اجلاس، ملاقاتیں، اور دعوے: اسلام آباد اور لاہور میں آخر ہو کیا رہا ہے

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

'تحریک عدم اعتماد اڑتالیس گھنٹے میں آ جائے گی'۔ 'بہتر گھنٹے گزر گئے ابھی تک تحریک نہیں آئی'۔

'اسٹیبلشمنٹ اس بار نیوٹرل ہے'۔ 'اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک صفحے پر ہیں'۔

'تحریک ایک عالمی اسپانسرڈ منصوبہ ہے۔۔۔'

اور نہ جانے کیا کیا بیانات ہیں جو نیوز چینلز کی سکرینوں پر چوبیس گھنٹے چل رہے ہیں۔ ایک بیان سکرین سے ہٹتا نہیں کہ دوسرا آ جاتا ہے۔ اور اس تمام کنفیوژن کے بیچ عوام ہیں جو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر اسلام آباد میں ہو کیا رہا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کا دارالخلافہ لاہور آج دن بھر سیاسی سرگرمیوں کے مرکز بنے رہے۔

اجلاس، ملاقاتیں، دعوے اور بیانات کا سلسلہ تو اس دن سے جاری ہے جب چند ہفتے قبل اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اعلان کیا تھا کہ اب وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کو تیار ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نمبر گیم ابھی بھی پوری نہیں ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم نے گذشتہ ماہ 11 فروری کو حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کی حلیف جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے کہ وہ حکومت کی حمایت ختم کریں۔

ایک دوسرے کی پارٹیاں توڑنے کے دعوے تو دونوں جانب سے ہی کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسلم لیگ ن کے رہنما کہتے ہیں کہ ان کے پاس پی ٹی آئی کے ممبران کی وفاداری ہے اس لیے انہیں اتحادی جماعتوں کی بھی ضرورت نہیں۔ پی ڈیم ایم کے پلیٹ فارم میں شامل پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کا ماننا ہے کہ اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ہی تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس بھی مطلوبہ حمایت آ گئی ہے۔

مگر حکومتی وزرا یہ دعوی کر رہے ہیں کہ دراصل ان کے ساتھ اپوزیشن کے اراکین مل گئے ہیں۔

ایک طرف قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اب وزیراعظم کے گھبرانے کا وقت شروع ہو گیا ہے تو دوسری جانب وزیراعظم نے پوچھا ہے کہ تحریک ناکام ہو گئی تو کیا آپ تیار ہیں اُس کے لیے جو میں آپ کے ساتھ کروں گا؟

آج اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ملاقات کی اور حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی۔

ملاقات سے قبل مولانا فضل الرحمان اور خورشید شاہ نے میڈیا سے بھی بات کی۔ انھوں نے اسمبلی میں حمایت کے لیے اراکین کی مطلوبہ تعداد کے حوالے سے کہا کہ ان کے پاس ‘حوصلہ افزا معلومات‘ ہیں اور یہ کہ 'قوم کی امنگوں کے مطابق فیصلہ ہوگا۔'

مولانا فضل الرحمان سے جب تحریک کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘عدم اعتماد کامیاب ہو یا نہ ہو، یہ سب سیاسی عمل ہے۔ ایک آئینی استحقاق ہے۔ ہم سجھتے ہیں کہ کامیابی کا پہلو یقینی نظر آ رہا ہے۔‘

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ‘آج شام کو میٹنگ میں سب طے ہو جائے گا۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم اس مشاورتی اجلاس میں بھی تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ‘تحریک سے متعلق کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے اور تمام اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ سپیکر کے کردار سے متعلق آج قانونی ماہرین بیٹھے تھے اور یہ کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر غور کیا ہے۔ اس موقع پر اکرم درانی نے کہا کہ ‘آئندہ ایک دو روز میں سب کچھ معلوم ہوجائے گا، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تاریخ کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔‘

بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ پہلے تحریک عدم اعتماد وزیراعظم کے خلاف لانی ہے یا سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ریاستی طاقت استعمال کر کے دوسری جماعتوں کو توڑنے کی کوشش کرنے والے وزیراعظم کا ایک ایک لمحہ اراکین کی منتیں کرنے میں گزر رہا ہے۔'

ان تمام بیان بازیوں میں حکومتی وزرا بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید نے آج اسلام آباد میں میڈیا سے بات کی اور کہا کہ 'اپوزیشن سپیکر کے خلاف عدم اعتماد لائیں یا وزیراعظم کے خلاف، ناکامی ان کا مقدر ہے۔' انہوں نے کہا کہ 'عمران خان جیت گیا تو چھوڑے گا نہیں، ہار گیا تو گھر نہیں بیٹھے گا۔'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی میلسی میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ 'جب آپ کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی تو کیا آپ تیار ہیں اُس کے لیے جو میں آپ کے ساتھ کروں گا؟'

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'وہ جو بھی کریں گے میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔'

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ درپیش ہو۔ گذشتہ چار سالوں میں متعدد بار وہ مشکل صورتحال میں پھنستے رہے ہیں۔

مگر بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سے قبل انہیں مشکل سے نکالنے کی ذمہ داری کسی اور کے سر تھی۔ اس بار ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو خود ہی ہاتھ پیر مارنے پڑ رہے ہیں۔

صحافی محمل سرفراز نے اس بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ 'عمران خان اور ان کے ساتھی اس بار پریشان اس لیے ہیں کہ اس سے پہلے ہر مشکل میں اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا اس بار واضح تو نہیں ہے کہ اب وہ کس کے ساتھ ہیں، کہیں کوئی اشارہ نظر نہیں آ رہا۔ مگر حکومت کی پریشانی سے یہ تاثر ضرور مل رہا ہے کہ حالات پہلے کی طرح موافق بھی نہیں ہیں۔'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب آج لاہور میں ہی حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہیٰ سے صوبائی وزرا نے ملاقات کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی نے تحریک انصاف کی قیادت کو 'بڑے سیاسی فیصلے' لینے کا مشورہ دیا۔ ان سے یہ بیان بھی منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کے صوبائی وزرا کو کہا ہے کہ حالات تیزی سے حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں اور یہ کہ 'جو پہلے فیصلہ لیتا ہے سیاست میں اس کو برتری حاصل ہو جاتی ہے۔'

پنجاب میں یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ عثمان بزدار کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما علیم خان نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت پنجاب کی کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کردیا۔

لاہور میں جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پنجاب میں طرز حکمرانی پر تشویش ہے۔ 'آج پنجاب میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرز کی حکمرانی ہے اور جس طریقے سے حکومت کا کاروبار چل رہا ہے، پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں اور پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں کو اس میں تشویش ہے۔' انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں مل کر فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا کرنا ہے۔