بلوچستان میں سرداری نظام کا خاتمہ: ’سردار لا شریک ہوتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فاروق عادل
- عہدہ, مصنف، کالم نگار
’یہ بڑا دن ہے، اس کو سلام کرو۔ اب جناب، یہاں سردار نہیں رہے۔۔۔ تو جناب، اب سرداری چاہتے ہو تو جاؤ ہندوستان، سردار جی کے پاس۔۔۔۔ اور اگر سرداری چاہتے ہو تو جاؤ افغانستان، سردار داؤد کے پاس۔ یہاں تو سرداری ختم ہو گئی۔ کل پورے پاکستان میں چھٹی ہو گی۔‘
یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان جو کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں عوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ الفاظ ابھی انھوں نے ادا کیے ہی ہوں گے کہ ایک دھماکہ ہوا۔ عوامی انداز رکھنے والے رہنما نے دھماکے کی آواز سنی۔ اس سے پہلے کہ ہجوم خوفزدہ ہو کر بکھرنے لگتا، لوگوں نے بھٹو کی جانی پہچانی پر جوش آواز سنی: ’یہ پٹاخہ خیر بخش مری کا ہے۔۔۔ اب دوسرے پٹاخے کا انتظار کرو۔‘
یہ الفاظ ابھی ان کی زبان پر ہی تھے کہ ایک اور دھماکہ ہو گیا۔ دوسرے دھماکے کی آواز سنتے ہی انھوں نے کہا: ’یہ خیر بخش مری کا پٹاخہ ہے، اب تیسرے کا انتظار کرو۔‘
ذرا سی دیر میں تیسرا دھماکہ بھی ہو گیا جسے انھوں نے میر غوث بخش بزنجو سے منسوب کیا۔
ممتاز بلوچ دانشور اور مؤرخ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اس واقعے کے بارے میں مجھے بتایا ’نہیں معلوم یہ دھماکے کس نے کرائے، ہو سکتا ہے کہ اسی نے کرائے ہوں جس نے ان کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کی لیکن دھماکوں کا یہ واقعہ اور اس کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کے یہ جملے اس زمانے میں زبان زد عام ہو گئے۔‘
یہ آٹھ اپریل 1976 کی بات ہے جب پاکستان میں سرداری نظام ختم کیا گیا۔
سیاسی مؤرخ احمد سلیم نے اپنی کتاب ’بلوچستان: آزادی سے صوبائی بے اختیاری تک‘ میں وزیر اعظم بھٹو کی اس تقریر کا مکمل متن شائع کیا ہے۔ انھوں نے اس تقریر میں بہت کھل کر بتایا کہ وہ کیوں اس نظام کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس تقریر میں انھوں نے اپنے اس فیصلے کی تین وجوہات بیان کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1- ششک۔ یہ لفظ بلوچی زبان میں چھٹے حصے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اصطلاح تھی جو بلوچ معاشرے میں صدیوں سے چلی آتی تھی جس کے تحت ہر کاشت کار کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنی زرعی پیدا وار کا چھٹا حصہ سردار کو پیش کرے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ 1970 میں اپنے انتخابی منشور میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ششک جو ایک ظالمانہ روایت ہے، اس کا خاتمہ کر دے گی لیکن اس نے یہ نہیں کیا۔
2- ذوالفقار علی بھٹو کے مطابق دوسری وجہ زرعی اصلاحات بنی۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے سرداروں نے بھٹو حکومت کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ پورے ملک کے زمین داروں نے اس سلسلے میں قوانین کی پاس داری کی اور زرعی اصلاحات کے سلسلے میں تمام شرائط پوری کر دیں لیکن بلوچستان کے سرداروں نے مزاحمت کی۔
بھٹو نے اس تقریر میں بتایا کہ مزاحمت کرنے والے سرداروں کی تعداد 22 تھی۔
3- سابق وزیر اعظم نے اس کی تیسری وجہ یہ بتائی کہ بلوچستان کے یہ سردار پٹ فیڈر کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انھوں اس مقصد کے لیے جعلی دستاویزات پیش کی تھیں۔
سابق وزیر اعظم کے خیال میں یہ تین وجوہات تھیں جس کے باعث انھوں نے اس نظام کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کتنا مؤثر ثابت ہوا اور بلوچستان کی معاشرت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ سوال نہیں۔ بلوچستان کے امور کو سمجھنے والی شخصیات اور خود بلوچ دانشوروں کی آرا میں اس سلسلے میں زیادہ فرق نہیں لیکن اس معاملے کی تفہیم ممکن نہیں جب تک سرداری نظام کی بنیاد کو نہ سمجھا جائے۔

