پاکستان میں کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کے لیے حکومتی منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان میں مقامی گیس کی کم ہوتی پیداوار اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے مدنظر وفاقی حکومت کی جانب سے کوئلے سے گیس اور تیل کی پیداوار کی پالیسی پر کام جاری ہے۔
پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی خالد منصور کے مطابق گیس اور تیل کی پیداوار کے لیے صوبہ سندھ میں تھر کے کوئلے کو استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان کی سابقہ حکومت کی جانب سے کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کا منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی مارکیٹ میں تیل و گیس کی قیمتیں انتہائی بلند سطح پر ہیں جس کے باعث پاکستان کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل و گیس پر انحصار کرتا ہے۔
پاکستان میں تھر کے کوئلے کو استعمال میں لا کر اس سے تیل و گیس پیدا کرنے کے منصوبے سے پہلے تھر کے کوئلے سے اس وقت 660 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور منصوبے کے مطابق آئندہ سال تک اس کوئلے سے بجلی کی پیداوار کو 1800 سے 2000 میگا واٹ تک بڑھا دیا جائے گا۔
حکومتی منصوبے کے مطابق کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کے لیے خصوصی ٹیکس مراعات دی جائیں گی تاکہ سرمایہ کاروں کو اس منصوبے کی جانب راغب کیا جا سکے۔
کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا حکومتی منصوبہ کیا؟
پاکستان میں موجود کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کے منصوبے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے خالد منصور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جس کی ڈویلپمنٹ، اس کے لیے مالی انتظام اور اسے شروع کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔
خالد منصور کے مطابق اگر اس منصوبے پر آج سے کام شروع کیا جائے تو یہ 2029-30 تک مکمل ہونا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں کوئلے اور خاص کر تھر میں موجود ذخائر کو استعمال کرنے کے لیے متبادل ذرائع استعمال کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اس منصوبے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ پاکستان کا توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار ہے اور ملک میں ہر سال تیل و گیس کی درآمد پر کئی ارب ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں سے 25 فیصد حصہ توانائی کے شعبے کی درآمدات پر مشتمل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ’تھر میں کوئلہ موجود ہے اور اسے ہم استعمال میں لا کر تیل و گیس پیدا کر سکتے ہیں جبکہ اس وقت عالمی سطح پر ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور پاکستان کو درآمدات کے لیے بے پناہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کے لیے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کا منصوبہ ہے جس سے نہ صرف تیل و گیس پیدا ہوں گے بلکہ بعد میں فرٹیلائزر کی پیداوار بھی اس میں ہو گی۔
انھوں نے بتایا کہ ایسے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس دنیا میں چل رہے ہیں اور وہ خود انھیں چین میں کامیابی سے چلتے دیکھ چکے ہیں۔
تھر میں کتنا کوئلہ موجود ہے؟
پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی بات کی جائے تو ان ذخائر کا نوے فیصد صوبہ سندھ میں تھر کے علاقے میں موجود ہے، جہاں سے پہلے ہی کوئلہ نکالا جا رہا ہے اور بجلی پیدا کرنے کا ایک منصوبہ کام کر رہا ہے اور کچھ دوسرے پائپ لائن میں ہیں۔
سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی کی فراہم کردہ ایک پریزینٹیشن کے مطابق تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔
یہ ذخائر 50 ارب ٹن تیل کے برابر ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے تیل کے مجموعی ذخائر سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح یہ ذخائر 2000 ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے برابر ہیں جو پاکستان کے موجودہ گیس ذخائر سے 68 گنا زیادہ ہیں۔
