کاریز: زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے پانی کی منتقلی کا ہزاروں سال پرانا نظام

کاریز
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

کیا آپ کو آبپاشی کے کسی ایسے نظام کے بارے میں جانکاری ہے جو ہزاروں سال پہلے بنایا گیا۔ لیکن بنانے پر اخراجات کے بعد ان کو چلانے کے لیے ان پر نہ بجلی اور نہ ہی تیل کے مد میں اخراجات ہوئے ماسوائے صفائی اور مرمت کے اخراجات کے۔

اس سوال کے بعد شاید آپ کے ذہن میں فوری طور پر دریاﺅں سے نکالے جانے والے نہری نظام یا پھر چشموں کے پانی سے کچے یا پختہ نالیوں کے ذریعے آبپاشی کا کوئی نظام آئے گا لیکن یہ وہ نظام بالکل نہیں ہے۔

آبپاشی کا یہ نظام اب بھی بلوچستان کے صرف چند علاقوں میں ہے لیکن چھ سات دہائیاں قبل کے مقابلے میں یہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلوچستان کے ایک تحقیق کار سیف اللہ سرپرہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے آبپاشی کے اس نظام کو ایک عالمی ورثہ قرار دیا ہے، لیکن ہمارے ہاں عدم توجہی کے باعث ماضی کے مقابلے میں یہ نظام آخری سانسیں لے رہا ہے اور یہ اب بمشکل صرف دو فیصد رہ گیا ہے۔

آبپاشی کا یہ سستا ترین نظام آخر ہے کیا؟

کاریز

آبپاشی کا یہ نظام کاریز کہلاتا ہے۔ یہ زیر زمین سرنگوں کے ذریعے پانی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا نظام ہے جو بلوچستان کے چند علاقوں میں اب بھی قائم ہے۔

کاریز کسی علاقے میں ایک فرد کا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس علاقے میں پوری برادری کا ہوتا ہے اور زمانہ قدیم میں ایک علاقے میں رہنے والے تمام لوگ اسے مل کر بناتے تھے۔

کاریزات کے بارے میں تحقیق کرنے والے سیف اللہ سرپرہ کا کہنا ہے کہ کاریزات کا نظام جنوبی ایران میں اندازاً تین ہزار سال پہلے آبی انجنیئرز نے متعارف کرایا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آبپاشی کا یہ نظام اب بھی دنیا کے 22 ممالک میں رائج ہے۔ کاریز کا نظام کیسا ہے اور بجلی اور تیل کے بغیر اس نظام کے ذریعے کئی کلومیٹر دور پانی کو کیسے منتقل کیا جاتا ہے؟

کاریز کے لیے پانی کا ذریعہ پہاڑوں کے دامن یا اونچے مقام پر ہوتا ہے۔ جہاں قابل کاشت اراضی ہوتی تھی وہاں تک پانی کو لے جانے کے لیے بڑی تعداد میں کنویں کھودے جاتے تھے۔

کاریز

یہ کنویں ایک دوسرے سے ایک خاص فاصلے پر بنائے جاتے تھے اور پانی کو ڈھلوان تک لے جانے کے لیے ان کو سرنگ کے ذریعے منسلک کیا جاتا تھا۔

ڈھلوان تک پانی کو لے جانے کے لیے ان کنوؤں کی گہرائی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی تھی۔

اس طرح پانی کو پمپنگ کے بغیر آبپاشی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے لیے اونچے مقام سے کئی کلومیٹر دور نیچے مقام تک پہنچایا جاتا تھا۔

ان کنوﺅں کے ذریعے نہ صرف سرنگوں کو با آسانی صاف کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ سرنگ میں بہنے والے پانی کو روشنی اور تازہ ہوا کی فراہمی کا بھی ذریعہ ہیں جن کے باعث یہ پانی ابتدائی کنوئیں سے تالاب تک پیورویفائی شکل میں منتقل ہوتا ہے۔

’زیر زمین نظام کی وجہ سے گرمیوں میں پانی ٹھنڈا رہتا ہے اوربخارات کی شکل میں نہیں اڑتا۔‘

بلوچستان میں مجموعی طور پر کتنے کاریز تھے اور اب کتنے باقی رہ گئے ہیں؟

کاریز

سیف اللہ سرپرہ کی تحقیق کے مطابق بلوچستان میں اس نظام کو مغلوں نے متعارف کرایا تھا تاہم بعد میں ایرانیوں نے اس میں مزید بہتری لائی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بجلی اور تیل کے انجن وغیرہ نہیں تھے تو بارانی علاقہ ہونے کی وجہ سے کاریزوں کا یہ نظام بلوچستان کے اکثر علاقوں میں آبپاشی اور پانی کے حصول کا بڑا نظام تھا۔

