عمران خان کی ’ان سوئنگ یارکر‘ کی دھمکی، اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل، الیکشن کمیشن اِن ایکشن

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جمعے کو خیبرپختونخوا کے علاقے دیر میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اپوزیشن پر کڑی تنقید کی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ حزب اختلاف کے تین بڑے رہنماؤں کی وکٹ صرف ایک ’ان سوئنگ یارکر‘ سے گرائیں گے۔ تاہم ان کا یہ دورہ ایک تنازع کا بھی موضوع بن گیا۔
واضح رہے کہ دیر ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد 31 مارچ کو ہو رہا ہے۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کوئی بھی عوامی عہدیدار (ایگزیکٹو اتھارٹی) ان علاقوں کا دورہ نہیں کر سکتا جہاں انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہو۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر جمعے کو ہی الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں وضاحت کے لیے 14 مارچ کو طلب کر لیا۔
تاہم اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے مطابق الیکشن کمیشن صدراتی آرڈیننس کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور وزیر اعظم کو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کا مانیٹرنگ افسر ایسی خلاف ورزی کی صورت میں نوٹس جاری کرتا ہے اور اگر دوبارہ بھی خلاف ورزی کی جائے تو پھر الیکشن کمیشن مزید سخت کارروائی بھی عمل میں لا سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق کسی بھی آرڈیننس سے زیادہ آئین سپریم ہے اور پھر الیکشن کمیشن کا 2017 کا اپنا ایکٹ بھی واضح ہے۔ ان کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ 22 سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا تھا، جس میں تحریک انصاف سے بھی مشاورت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے ایگزیکٹو اتھارٹی پر دورہ کرنے کی پابندی کی مخالفت کی تھی۔
جانور نیوٹرل ہوتا ہے، جانور میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی: عمران خان کا خطاب
دیر میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’اللہ نے ہمیں اجازت ہی نہیں دی کہ ہم نیوٹرل ہوجائیں، جانور نیوٹرل ہوتا ہے، جانور میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔‘ عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے پوچھا کہ ’یہ ڈاکوؤں کا گلدستہ فوج کو ٹھیک کرے گا؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر اپنے ردعمل میں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 'وہ کہتا ہے کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، کل ہی آئی ایس پی آر نے بیان دیا، تو آج کا بیان اس کا ردعمل ہوسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے درمیان جمعے کو ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان پر خوب تنقید کی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم اسٹیبلشمنٹ کو غیر جانبداردیکھنا چاہتے ہیں، ہم بھی ان سے مدد کے خواہاں نہیں ہیں۔ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں گے تو پاکستان آگے بڑھے گا۔‘ مقامی ٹی وی چینل جیو کو ایک انٹرویو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ انھیں ’اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری کا یقین ہے۔‘
ان کے مطابق ’قوم کی نجات کے دن قریب آگئے ہیں،جب رات کو قوم کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دی تو ایک گھنٹے سے کم وقت میں ملک جام ہوگیا۔‘
شہبازشریف نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'تم جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہو اس کی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں، میں تمھیں خبردار کرتا ہوں کہ اپنی زبان پر لگام ڈالو ورنہ ہمیں لگام ڈالنا آتا ہے۔‘
اپوزیشن لیڈر نے عمران خان سے سوال کیا کہ 'تم کہتے ہو شہباز شریف بوٹ پالش کرتا ہے، تم کیا کرتے ہو؟ ہماری فوج نے قربانی دی اور تم نے لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی، مشرف نے ہماری حکومت گرائی تو اس دوران میں مختلف جیلوں میں رہا اور جلاوطنی بھی اختیار کی۔‘