تھر کوئلے کے ذخائر کے سلسلہ انڈیا تک پھیلا ہوا ہے اور راجستھان میں ان ذخائر کا آٹھ فیصد موجود ہے تاہم انڈیا ان ذخائر کو پہلے ہی استعمال کر چکا ہے اور راجستھان میں لگنے والے پاور پلانٹ اس کوئلے کو استعمال کرنے کے بعد اب درآمدی کوئلے پر انحصار کر رہے ہیں۔
تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔
پاکستان میں جہاں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے کوئلہ درآمد کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی کوئلے کی پاکستان میں درآمد ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شمال یعنی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کام کرنے والی زیادہ تر سیمنٹ فیکٹریاں افغانی کوئلے کا استعمال کرتی ہیں اور حال ہی میں افغانستان سے آنے والے کوئلے کی کھپت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کی وجہ سے افغانستان سے درآمدی کوئلے کی لاگت دوسرے ممالک سے آنے والے کوئلے کی درآمدی لاگت سے کم ہے اور افغانستان بذریعہ سٹرک کوئلہ کم نرخوں میں پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے ممالک سے آنے والے کوئلے کی درآمدی لاگت بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ سال اکتوبر سے کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے پاکستان میں درآمدی کوئلے کی لاگت میں اضافہ ہوا تاہم افغانستان سے آنے والا کوئلہ دوسرے ممالک سے آنے والے کوئلے کے مقابلے میں 25 سے تیس فیصد کم نرخوں پر دستیاب ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کوئلے سے تیل و گیس کیسے پیدا ہوتی ہے؟
کوئلے سے تیل و گیس پیدا کرنے کے بارے میں ماہر توانائی اور سابقہ ممبر انرجی پلاننگ کمیشن آف پاکستان سید اختر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئلے کو جب ہائی پریشر پر سیمی برن یعنی آدھا جلایا جاتا ہے تو اس سے میتھین گیس بنتی ہے، جسے سنتھیٹک گیس کہتے ہیں۔
اس گیس کی وہی خصوصیات ہوتی ہیں جو قدرتی گیس کی ہوتی ہیں۔ اس کی صفائی کی جاتی ہے، اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی کچھ مقدار کو صاف کر دیا جاتا ہے اور اسے پائپ لائن میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے قدرتی گیس ڈالی جاتی ہے۔ اسی طرح کوئلے سے بننے والی گیس کو مزید پراسس کر کے اس سے ڈیزل پیدا کیا جا سکتا ہے۔
سید اختر علی نے بتایا کہ اگر کوئلے سے گیس پیدا کرنے کی لاگت کو لیا جائے تو یہ تقریباً اسی لاگت میں پڑتی ہے جو ایل این جی کی قیمت ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے این ایل جی کی درآمد کے لیے دس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے لیے طویل مدتی معاہدے کیے تھے اور اگر کوئلے سے گیس پیدا کی جائے تو یہ اسی قیمت میں پڑے گی جبکہ اس وقت عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں دس ڈالر سے کئی گنا اوپر جا چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چین میں ایسے پلانٹ لگے ہوئے ہیں کہ جہاں کوئلے سے تیل و گیس پیدا کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کتنی تیل و گیس کی ضرورت؟
پاکستان میں گیس کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے سید اختر علی نے بتایا کہ ملک میں اس وقت گیس کی مجموعی طلب چھ بلین کیوبک فٹ ہے جس میں سے چار بلین کیوبک فٹ کی پیداوار مقامی طور پر ہوتی ہے جبکہ دو بلین کیوبک فٹ پاکستان کو درآمد کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت چھ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک آتی ہے جبکہ درآمدی گیس کی قیمت حالیہ ہفتوں میں چالیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بھی تجاوز کر گئیں۔
