عمران خان کے سیاسی سفر میں اب تک کے پانچ اہم لمحات

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, اشعر رحمان
    • عہدہ, صحافی

یہ نوے کی دہائی کی بات ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمان، جو چند برس قبل تک جنرل ضیا الحق کے خاص الخاص سمجھے جاتے تھے، اپنے ہاتھ میں ایک دستاویز لیے گھوم رہے تھے۔

اُن کا مشن مشہورِ عالم پاکستانی کرکٹر عمران خان کو ایک بڑے ریفارمر کے طور پر متعارف کروانا تھا۔ یہ دستاویز گویا وہ بلیو پرنٹ تھا جس کے تحت خان صاحب نے ملکِ خداداد پاکستان کو ان بحرانوں سے نکالنا تھا جو جنرل ضیا کے بعد آنے والے حکمرانوں کے نصیب میں لکھے تھے اور اُن سے بچ نکلنا بظاہر بے نظیر اور شریف خاندان جیسے حکمرانوں کے لیے ناممکن تھا۔

لاہور میں ہسپتال قائم کرنے کی مہم، بلکہ یہ کہیے کہ شوکت خانم کا جنون، ناگزیر طور پر ہمارے نئے چنے ہوئے نجات دہندہ کو اُس دور میں اِس امر پر مجبور کیے رہا کہ وہ شریف خاندان سے کم از کم بظاہر اچھے تعلقات قائم رکھیں۔

وجہ چاہے اس کے علاوہ کوئی اور بھی ہو، اپنی سیاسی زندگی کے ابتدائی دور میں عمران خان، نواز شریف کے خاصے قریب نظر آئے۔ جبکہ دوسری طرف انھیں وہ سیاسی انسپیریشن اس گروہ سے مہیا ہوئی جو ملک کی دوسری بڑی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، کو اپنا ازلی دشمن گردانتی تھی۔

بنیاد پرست عمران کے بنیادی سرپرست جانے پہچانے تھے، جیسا کہ جنرل حمید گُل اور اُن جیسے بہتیرے دوسرے۔

’پی پی پی دشمن گروپ‘ میں شمولیت

یہ پاکستان کی سیاست میں کئی دہائیوں سے موجود ایک گروپ تھا جس کے ممبران ذوالفقار علی بھٹو سے کسی نہ کسی طرح سے چِڑے ہوئے تھے۔

وقت کے ساتھ اس گروپ میں اور نئے عمائدین شامل ہوتے چلے گئے۔ بھٹو مخالفت اُن کی سرشت میں تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھٹو اور اُن کے ورثا کے خلاف اپنے جذبات کو ایک طرح سے ڈھالنے اور منظم کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ گروپ اپنے طور پر اور وقتاً فوقتاً اپنے تبدیل ہوتے ہوئے ساتھیوں کو لے کر کام کرتا تھا اور اس کا واحد مقصد پی پی پی کے لیے ہر موڑ پر مشکلات کھڑی کرنا تھا۔

اس مستقل ہیجان زدہ گروہ نے کئی کارنامے انجام دیے، جن میں مشہور پیسے دے کر الیکشن میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنا وغیرہ تاریخ میں جلی حروف میں لکھا جا چکا ہے۔

یہ تھا ہمارے ہیرو عمران خان کی سیاست میں آغاز۔ کیونکہ بھٹو مخالف گروپ میں شریف خاندان کا نام سرِفہرست رہا ہے، نتیجتاً آپ نے کئی بار بڑے میاں صاحب کو یہ کہتے ہوئے سُنا ہو گا کہ انھیں یقین ہے کہ فاتح 1992، بے داغ اور با کردار و با غیرت انسان بس پاکستان مسلم لیگ میں داخل ہوا چاہتے ہیں۔

مگر یہ ہو نہ سکا اور کچھ برس بعد عمران خان میاں شریف گھرانے کے ایک بہت بڑے مخالف ثابت ہوئے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ظاہری باہری عوامل

ستر کی دہائی میں جب نوجوان کرکٹر عمران خان پہلی بار پاکستان کی نمائندگی کے لیے انگلستان روانہ ہوئے، ٹھیک اُسی وقت عرب و خلیج میں اُن کے محنت کش ہم وطنوں کے لیے معاشی ترقی کے نئے در کھلے تھے۔

لیبیا سے لے کر سعودی عرب تک اچھی تنخواہ پر ملازمتیں پاکستان میں تبدیلی کی بنیاد بنیں۔ اس معاشی خوشحالی نے کئی معاشرتی رویوں کی تبدیلی میں بڑا حصہ ڈالا۔