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ’ہم جمہوری اور سیاسی طور پر مقابلہ کریں گے، اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، آئین کے مطابق پارلیمان کے ذریعے نیازی کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حرام حرام کی باتیں کر رہے ہو، تم اے ٹی ایم کے پیسوں کا حرام کھاتے رہے ہو، سب جانتے ہیں کہ بنی گالہ میں کیا ہوتا ہے، تم ڈی چوک آنا چاہتے ہو تو آؤ ہم تمہیں ناکوں چنے چبوائیں گے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ کی زبان بتا رہی ہے کہ آپ وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان کی بدزبانی ثبوت ہے کہ وہ ہار رہے ہیں۔ ’عدم اعتماد کے وقت جلسے میں فوج کا حوالہ دینا افسوسناک اور مایوس کن ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کیا آپ نے کبھی سنا کہ جیتنے والا کپتان مخالفین سے بدتمیزی کرے۔‘
آرمی چیف نے فضل الرحمٰن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا: عمران خان
دیر میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں فضل الرحمٰن کو 'ڈیزل' کہنے سے منع کیا ہے۔ جلسے میں عوام کی جانب سے ’ڈیزل ڈیزل‘ کے نعروں پر عمران خان نے کہا کہ ’ابھی میری جنرل باجوہ سے بات ہو رہی تھی، انھوں نے کہا ہے کہ فضل الرحمٰن کو ڈیزل نہ کہیں۔ لیکن جنرل باجوہ میں تو انھیں نہیں کہتا البتہ عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ہے۔‘
خیال رہے کہ وزیر اعظم جلسے سے قبل کامرہ میں چین سے حاصل کیے گئے چھ 'جے 10 سی' لڑاکا طیاروں کی پاکستان فضائیہ میں شمولیت کی تقریب میں شریک ہوئے تھے جہاں ان کی آرمی چیف سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں مزید کیا باتیں ہوئیں، وزیراعظم نے تفصیلات نہیں بتائیں۔
اپنے خطاب میں عمران خان نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یہ تینوں (مسلم لیگ ن، پی پی پی، جے یو آئی ف) 30 سے 35 سال سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر آج ہمارے سبز پاسپورٹ کی دنیا میں عزت نہیں تو یہ ان تینوں کی وجہ سے ہے کیونکہ انھوں نے ہمارے ملک کو مقروض کیا اور بڑی بڑی عالمی طاقتوں کے سامنے جھکے۔‘
عمران خان نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تین چوہے میرے شکار پر نکلے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
ان کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2018 میں پاکستان میں ’400 ڈرون حملے ہوئے، ہمارے شہری، عورتیں، بچے اور بے قصور مارے گئے، یہ زرداری اور نواز شریف اقتدار میں تھے لیکن انھوں نے ایک مرتبہ اس حملے کی مذمت نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان دونوں نے اس لیے مذمت نہیں کی کیونکہ ان کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے انھوں نے اپنے شہریوں پر ہونے والے ظلم کی مذمت نہیں کی، صرف ان کی جماعت ان حملوں کے خلاف مظاہرے کر کے ان کی مذمت کررہی تھی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’جس جماعت کے بھی سربراہ کا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہو وہ کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنائے گا، وہ کبھی ایسی پالیسی نہیں بنائے گا جس سے وہ اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہمارے اسلامی ممالک میں تباہی آئی ہوئی ہے، جب ایک ملک کے پاس اپنی حفاظت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی تو وہ آزاد نہیں رہ سکتے، اس لیے اگر آج ہمارے دشمنوں نے ملک کو توڑا نہیں تو اس کی وجہ ہماری فوج ہے، مسلمان دنیا میں ہماری سب سے طاقتور فوج ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ڈیزل نے کہا ہے کہ ہم ادارے ٹھیک کریں گے۔۔۔ آپ نے سارے ادارے تباہ کر دیے ہیں۔ عدالتوں پر حملہ کیا، ججز کو خریدا، ڈنڈوں سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھگایا، ٹیلیفون کال کر کے ججوں سے فیصلے لیے، میڈیا میں لفافہ صحافت شروع کی اور رشوت دی۔‘
انھوں نے نواز شریف کا نام لیے بغیر ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی، سیاستدانوں کی قیمتیں لگائیں ، اس آدمی نے لفافہ صحافت شروع کی، آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کو بی ایم ڈبلیو گاڑی سے رشوت دینے کی کوشش کی تو وہ آج فوج کو ٹھیک کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ’کشمیریوں پر ظلم کرنے والے انڈین وزیر اعظم مودی کو شادی پر بلایا، تو کیا یہ فوج ٹھیک کریں گے یا وہ ڈیزل جس نے امریکی سفیر کے پاس بیٹھ کر کہا کہ میں آپ کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں مجھے بھی ایک موقع دے دیں، یا وہ آصف زرداری پاکستانی فوج کو ٹھیک کرے گا جو میموگیٹ میں امریکیوں کو خط لکھتا ہے کہ مجھے اپنی فوج سے بچا لو، کیا وہ فوج کو ٹھیک کرے گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’کیا شہباز شریف فوج کو ٹھیک کرے گا جو یہ کہتا ہے کہ عمران خان نے بہت غلط کیا کہ یورپی یونین کی مذمت کی، یہ بھی ٹائی سوٹ پہن کر ان سے کہتا ہے کہ مجھے موقع دیں، میں آپ کی بڑی اچھی خدمت کروں گا۔‘
