھی قائم ہے جس کی بنیاد چرچ کے پادری نے خود اپنے ہاتھ سے رکھی تھی۔
خوش پور میں کیتھولک پادریوں، راہبوں اور مذہبی پیشواؤں کی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں پادریوں کی سب سے بڑی تعداد خوش پور سے ہی تعلق رکھتی ہے۔
بائبل کے واقعات
’یسوع بادشاہ کی عید‘ کی سب سے خاص بات جلوس کے راستے میں مسیحی تاریخی واقعات کی منظر نگاری ہے۔ ہر گھر کے باہر خاندان کے افراد بائبل میں بیان واقعات کو ایکٹ کر کے دکھاتے ہیں۔ اِس میں لباس، جانوروں اور دیگر اشیا کی مدد بھی لی جاتی ہے۔
ایک گھر کے سامنے حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ عہد نامہ جدید یا انجیل کے مطابق حضرت عیسیٰ بیت اللحم کے ایک اصطبل میں پیدا ہوئے تھے۔ اِسی مناسبت سے یہاں گھاس پھوس اور مویشیوں کی مدد سے یہ منظر دکھایا گیا ہے۔
کچھ فاصلے پر طوفانِ نوح کا واقعہ پیش کیا گیا ہے۔ چپو والی کشتی کے ساتھ پانی کا تالاب اور پرندوں کا پنجرہ منظر میں حقیقت کا رنگ بھرتا ہے۔ پانی کا تالاب زمین میں گڑھا بنا کر اوپر پولی تھین شیٹ ڈال کر بنایا گیا ہے جبکہ مچھلیاں فوم سے تیار کی گئی ہیں۔
مینار اور صلیب
خوش پور میں تین درجن کے قریب گھر مسلمانوں کے ہیں جن کے اجداد گاؤں کے قیام کے وقت مسیحیوں کے ساتھ آ کر یہاں بسے تھے۔ اب اُن کی اولادیں خوش پور کے اکثریتی مسیحیوں کے ساتھ مل جُل کر رہتی ہیں اور ’یسوع بادشاہ کی عید‘ کے تہوار میں شامل ہوتی ہیں۔
شام ہوئی تو ڈھلتے سورج کی روشنی میں جلوس مسلمانوں کے گھروں کے سامنے سے گزرا جہاں باہر کھڑے لوگوں نے اُسے الوداعی سلام کیا۔
اب جلوس اپنی منزل یعنی چرچ واپس پہنچنے کے قریب ہے۔ دور مسلمانوں کی مسجد کے مینار نظر آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے جلوس کے آگے آگے چلنے والے پادری کے ہاتھ میں موجود صلیب کو دونوں میناروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا ہو۔ مسجد کے مینار اور کلیسا کی صلیب کا یہ منظر خوش پور میں مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کی بہترین علامت ہے۔