کرکٹ کا کھیل اپنی تمام تر رعنائیوں اور دلچسپیوں کے ساتھ پاکستانیوں کو مرغوب رہا مگر اس کے ساتھ ساتھ پرانے سامراج یعنی انگریزوں کی کئی عادات و اطوار چیلنج کی جانے لگیں۔

پیسہ کمانا اتنا ہی ضروری تھا جتنا پہلے کبھی، مگر اب پیسہ کمانے کے لیے ایک پوری نامانوس سیویلائزیشن کو گلے لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ اب عرب بھائیوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو کر بھی اپنی محنت سے معاشرے میں عزت اور دولت کی خواہش کی جا سکتی تھی۔

یہ ایک نئی پاکستانی طرز تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ حاصل کی گئی آسودگی نے تیل سے لبریز برادر مسلم ممالک کے باہر بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کو نئے اعتماد سے سرشار کیا۔

اس نئے اعتماد کا ایک قدرتی راستہ اس خود شناسی کی طرف جاتا تھا جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں نے اسلام آباد سے سپنے لیے اور پاکستان میں بسنے والے کروڑوں افراد کے لیے ان سہولتوں اور تحفظ کا مطالبہ کرنا شروع کیا جس کے وہ مثال کے طور پر خلیجی اور مغربی ممالک میں عادی ہو چکے تھے۔

آخر کار جس وقت عمران خان انگریزی تہذیب میں آلودہ ’براؤن صاحب‘ کو صدیوں گہری دلدل سے نکالنے کی تیاری کر رہے تھے، محب وطن سمندر پار پاکستانی شدت کے ساتھ اپنے ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کے لیے بیتاب تھے۔

ان دونوں قوتوں کا اتحاد ایک فطری امر تھا۔ یہ اتحاد وقت آنے پر پاکستان تحریک انصاف کو ایک خاص مرکزی قوت فراہم کر گیا جس میں پرانے سیاستدانوں سے سخت بیزار پاکستان کی نئی مڈل کلاس نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔

آخر کار حکمت عملی میں تبدیلی

عمران خان

،تصویر کا ذریعہEPA

اس قوت کے پیچھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی تھی۔ کیونکہ سیاست میں عمران خان کے پہلے گُرو بنیادی طور پر سیدھے سادے پی پی پی مخالف افراد تھے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب میں غیر بھٹو اور غیر بینظیر طاقتیں اپنی مقبولیت کی معراج پر تھیں، یہاں عمران خان کی سیاست کچھ گُھٹ کے رہ گئی۔

ان بھول بھلیوں سے نکلتے ہوئے عمران خان اور اُن کے سرپرستوں کو ایک عمر لگ گئی۔ صحیح راستہ صرف اس وقت سامنے آیا جب سب سرپرستوں میں سب سے برتر سرپرستوں کے تعلقات ان کے بہت ہی پیارے نواز شریف سے کئی معاملات میں کچھ بگڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

اتفاق سے یہ اس وقت ہوا جب ملک کے بڑے ہمیشہ نت نئے مطالبے کرنے والی مذہبی جماعتوں سے بھی اکثر نالاں دکھائی دیتے تھے۔

اور پھر جادو ہو گیا۔ ایک وقت تھا کہ شرمائے لجائے عمران خان نواز شریف کے گھر عصرانوں، ظہرانوں میں دکھائی دیتے تھے۔ اب ایک بے باک کپتان کو اپنے اس سابق مہربان کے سامان میں کرپشن کے ذریعے حاصل کیا گیا پیسہ اور اثرو رسوخ نظر آنے لگا۔

گھر کے آدمی یعنی عمران خان کی مبینہ طور پر ’کرپٹ‘ حکومتِ پنجاب پر چڑھائی بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔ اس نے پی ٹی آئی کو وہ ولولہ اور سرپرستی عطا کی جس کی وجہ سے عمران پہلے خیبر پختونخوا اور پھر مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAPP

کتنی طاقتور حکومت؟

عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے اسلام آباد میں حکومت قائم کی اور اُن کی طاقت کے ثبوت میں اکثر جو دلیل پیش کی جاتی رہی وہ حکومت اور فوج کا ایک ہی صفحے پر ہونا تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکی فوجوں کو افغانستان سے واپس بھیجنے کا فیز شروع کیا جانا تھا۔ جنگ محدود ہو چکی تھی اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اسلام آباد پہلے سے بہت بہتر پوزیشن میں تھا۔

دو قوتوں کے ایک ہی پیج پر ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ عمران خان کے سیاسی نعروں میں چھلکتے جذبات کی طرح پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ بھی مغرب سے کچھ کھچی کھچی سی تھی۔

دیکھنے والے کہہ رہے تھے کہ یہ ایک بہت مضبوط شراکت داری تھی، ماضی کی کچھ شراکت داریوں کی طرح۔ اتنی مضبوط تھی کہ خطرہ تھا کہ کہیں یہ حکومت کو دیگر اتحاد بنانے کی اہمیت سے غافل نہ کر دے اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

جب مقتدرہ اور عمران خان میں، ملازمت میں توسیع کے معاملے پر ممکنہ کھچاؤ سامنے آیا تو یہ بات بھی سُنی گئی کہ ایک سرپرستی کے سرور میں وزیراعظم عمران خان بہت سے سیاسی مہروں سے خود کو دور کرتے چلے گئے ہیں۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTV

عمران کے نظریے

حال ہی میں ایک تقریر میں عمران خان ایک بار پھر اپنے سفر کی کہانی دہراتے ہوئے سُنائی دیے۔ ظاہر ہے اس کہانی میں سب سے بڑا کمپلیمنٹ کسی بھی جگہ یا خطے کو سمجھنے کی ان کی خداداد صلاحیت کو پیش کیا گیا تھا۔

وہ سمجھتے ہیں اور بابنگ دہل اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی سرزمین کو اس کے اپنے سپوتوں سے زیادہ اور بہت زیادہ سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اپنے تجزیے اور فیصلے کرتے ہیں۔

ان کا یہ دعویٰ اپنے آپ میں اُن کی طرف بھیجے گئے کسی بھی مشورہ کے اثرات زائل کرنے کے لیے کافی ہے اور مسئلہ چاہے روس یا کہیں اور جانے کا ہو ذمہ داری اُسی کی ہے جس کی گفتار میں ’میں‘ کی تکرار اس کی بہادری اور لیاقت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے ثبوت کے طور پہ پیش کی جاتی ہو۔

بہرحال جرات کی یہاں یقیناً کوئی کمی نہیں ہے۔ عمران خان بہت سے معاملات میں دوسرے سیاستدانوں اور دیگر صاحب رائے خواتین و حضرات کے مقابلے میں بہت ثابت قدم رہے ہیں۔

پرانی وضع کے جرگہ سٹائل سسٹم سے اُن کا پرانا عشق ہے سو وہ اب بھی اسی شدت سے جاری ہے۔ ان کے اثاثے میں ایک انتہائی قابل قدر نگینہ ڈرون حملوں سے متعلق ان کا نظریہ ہے جس پر بطور ایک مضبوط و مقبول سیاستدان وہ بجا طور سے فخر کر سکتے ہیں۔

فخر اور سر اٹھا کے جینے سے متعلق ان کے اقوال دلوں کو چھونے کی تاثیر رکھتے ہیں اور یہ اس موقع پر زیادہ پراثر ہو سکتے ہیں جب ان کو ان عالمی سازشوں کے فاش کرنے والے ابواب سے الگ درج کیا جائے۔

سازشوں کے پردے چاک کرنے کی باتیں بھی کچھ نہ کچھ معنی اپنے تئیں ضرور رکھتی ہوں گی بس یہ کہ آج کل اتنا کچھ سامنے آ جاتا ہے کہ کوئی انکشاف اب انکشاف نہیں رہتا۔ رہی بات امریکہ کی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی تو اس میں نیا کیا ہے؟

یہ اتنی ہی پرانی بات ہے جتنا پاکستان میں منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنا۔ نیا اگر کچھ ہے تو ایک حاکم کی یعنی عمران خان کی، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی کوشش۔

ملک پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو ماپنے کے لیے کسی نئی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کو واشنگٹن میں اپنے بارے میں موجود خیالات کو جاننے کے لیے کسی خط یا خفیہ رپورٹ کی خواہش نہیں ہونی چاہیے۔

یہ امریکہ مخالف جذبات ایک بڑے سیاسی رہنما کی سیاست پر بہت حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی عمران خان کی سیاسی obituary لکھنے کا وقت بہت دور ہے۔ ان کے مخالفین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ باوجود ان تمام منفی باتوں کے جو پچھلے چند دنوں میں ان کے خلاف کہی گئی ہیں، عمران اب بھی ایک مقبول لیڈر ہیں۔

وہ لڑتے رہیں گے، خود کو ہمیشہ سچا جان کے، کیونکہ بقول ان کے وہ سب جانتے ہیں اور سب جیتتے آ رہے ہیں۔