ڈاکٹر عطا محمد مری نے اپنی کتاب ’بلوچ قوم: قدیم عہد سے عصر حاضر تک‘ میں سرداری نظام کے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔ اس نظام کے خد و خال اگر چند الفاظ میں بیان کیے جائیں تو ڈاکٹر عطا محمد مری کے الفاظ میں اس کی صورت یہ ہو گی:
’سردار لا شریک ہوتا ہے‘
ڈاکٹر مری کے اس جملے سے بلوچستان کے سردار کی طاقت اور جبروت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اسے یہ قوت کیسے میسر آتی ہے۔ ڈاکٹر مری کے مطابق خطہ بلوچستان کی ایک فطری اور تاریخی کمزوری نے اس یہ طاقت فراہم کی۔
وہ لکھتے ہیں کہ بلوچستان روائتی طور پر ایک کمزور ’ملک‘ رہا ہے جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی کبھی نہیں رہی۔ یہی سبب تھا کہ اس خطے میں چھوٹے چھوٹے معاشرے مل کر ایک کنفیڈریشن کی شکل اختیار کر گئے۔ سرداری نظام کو اس کنفیڈریشن کو وجود میں لانے والی اکائیوں کو تشکیل دینے والے عناصر ترکیبی سے سمجھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ ہر انسانی معاشرے کی طرح فطری طور پر بلوچستان میں بھی سماج کی بنیادی اکائی فرد سے ہی تشکیل پاتی ہے جو فطری طور پر کسی خاندان کی نمائندگی کرتا ہے۔
ناگزیر ہے کہ اس خاندان کی قیادت کوئی بزرگ یعنی سفید باریش شخص کرے۔ بلوچ معاشرے میں اسے ’پیرہ مرد‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مختلف خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے پیرہ مردوں کے اجتماع سے ایک اور ادارہ وجود میں آتا ہے جو 'پیریں مرد' کی قیادت میں کام کرتا ہے۔ اس قبائلی معاشرے میں اس پیریں مرد کا مقام سب سے بلند ہے اور یہی سردار ہے۔
اس نظام میں سردار کی حیثیت کیا ہے؟ ڈاکٹر مری لکھتے ہیں ’اس ساری درجہ بندی کی چوٹی پر سردار بیٹھا ہے۔ اس کا ہمسر اور اس کی برابری کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ لاشریک ہوتا ہے اور قبیلے پر اپنا اثر اپنے ماتحتوں یعنی وڈیروں کے ذریعے برقرار رکھتا ہے۔‘
یہ شخص ایک عام بلوچی کے مقابلے میں کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازہ اس کی جان کی قیمت سے ہوتا ہے۔ انگریزوں کے زمانے میں اگر ایک عام بلوچ کا خون بہا دو ہزار روپے تھا تو اس کے مقابلے میں سردار کا خون بہا آٹھ ہزار روپے تھا۔
سردار کو قبیلے میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے اور ہر قسم کے انتظامی معاملات کی انجام دہی کے لیے لا محدود اختیارات حاصل تھے۔ سردار کی اپنی ذاتی جیل ہوا کرتی جس میں قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا۔ یہاں تک کہ انھیں خوراک بھی نہ دی جاتی۔ لوگ خیرات میں انھیں خوراک دیتے یا بھاری بھرکم لکڑیاں پھاڑنے کے معاوضے کے طور پر انھیں کھانے پینے کو کچھ ملتا۔
سردار کی پولیس سوار کہلاتی جو آریہ عہد کے حکمرانوں کا تسلسل تھی۔ سوار کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوتی جس پر سردار کی مہر ہوتی۔ یہ چھڑی سوار کو نہ صرف ناقابل گرفت بنا دیتی بلکہ اسے احکامات جاری کرنے کا اختیار بھی مل جاتا۔ لیویز اسی سوار کی جدید شکل تھی۔
ڈاکٹر مری نے اس سردار کے ذہنی جذباتی اور سیاسی رجحانات پر دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 'سردار ہی وہ سرچشمہ ہے جہاں سے سیاسی، ثقافتی، اور معاشی اختیارات کے دریا پھوٹتے ہیں، وہ اپنی اتھارٹی کو برقرار رکھنا بھی جانتا ہے اور ایسا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کہنے کو تو اس کے قبائل بہت روشن فکر، جمہوری اور ترقی پسند ہوتے ہیں۔

