چکوال کے حمزہ فرخ: بچپن میں جب آلودہ پانی سے بیمار ہوا تو سوچا کہ ان بچوں کا کیا ہو گا جن کے پاس سہولیات نہیں

،تصویر کا ذریعہHamza Farrakh
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’گذشتہ چند برسوں میں تقریباً پچاس ہزار لوگوں کو آلودگی سے پاک پانی کی سہولت فراہم کی ہے مگر ہمارا مقصد ہر بچے اور شہری تک صاف پانی پہنچا کر بیماریوں اور اموات کی شرح کو کم کرنا ہے۔‘
یہ کہنا تھا 129واں دولت مشترکہ پوائنٹ آف لائٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے بوند شمس تنظیم کے حمزہ فرخ کا، جن کی خدمات کو ملکہ برطانیہ نے بھی سراہا ہے۔ حمزہ فرخ کو اسلام آباد میں برطانوی سفارتخانے کی ایک تقریب میں برطانوی ہائی کمشنر نے ایوارڈ سے نوازا ہے۔
حمزہ فرخ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں مجموعی طور پر 16 جبکہ مغربی سوڈان میں بھی صاف پانی فراہم کرنے کے پراجیکٹ کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا متاثرین کی بستیوں کے لیے یہ پراجیکٹ زیر تکمیل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
حمزہ فرخ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ صاف پانی سے محروم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ بہت بڑی تعداد ہے جو اس وقت خطرے کا شکار ہے۔ ان کو خطرے سے باہر لانے کے لیے میں اور میری تنظیم نے دن رات ایک کر رکھا ہے او وہ وقت دور نہیں جب ہر پاکستانی صاف پانی استعمال کر رہا ہو گا۔‘
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہزاروں پاکستانیوں کو صاف پانی فراہم کرنے کی خدمات انجام دینے والے حمزہ فرخ کو ایوارڈ پیش کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
’حمزہ فرخ کی خدمات نے معاشرے پر مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ دوسروں کی زندگیوں پر مثبت اثرات ڈالنے پر ملکہ برطانیہ نے بھی حمزہ فرخ اور بوند شمس کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہHamza Farrakh
’بچپن میں خود آلودہ پانی سے متاثر ہوا تھا‘
حمزہ فرخ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال سے ہے۔ حمزہ فرخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد فوج میں ڈاکٹر ہیں۔ جس وجہ سے ضلع چکوال کے آبائی علاقے جوڑ میں رہنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔
’بچپن میں اپنی دادی کی وفات پر میں کافی دن چکوال رہا اور وہاں پر آلودہ پانی پینے کی وجہ سے شدید بیمار ہو گیا تھا۔ مجھے تو میرے والد کی وجہ سے ہر قسم کی مدد حاصل ہو گئی تھی مگر میں ںے اسی وقت ہی یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ جن بچوں کے پاس کوئی مدد دستیاب نہیں ان کا کیا ہو گا۔‘
حمزہ فرخ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ اپنی تعلیم میں مصروف ہو گئے، اے لیول کے امتحان میں سکالرشپ حاصل کیا اور اپنی پسند سے امریکہ کے بہترین کالج ولیمز کالج میں داخلہ لیا۔
’وہاں پر دوران تعلیم انڈر گریجویٹ طالب علموں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں تنازعات کے حل کے لیے دس ہزار ڈالر تک امداد فراہم کی جاتی ہے۔ میں نے بھی اس کے لیے درخواست دی مگر مجھے کہا گیا کہ پانی کا مسئلہ تنازعہ نہیں ہے۔ جس پر میں نے انھیں سمجھایا کہ یہ بھی تنازعہ ہے۔‘
حمزہ فرخ کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں بتایا کہ پاکستان کی غریب بستیوں میں صاف پانی غریب لوگوں کے لیے دستیاب نہیں۔ ایک غریب کا بچہ صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بنیادی تعلیم کا حصول بھی مشکل ہوتا ہے۔ جس پر انھوں نے میری رائے سے اتفاق کیا۔‘
حمزہ نے بتایا کہ انھوں نے مجھے یہ امداد فراہم کی اور اس امداد سے میں نے اپنے علاقے کے لیے صاف پانی کا پراجیکٹ شروع کیا کیونکہ بچپن میں شدید بیمار ہونے کی تلخ یادیں ابھی بھی میرے دماغ میں چل رہی تھیں۔