پاکستان میں ڈیزل کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے پاکستان ریفائنری کے منتظم اعلیٰ زاہد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئلے سے ڈیزل پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ماہانہ چھ سے سات لاکھ میٹرک ٹن ڈیزل کی کھپت ہے اور کٹائی کے موسم میں اس کی کھپت بڑھ جاتی ہے جو آٹھ لاکھ ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔
سالانہ بنیادوں پر ملک میں ڈیزل کی کھپت 70 سے 75 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت جو قیمتیں عالمی منڈی میں ہیں، اس تناسب سے ملک کو چھ ارب ڈالر سے زائد صرف ڈیزل کی درآمد پر سالانہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔
کوئلے سے گیس و تیل کا منصوبہ ماحولیات کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں تھر کے کوئلے کو استعمال کر کے ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے تیل و گیس کے حکومتی منصوبے سے ماحولیات پر کیا نقصان مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں کوئلے کے استعمال کے ماحول پر نقصان پر تحقیقاتی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔
پاکستان میں پالیسی ادارہ برائے دیہی ترقی کی کنسلٹنٹ ہنیا اسعاد کی کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار پر ریسرچ کے مطابق ایک میٹرک ٹن تیل کی پیداوار کے لیے پانچ میٹرک کوئلہ استعمال ہو گا جس کا مطلب ہے کہ زیادہ کوئلہ نکالا جائے گا جو نقصان دہ کیمیائی فضلے اور زیر زمین پانی کو آلودہ کرنے کا باعث بنے گا۔
کوئلے سے تیل کی پیداوار ایک روایتی آئل ریفائنری کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پانی استعمال ہوتا ہے جب کہ 13 گنا زیادہ گندے پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بھی زیادہ اخراج ہوتا ہے جب کوئلے سے پیدا کردہ ایندھین کو استعمال کیا جائے جو دوسرے ذرائع سے پیدا کردہ ایندھن کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
کوئلے سے تیل کی پیداوار دو طریقے سے ماحول کو آلودہ کرتی ہے: ایک جب کوئلے سے تیل پیدا کیا جاتا ہے تو اس عمل میں ماحول آلودہ ہوتا ہے تو دوسری طرف جب وہی تیل پلانٹس اور گاڑیوں میں استعمال ہو گا تو اس کے ماحول پر منفی اثر دوسرے ذرائع سے پیدا کیے جانے والے تیل کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
اسی طرح کوئلے سے پیدا ہونے والی گیس سے کاربن کا اخراج قدرتی گیس سے پیدا ہونے والے کاربن سے زیادہ ہوتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق کوئلے سے پیدا ہونے والی گیس سے زہریلی گیس کا اخراج قدرتی گیس کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہوتا ہے۔
ماہر توانائی سید اختر علی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار کے ماحولیات کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ تھر ایک ریگستان ہے اور وہاں آبادی کم ہے، اس لیے اس منصوبے کے ماحول پر کم منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ اس منصوبے سے ماحول کو کوئی خطرہ لاحق ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید ترین آلات اور مشینری استعمال ہو گی جو ورلڈ بینک اور یورپین معیار کی ہو گی تاکہ اس منصوبے کے ذریعے جب کوئلے سے تیل و گیس کی پیداوار ہو تو ماحول بھی محفوظ رہے۔
پاکستان میں افغانستان سے درآمد ہونے والے کوئلے کے حجم پر بات کرتے ہوئے شرمین سیکورٹیز میں توانائی کے امور کے تجزیہ کار احمد رؤف نے بی بی سی کو بتایا کہ ماہانہ بنیادوں پر کوئلے کی سیمنٹ فیکٹریوں میں طلب چھ لاکھ ٹن ہے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فیکٹریوں کی ڈیمانڈ ساڑھے چار لاکھ ٹن اور سندھ اور بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ ٹن ہے۔ شمالی صوبوں میں طلب کا ستر فیصد افغانستان سے آنے والے کوئلے سے پورا ہوتا ہے، جو تین سے ساڑھے تین لاکھ ٹن اس وقت پاکستان آ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں کوئلے کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں بڑھنے کہ وجہ سے افغانستان سے کوئلہ زیادہ آ رہا ہے جو اس سے پہلے ڈیڑھ لاکھ ٹن ماہانہ کی بنیادوں پر پاکستان میں آرہا تھا۔