مگر دراصل یہ روایت اور قبائلیت میں بنیاد پرست اور سماجی برتاؤ میں بہت ہی قدامت پسند ہوتے ہیں۔ وہ غیرت کی دھن پر جان لیوا رقص کرتے ہیں اور وطن کے خطرے میں وجد میں آتے ہیں اور اگر برطانوی، امریکی اور پنجابی سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی صدا دو تو پوری غیور قوم آپے سے باہر ہو کر مکمل مجنوں بن جاتی ہے۔‘
اس نظام میں قبیلے کی سیاست، معیشت اور معاشرت تو ہوتی ہی سردار کے تابع ہے لیکن علم و ہنر اور زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضے بھی سردار کی چشم ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ڈاکٹر مری کے الفاظ میں:
’غربت قسمت کا لکھا بن جاتی ہے، علم بے غیرتی ہو جاتا ہے اور انصاف سردار کی خشم آلود نگاہوں کی باندی بن جاتا ہے۔‘
’اے لٹریری ہسٹری‘ میں محمد سردار خان بلوچ نے لکھا ہے کہ اس معاشرے میں علم و ہنر اور لڑیچر کچھ موسمی اور طبی ٹوٹکوں سے بڑھ کر نہیں ہوتا اور تلوار، ڈھال، تیر کمان کے مقابلے میں فلسفہ، سائنس اور سیاسی نظریات کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیے
بلوچ اپنے سردار کی کس قدر عزت و احترام کرتے ہیں، اس کا ایک واقعہ صدر ممنون حسین بیان کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے:
’میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ جنرل عبدالقادر بلوچ اپنے تمام تر سیاسی و سماجی مقام و مرتبہ کے باجود اپنے قبائلی سردار؛ نواب ثنا اللہ زہری کے سامنے ہمیشہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘
ایسا کیوں تھا؟ یہ راز ڈاکٹر مری کھولتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ اس بے حد احترام کا سبب سردار کا سیاسی و سماجی مرتبہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پس پشت روحانی قوت بھی ہوتی ہے: ’بلوچوں کے سارے پی ایچ ڈی، سارے یورپ پلٹ اور سارے علم و دانش کے مالک اشخاص بھی اپنے سردار کو ولی اللہ گردانتے ہیں۔ قبائل کے نزدیک سردار اللہ کا برگزیدہ اور پسندیدہ شخص ہے۔ تبھی تو اسے اتنی طاقت عطا کر دی گئی ہے۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ اپنے سردار کو صاحب کرامت پیر اور بزرگ بھی سمجھتے ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ سرداروں کے صاحب کرامت ہونے کی کوئی مثال پیش کرسکتے ہیں؟ انھوں نے بلا تامل جواب دیا:' ایک نہیں، کئی بلکہ ہزاروں۔‘
اتنا کہہ کر سانس لینے کے لیے تھوڑا خاموش ہوئے پھر کہا کہ پہلے ایک واقعہ شاہ ایران کا سن لیجیے، انھوں نے بتایا: 'شہنشاہ ایران ایک بار کسی پہاڑ سے گر پڑے لیکن کسی گھاٹی میں گر کر موت کے منھ میں جانے کے بجائے کسی نرم جگہ یا پانی میں گرے یوں بچ گئے۔ اس واقعے کی کہانی انھوں نے یہ بیان کی کہ حضرت علی نے انھیں اپنی بانہوں میں لے کر مرنے سے بچا لیا تھا۔‘
’بلوچ معاشرے میں اس قسم کی ہزاروں کہانیاں موجود ہیں جن پر یقین کیا جاتا ہے اور سرداروں کی براردی ان تصورات کے فروغ میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔‘
یہ کہہ کر وہ خاموش ہوئے تو میں نے سوال کیا کہ مثلاً: 'مثلاً ایوب خان کا زمانہ جب نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری تھی۔ اس زمانے میں اسی قسم کا ایک واقعہ معروف ہو گیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کے حکام ایک جگہ کھڑے تھے۔ مری قبیلے کے لوگ بھی تھے۔ سامنے سے گاڑی چلی آرہی تھی۔ گاڑی میں نواب صاحب موجود تھے جو گرفتاری دینے کے لیے خود آرہے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سامنے سے گاڑی آتے آتے اچانک غائب ہو گئی اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ کچھ دیر کے بعد گرفتاری کا مقام گزرنے کے بعد وہی گاڑی اسی راستے پر ایسے جاتی دکھائی دی جیسے گرفتار کرنے والوں کے بیچ سے گزری ہو مگر انھیں کچھ دکھائی نہ دیا ہو۔‘
لوگ اس واقعے پر ایسے یقین کرتے ہیں جیسے یہ ان کا آنکھوں دیکھا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’احترام کی یہی روایت ہے جس کی وجہ سے کوئی بچہ بھی سردار کی پیٹھ کے پیچھے بے ادبی کی کوئی بات کر دے تو اسے تھپر پڑتا ہے کہ آج سردار کے بارے میں ایسا کہتے ہو، کل اللہ رسول کے بارے میں ایسا کہو گے؟ سردار کی مافوق الفطرت زندگی کے بارے میں ان تصورات پر اب بھی یقین کیا جاتا ہے۔
انھوں نے بات مکمل کی۔ بلوچستان کی طلسم ہوش ربا کی طرح پراسرار زندگی میں جدید عہد کے اثرات پہلی بار 1970 کے انتخابات کے پہلو بہ پہلو داخل ہوئے۔ بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ششک کا خاتمہ کردے گی۔ نیپ نے حکومت تو بنالی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اپنا وعدہ پورا نہ کیا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے کے مختلف حصوں میں احتجاج شروع ہو گئے جس میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئیں اور کئی لوگوں کی جان بھی گئی۔
ڈاکٹر مری لکھتے ہیں: ’جب یہ پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو بجائے ششک ختم کرنے کے اس کے سردار ششک کی وصولی کے لیے کاشت کاروں کے خرمنوں پر آن موجود ہوئے۔ کاشت کاروں نے انھیں انتخابی وعدے یاد دلائے، فریادیں کیں، وفود بھیجے، پریس کانفرنسیں کیں مگر نیپ کے سردار اب یہ سب بھول چکے تھے۔‘
یہی زمانہ تھا جب 1972 میں جھالاوان کے علاقوں جھل جھاؤ، کولواہ اور گریشہ کے علاقوں کے کاشتکاروں نے ششک کی ادائیگی سے انکار کیا جس پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔ اس کارروائی میں کریم داد چنال نامی ایک کاشت کار ہلاک ہو گئے جب کہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو آگ لگا دی گئی۔
ان علاقوں کے واقعات کے بعد مکران، کچھی، راڑہ شم اور چاغی میں بھی کسانوں نے مزاحمت شروع کر دی۔ منگوچر نامی مقام پر بھی احتجاج ہوئے جنھیں تشدد سے دبانے کی کوشش کی گئی، ان واقعات میں نو افراد ہلاک کر دیے گئے۔ یہاں بڑے پیمانے پر فصلیں جلانے کے علاوہ کسانوں کے گھر بھی جلائے گئے۔
کسانوں کی ناراضی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اب انھیں ششک کے ساتھ حکومت کا ٹیکس ادا کرنا بھی پڑ رہا تھا، وہ حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی پر تو تیار تھے لیکن ششک دینے میں انھیں تامل تھا۔ یوں کسانوں کا غیض و غضب بڑھتا چلا گیا۔
یہ عین وہی زمانہ تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت تحلیل کی اور بہت سے بلوچ سرداروں کو پیپلز پارٹی میں شامل کر کے اپنی حکومت بنائی۔ یہ اقلیتی حکومت تھی کیوں کہ اس میں حزب اقتدار سات اور حزب اختلاف 14 ارکان پر مشتمل تھی۔
یہی پس منظر تھا جس کی وجہ سے بقول ڈاکٹر مری مقبولیت کے حصول کے لیے اسے کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت تھی۔ کسانوں کی تحریک نے اسے یہ موقع فراہم کر دیا اور اس نے ششک کے خاتمے کا ایک آرڈیننس جاری کر دیا۔ نواب غوث بخش رئیسانی ان دنوں پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت میں شامل تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آرڈیننس اسی طرح سے منظور کیا جائے۔ چنانچہ اس میں ترامیم کر دی گئیں۔ گرفتار کسانوں کی رہائی عمل میں آئی اور ان کی اشک شوئی کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے۔ اس طرح یہ بحران ختم ہوا لیکن شاہ محمد مری سمجھتے ہیں کہ یہ سرگرمیں اصل مسئلے کے حل کے بجائے کسان تحریک کے خاتمے کی ایک کوشش تھی جو کامیاب رہی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کا اگلا قدم سرداری نظام کے خاتمے کا تھا۔ یہ اعلان آٹھ اپریل 1976 کو کیا گیا۔ اس اقدام سے قبل ششک کے خاتمے کا آرڈیننس منظور ہو چکا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا، اس وقت صوبے کی صورت حال بڑی پیچیدہ تھی۔ پہاڑوں پر مزاحمت جاری تھی۔ اس مزاحمت کو کمیونسٹ انقلاب کی کوشش بھی قرار دیا گیا اور حکومت کے خاتمے کے خلاف جدو جہد بھی۔
احمد سلیم نے ’بلوچستان: آزادی سے صوبائی بے اختیاری تک‘ میں لکھا ہے کہ یہ تحریک پی ایف اے آر(بلوچستان میں قومی جبر و استحصال کے خلاف مسلح عوامی مزاحمت) نامی تحریک چلا رہی تھی۔
یہ تنظیم کیا تھی؟ احمد سلیم نے کراچی کے انگریزی ہفت روزہ ’آؤٹ لک' (جسے بھٹو دور میں بند کر دیا گیا تھا) اور ستیش کمار کی کتاب ’نیا پاکستان‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ عناصر نیپ کی اعتدال پسند، آئینی، جمہوری اور پارلیمانی سیاست سے مایوس ہو کر مسلح جدو جہد کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ یوں بلوچستان کی صورت حال نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی۔
بلوچستان میں فوجی آپریشن اور اس کے خلاف مزاحمت کی یہی تحریک تھی جس کی حمایت میں سب سے پہلے افغانستان کے صدر سردار داؤد سامنے آئے۔ انھوں نے سب سے پہلے 27 نومبر 1974 کو اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل کو خط لکھا جس میں انھوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں بلوچوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔
اس کے جواب میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھا کہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور بلوچستان میں کشیدگی کی وجہ سرداروں اور جاگیر داروں کی تخریب کاری ہے۔ حکومت پاکستان نے اس موقع پر یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو تربیت دے کر بلوچستان میں داخل کر رہی ہے۔ اس طرح یہ معاملہ پھیلتا چلا گیا جس کی خبروں کو انڈین ذرائع ابلاغ نے نمایاں جگہ دی۔
نیپ کی حکومت کے خاتمے اور ششک کے خلاف تحریک کے بعد یہ دوسری وجہ تھی جس سے نمٹنے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جس وقت اس نظام کے خاتمے کا اعلان کیا، بلوچستان کی صورت حال دلچسپ تھی۔
بلوچستان کے گورنر ’بیگلر بیگی‘ خانوں کے خان یعنی خان آف قلات تھے۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ ریاست لسبیلہ کے حکمراں جام غلام قادر تھے جبکہ صوبے کے دیگر بڑے بڑے سردار اور نواب جن میں مکران، خاران اور ساواران، جھالاوان جب کہ پشتونوں میں سے جوگیزئی اور باروزئی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے۔ سیاسی اعتبار سے یہ ایک شاندار حکمت عملی ہو سکتی تھی۔
لیکن مؤرخ شاہ محمد مری اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سرداری نظام محض کوئی ٹائٹل نہیں تھا۔ یہ ایک پورا اقتصادی، سیاسی اور سماجی نظام تھا۔ اس کے خاتمے کے لیے ایک متبادل نظام کی ضرورت تھی لیکن بھٹو صاحب نے کوئی متبادل نظام دیے بغیر اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ بھٹو صاحب ایک ہوائی آدمی تھے، ان کی طرف سے سرداری نظام کا خاتمہ بھی ہوائی تھا۔'
کیسے؟ میرے اس سوال پر انھوں نے کہا: وہ ایسے کہ نہ بے زمین کو انھوں نے زمین دی، نہ چرواہے کو چراہ گاہ دی، نہ سڑکیں بنائیں اور نہ صنعت لگائی، بجلی نہ دی۔ یہ نہیں کیا تو پھر غریب بلوچ کا سرداری نظام کے چنگل سے نکلنے کا بھی کوئی سوال نہیں۔‘
’یہ وجہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں آج کا سردار زیادہ طاقت ور ہو چکا ہے۔ اب وہ صرف وڈیرہ اور زمیندار نہیں بلکہ صنعت کار اور سرمایہ دار بھی ہو گیا ہے۔
گویا سرداری نظام بھی اسی طرح قائم و دائم ہے اور کاشت کار ششک جیسا ٹیکس بھی اسی طرح ادا کر کر رہا ہے؟ میں نے سوال کیا۔
'جی بالکل' ڈاکٹر صاحب نے مختصر جوب دیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو گئے تقریباً پچاس سال ہو گئے اس کے بعد تقریباً بیس سال دو فوجی حکمران اقتدار میں رہے اور کئی سیاسی حکومتیں آئی گئیں اور بلوچستان پیکجز کا بھی اعلان ہوا لیکن ان ماہرین کے مطابق صورتحال میں قابل ذکر فرق نہیں آیا۔