انھوں نے بتایا کہ چھ سات دیہائی قبل بلوچستان میں چھ ہزار کاریز تھے جن میں سے 98 فیصد خشک اور ختم ہو گئے ہیں۔

انھوں نے ان کے خشک ہونے کی سب بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی اور برقی ٹیوب ویلوں کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انگریز یہاں تھے تو انھوں نے کاریزوں کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے ان کے علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دیا تھا تاکہ ان کے قریب کوئی ٹیوب ویل وغیرہ نہ لگا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ انگریزوں نے آبپاشی کے اس سستے اور آلودگی سے بالکل پاک نظام کو بچانے کے لیے اقدامات تو کیے لیکن ان کے بعد ایسا نہیں ہوا جس کے نتیجے میں لوگوں نے ان کے اردگرد برقی ٹیوب لگا دیے جس کی وجہ سے ان کا پانی خشک ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشیں کم ہونے کی وجہ سے بھی یہ خشک ہو گئے اور اس طرح لوگ آبپاشی اور پانی کے حصول کے ایک سستے ذریعے سے محروم ہو گئے۔

کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کاریزوں کے نظام کی تباہی کی ایک واضح مثال

کاریز

مستونگ ضلع کوئٹہ سے متصل بلوچستان کا ایک اہم ضلع ہے۔

سیف اللہ سرپرہ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مستونگ میں چھ سات دہائی پہلے 360 کے قریب کاریز تھے اور پورے ضلع میں زراعت کا انحصار انہی کاریزوں پر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پورے ضلع میں اتنی بڑی تعداد میں کاریزوں میں سے صرف دو تین باقی رہ گئے ہیں جبکہ باقی تمام خشک ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضلع کی تحصیل کردگاپ میں ایک زمانے میں 60 کے قریب کاریز تھے جن میں سے صرف ایک رہ گیا اور وہ بھی لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت اب تک قائم ہے۔

تحصیل کردگاپ میں بچ جانے والا واحد کاریز کہاں ہے اور یہ کب بنا؟

یہ کاریز ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ کے علاقے آباد میں واقع ہے۔

اس کاریز کے پانی سے مستفید ہونے والے آغا حیسن شاہ کے مطابق یہ کاریز اندازاً ساڑھے تین سو سال پہلے بنائی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کاریز کو اپنی مدد آپ کے تحت برقرار رکھا ہے کیونکہ یہ ان کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے اس کاریز کی مناسب صفائی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس کا دو حصہ پانی ختم ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں اب جو پانی بہہ رہا ہے وہ تین انچ ہے اور اگر حکومت اس کی صفائی اور اس کی بہتری کے لیے تعاون کرے تو اس کا پانی چھ انچ تک ہو جائے گا اور اس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آبپاشی کا ایسا نظام اب کوئی نہیں بنا سکتا۔ اب ہم لوگوں سے اس کی مناسب انداز سے صفائی نہیں ہوتی لیکن معلوم نہیں کہ وہ کیسے انسان تھے جنھوں نے کم وسائل کے باجود اس نظام کو بنایا تھا۔‘

کاریزات کا نظام عالمی ورثہ قرار

کاریز

سیف اللہ سرپرہ نے بتایا کہ کاریزات کے خشک ہونے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے آبی ذخائر کو کس طرح برباد کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے کاریزات کو عالمی ورثہ قرار دیا ہے اور وہ ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایک مضمون میں یہ پڑھا کہ یونیسکو ایران میں آٹھ ہزار کاریزات پربراہ راست کام کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ بلوچستان میں بھی کاریزوں کی جانب یونیسکو اور دیگر عالمی امدادی اداروں کی توجہ مبذول کرائے تاکہ ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے اقدامات ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ورلڈ بینک نے کاریزوں کی بحالی کے لیے چند سال قبل تین ارب کی گرانٹ جاری کی تھی جس کے تحت آباد کے علاقے میں اس کاریز کی سرنگوں کو پختہ کیا گیا اور کنوﺅں کو سیلابی پانی سے محفوظ بنانے کے لیے ان کے اردگرد اینٹیں لگائیں گئیں۔

سیف اللہ سرپرہ نے کہا کہ جس طرح پوری دنیا میں اس نظام کو بچانے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں اسی طرح ہماری ریاست کو بھی کاریزات کے نظام کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