اپوزیشن کی تحریک عدم کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے وہ کیا جس کی کپتان اللہ سے دعا کررہا تھا کہ یہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں کیونکہ ہر تھوڑے دن بعد سنتے تھے کہ دھرنا دینے آ رہے ہیں، حکومت اگلے مہینے جا رہی ہے، شکر ہے کہ آپ نے تحریک عدم اعتماد لا کر ایک ہی مرتبہ مجھے موقع دیا کہ میں ایک ان سوئنگ یارکر سے تینوں کی وکٹ گراؤنگا۔‘
انھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے ایک دن پہلے ’ساری قوم دیکھے گی کہ ڈی چوک میں انسانوں کا سمندر ہو گا۔‘
عمران خان کے مطابق ’میرا مقابلہ ان تین ڈاکوؤں سے ہے، یہ تینوں ڈاکو مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں، یہ کہتے ہیں عمران خان اگر تم ہمارے کرپشن کے کیس بند نہیں کرو گے تو ہم تمھاری حکومت گرا دیں گے، میں ان کو کہتا ہوں حکومت گرانا تو میرے لیے آسان چیز ہے، مجھے اپنی جان بھی دینی پڑے تو میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا، میں ان کے خلاف جہاد کررہا ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ق لیگ کے تحفظات دور کر دیے گئے، فواد چوہدری کا دعویٰ، طارق بشیر چیمہ کی تردید
جمعے کو تحریک انصاف حکومت کی اتحادی جماعت ق لیگ نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں اسلام آباد میں ایک طویل مشاورتی بیٹھک کی۔
ق لیگ نے ابھی تک اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے مگر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ق لیگ کے تحفظات دور کردیے ہیں، ق لیگ اور پی ٹی آئی اتحادی اور ایک سوچ رکھتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ علیم خان اور جہانگیر ترین کو پی ٹی آئی کا حصہ تصور کرتے ہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ’ایک انار اور سو بیمار والا حال ہے۔‘
فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ملاقات میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے ایک متنازعہ آرڈیننس پر بات ہوئی تھی اور تحریک عدم اعتماد پر نہ کوئی بات ہوئی اور نہ فواد چوہدری کو ق لیگ کی طرف سے بیان جاری کرنا کا کوئی اختیار حاصل ہے۔
طارق بشیر چیمہ کے مطابق اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں اور اس بات کے امکانات پائے جاتے ہیں کہ ان کی جماعت کسی بھی طرف جا سکتی ہے۔
سیاسی انتشار پیدا کرنے والے ناکام و نامراد رہیں گے: عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہPunjab Govt
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جمعے کو ناراض ایم پی اے غضنفر چھیمہ گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی سے ملاقات کی۔ ان میں سے دو اراکین کا تعلق ترین گروپ سے ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز ترین گروپ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ان کے کسی رکن کی ملاقات وزیر اعظم سے ہوئی ہے۔
عثمان بزدار نے اراکین صوبائی اسمبلی کو بتایا کہ پارٹی میں اختلافات پیدا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی اور سیاسی انتشار پیدا کرنے والے ناکام و نامراد رہیں گے۔
ان کے مطابق اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو عبرتناک شکست ہو گی کیونکہ ’اپوزیشن صرف اقتدار کی ہوس میں مبتلا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ترقی کے سفر میں کسی کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔‘
علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات کی خبریں، ترجمان کی تردید
مقامی چینل جیو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ترین گروپ کے رہنما اور سابق وزیر علیم خان نے لندن میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی ہے۔
تاہم علیم خان کے ترجمان نے اس ملاقات کی کی تردید کی ہے۔ علیم خان کے ترجمان میاں خالد محمود کا کہنا تھا کہ علیم خان کی لندن میں نوازشریف یا جہانگیر ترین سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔










