عمران خان اور تحریک عدم اعتماد: نگران حکومت کیا ہوتی ہے، کیسے بنتی ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
- مصنف, بلال کریم مغل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں اتوار کی صبح اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کے بجائے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اسے غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اس کے فوراً بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ پاکستان سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی جنھوں نے اس بارے میں حکم نامہ جاری کر دیا۔
اس سارے معاملے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس تو لیا ہے تاہم تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے آئندہ الیکشن اور اس سے قبل نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بیانات دینے شروع کر دیے ہیں۔
فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اب تک قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کو نگران حکومت کی تشکیل کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے خط لکھا جا رہا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ نگران حکومت کیا ہوتی ہے، کیسے بنتی ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے۔
مبینہ سازش اور اسمبلی کی تحلیل
پاکستانی آئین کے تحت ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ قومی اسمبلی آئین کی شق 58 کے تحت تحلیل کی جا سکتی ہے۔
آئین میں اٹھارہویں ترمیم سے قبل صدرِ مملکت براہِ راست ایسا کر سکتے تھے تاہم اب ایسا صرف وزیرِ اعظم کے مشورے پر ہو سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم عمران خان تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کر رہے تھے جس پر آج ووٹنگ کروانے کی آئینی ڈیڈ لائن تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
27 مارچ کو اسلام آباد میں اپنے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اُن کی حکومت کو ایک دوسرے ملک کی طرف سے تحریری طور پر دھمکی دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیرِ قانون فواد چوہدری نے اسمبلی کی توجہ اس جانب دلائی اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تحریکِ عدم اعتماد کو خارج کر دیں کیونکہ یہ غیر ملکی ایما پر لائی گئی ہے۔
اس کے بعد ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے رولنگ جاری کرتے ہوئے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا اور اس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کر دی جسے صدر نے منظور کر لیا۔
نگران حکومت کا قیام
اب بات آتی ہے کہ عمران خان کی جانب سے نئے انتخابات کروانے اور نگران حکومت کے قیام کی۔
نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو صدرِ مملکت وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِ اعظم تعینات کریں گے۔
تاہم یہ تعیناتی صدرِ مملکت کا اختیار نہیں بلکہ یہ قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم کے اتفاق کے بعد عمل میں آتی ہے۔
اسمبلی تحلیل تو وزیرِ اعظم کون؟
حالانکہ اس وقت قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے لیکن وزیرِ اعظم اب بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں اور اگلے چند روز تک وہ وزیرِ اعظم رہیں گے۔
وہ کم از کم اگلے تین دن تک تو وزیرِ اعظم رہیں گے، اور زیادہ سے زیادہ یہ معاملہ آٹھ سے نو دن پر محیط ہو سکتا ہے۔
ماہرِ قانون سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کا اپنا عہدہ تو ابھی موجود ہے جب تک کہ نگران سیٹ اپ نہیں آ جاتا، تاہم اگر سپریم کورٹ یہ کہے کہ سارا عمل ہی غلط ہوا ہے اور معاملات کو وہیں جانا چاہیے جہاں وہ سپیکر کی رولنگ سے قبل تھے تو پھر تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی اور اس کے بعد جو بھی صورتحال ہو گی اس پر دیکھنا ہو گا۔‘
اور اگر سپریم کورٹ کہتی ہے کہ ہم مداخلت نہیں کرتے تو کیا ہو گا؟
اس سوال پر سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ پھر نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کا طریقہ کار اپنانا پڑے گا۔
آئین کی شق 224 کے تحت اگر اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ختم ہونے والی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم نے باہمی مشاورت سے کسی ایک نام پر متفق ہونا ہوتا ہے۔
اور اس کام کے لیے اُن کے پاس اسمبلی کے تحلیل سے لے کر صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔
ایک بار ان کے نام پر اتفاق ہو جائے تو صدرِ پاکستان اس نام کی منظوری دیتے ہیں اور جب تک نگران وزیرِ اعظم نہ آ جائے، اس وقت تک عمران خان ہی وزیرِ اعظم رہیں گے۔

اگر عمران خان اور شہباز شریف کسی نام پر متفق نہ ہوئے تو؟
پھر یہ معاملہ ایک پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا جو آٹھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔ پر اس وقت قومی اسمبلی تو تحلیل ہو چکی ہے، تو پھر یہ کمیٹی کیسے قائم ہو گی، اس میں کون لوگ شامل ہوں گے، اور یہ بھی اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو؟
آئینی اور پارلیمانی اُمور کے ماہر، اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کے مطابق آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ یہ کمیٹی قومی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر سینیٹ کے ارکان پر بھی مشتمل ہو سکتی ہے۔
اس کمیٹی میں اپوزیشن سے چار اور حکومت سے چار ارکان کی شمولیت ضروری ہوتی ہے اور تحلیل ہو چکی اسمبلی کے سپیکر ہی اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
آئین کی شق 53 کے تحت جب تک نئی اسمبلی میں نئے سپیکر کا انتخاب عمل میں نہ آ جائے، تب تک موجودہ سپیکر اپنے عہدے پر رہیں گے۔
وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر اس کمیٹی کے لیے چار چار ارکان نامزد کرتے ہیں اور پھر اس کمیٹی کے سامنے دو نام وزیرِ اعظم تجویز کرتے ہیں اور دو نام اپوزیشن لیڈر تجویز کرتے ہیں۔
پھر کمیٹی کے پاس اس معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے تین دن ہوتے ہیں۔
اور ماہرین کے مطابق، اگر یہ کمیٹی بھی خود تک معاملہ پہنچنے کے تین دن کے اندر تک فیصلہ نہ کر سکے تو پھر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے جس نے دو دن کے اندر اندر نگران وزیرِ اعظم کے نام کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چنانچہ عمران خان اس وقت تو وزیرِ اعظم پاکستان ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں، اگر سپریم کورٹ اتوار کے اقدامات کو غیر آئینی قرار نہیں دیتی تو بھی اب سے لے کر آٹھ یا نو دن کے اندر عمران خان وزیرِ اعظم نہیں رہیں گے اور پاکستان نئے عام انتخابات کے موسم میں چلا جائے گا کیونکہ نگران حکومت کو 90 دن کے اندر انتخابات کروانے ہوں گے۔
بجٹ کون پیش کرے گا؟
اگر پاکستان میں نگران حکومت قائم ہوتی ہے تو کیا یہ اگلا وفاقی بجٹ بھی پیش اور منظور کرے گی جس نے جون کے دوسرے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش ہونا ہوتا ہے؟
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے معاہدے کے تحت کئی سخت مالی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ضمنی بجٹ جنھیں عرفِ عام میں منی بجٹ بھی کہا جاتا ہے، اکثر نئے حالات کے تناظر میں منظور ہوتے رہے ہیں۔
احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ نگران حکومت کی جانب سے کچھ ماہ کا بجٹ پیش کیا جائے کیونکہ ایسی حکومت کا مقصد بنیادی طور پر انتخابات کروانا ہوتا ہے تاہم آئین کے تحت بجٹ پیش کیا جانا لازم ہے۔
آئین کی شق 86 کے تحت اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے تو وفاقی حکومت مالی سال کے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے لیے اخراجات کی منظوری دے سکتی ہے۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق اس حوالے سے آئین میں کوئی قدغن نہیں ہے کہ نگران حکومت بجٹ نہیں پیش کر سکتی کیونکہ بہرحال ریاست کے مالی معاملات جاری رہنے ہوتے ہیں۔