’میں چاہتا تھا کہ میرے علاقے کے لوگ اور بچے صاف پانی تک رسائی حاصل کر سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہHamza Farrakh
یہ پراجیکٹ ابھی بھی جوڑ چکوال میں بڑی کامیابی سے چل رہا ہے اور وہاں پر بچوں کو اب آلودگی سے صاف پانی دستیاب ہے۔
حمزہ فرخ کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کی کامیابی نے میرے حوصلے بلند کر دیئے۔ ’میں نے باقاعدہ طو ر پر اس کے لیے امداد حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ جس کے لیے شروع میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں پر انحصار کرتا تھا مگر تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب دنیا کے بڑے عالمی بینک میں ملازمت شروع کی تو میرا نیویارک سے لندن تبادلہ ہو گیا۔‘
’اس دوران بینک نے دنیا بھر میں امداد دینے کے لیے مختلف رضا کار تنظیموں سے درخواستیں طلب کی تھی۔ جس میں سینکٹروں تنظیموں نے درخواستیں دیں۔ ہم نے بھی درخواست جمع کروائی تھی۔‘
’اس میں پہلے ہمیں تیس کی فہرست میں شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اس کے بعد ہمیں تقریبا ڈیرھ لاکھ ڈالر جو کہ تقریباً دو کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں، کی امداد ملی۔‘
حمزہ فرخ کا کہنا تھا کہ اس امداد سے انھوں نے پاکستان کے صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں پراجیکٹ شروع کرنے کے علاوہ مغربی سوڈان میں بھی پراجیکٹ کیے، ان کو مکمل کیا جس سے اب آبادیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ جس پر انھیں سنہ 2018 میں فوربز کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
حمزہ فرخ کا کہنا تھا کہ انھیں ابتک کم از کم تین بڑے عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ’ہم نے صاف پانی کے پراجیکٹ کو اب صرف پاکستان تک ہی نہیں رکھا بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں پھیلا دیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’پاکستان میرا وطن ہے، یہاں پر کام کرنے میں کچھ مسائل موجود ہیں۔ جب کچھ حکام سے بات چیت کی تو انھوں نے کوئی مدد فراہم کرنا تو کیا کوئی خاص رد عمل بھی نہیں دیا مگر میں اس رویے سے مایوس نہیں ہوا اور کام جاری رکھا۔
’جس کے نتیجے میں اب ہم کم از کم پچاس ہزار لوگوں کو صاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔ آنے والے دونوں میں ہم اس تعداد کو لاکھوں میں لے جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہBritish High Commission Islamabad
بوند شمس کیا ہے؟
بوند شمس تنظیم کا آغاز حمزہ فرخ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سنہ 2014 میں اس وقت کیا جب وہ تعلیم کے سلسلے میں امریکہ میں موجود تھے۔
آغاز میں یہ تنظیم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں مقامی آبادیوں کو صاف پانی کی سہولت فراہم کرتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی خدمات کا دائرہ کار مغربی سوڈان کے علاوہ دیگر غریب ممالک تک پھیلا دیا۔
بوند شمس اپنے پراجیکٹ کو سولر پاور کے ذریعے سے چلاتی ہے۔ جس میں کنٹینر کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں نصب پلانٹ سولر انرجی سے چلتا ہے۔ جس میں پانی کو فلٹر کرنے والے جدید ترین پلانٹ نصب کرنے کے علاوہ اس میں مختلف قسم کے سینسرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کنٹینرز کے نیچے ٹائر لگائے جاتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کو کسی بھی ایسے مقام پر نصب کیا جاتا ہے، جہاں سے مقامی آبادیاں پانی حاصل کرتی ہیں۔ سینسرز کے ذریعے سے اس کا مکمل ریکارڈ موجود رہتا ہے۔
حمزہ فرخ کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ کار جدید ترین ہونے کے علاوہ کم قیمت ہے اور ان کنٹینرز کو لمبی مد ت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔









