آپ کی تجوری میں پڑا سونے کا بسکٹ کیسے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان کی وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والی اکنامک ایڈوائزری کونسل میں ملک کے عوام سے سونا لے کر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ایک تجویز پر گذشتہ دنوں غور کیا گیا۔
اس تجویز کے تحت حکومت لوگوں سے سونے کے بسکٹ حاصل کر کے ان کے مالکان کو ایک سرٹیفکیٹ دے گی اور اس سونے کے بدلے میں انھیں ایک خاص شرحِ منافع دیا جائے گا۔
یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کو درآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے۔
ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کو برآمدات، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری اور اس کے ساتھ غیر ملکی مالیاتی اداروں اور دوسرے ممالک سے حاصل ہونے والے قرض میں آنے والے ڈالروں کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر میں 26 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی اور یہ ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد کی سطح پر موجود ہیں جس میں ساڑھے 16 ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر مرکزی بینک اور تقریباً ساڑھے چھ ارب ڈالر کے ذخائر تجارتی بینکوں کے پاس موجود ہیں۔
اس تجویز پر حکومتی رد عمل کے بارے میں جب وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھا تھا تاہم یہ کوئی تجویز نہیں بلکہ دوسرے بہت سارے اقدامات کے ساتھ یہ بھی زیر بحث آیا تھا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی اس وقت کیا صورتحال ہے؟
پاکستان کے پاس اس وقت زرمبادلہ کے 23 ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر ہیں تاہم ان میں گذشتہ مہینے کے اختتام تک کمی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ ملک کا بڑھتا ہوا درآمدی بل اور اس کے ساتھ بیرونی ادائیگیاں ہیں۔
پاکستان کو گذشتہ تین مہینوں میں سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ ملے تو اس کے ساتھ سکوک بانڈز سے ایک ارب ڈالر اور آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط موصول ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں 18 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ مصنوعات اور خدمات کی برآمدات سے پاکستان کو ساڑھے 21 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی مد میں پاکستان میں 1.1 ارب ڈالر آئے۔
ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور بیرونی قرض ک ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور حکومت کی جانب سے ان ذخائر کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
اکنامک ایڈوائزری کونسل میں اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
سونے سے زرمبادلہ کے ذخائر کیسے بڑھائے جا سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لوگوں کے پاس موجود سونا لے کر انھیں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے کیسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے؟
اس سلسلے میں ماہر معیشت اور پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں ریسرچ فیلو شاہد محمود نے اس نمائندے کو بتایا کہ پہلے دنیا میں سونا ایک سٹینڈرڈ ہوا کرتا تھا یعنی کرنسی کی قدر اس سے منسلک تھی تاہم 70 کی دہائی میں سونے کو بطور سٹینڈرڈ ختم کر کے عالمی کرنسی یعنی ڈالر کو رواج دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ دنیا کے تقریباً ہر مرکزی بینک کے پاس سونے کے ذخائر ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک قیمتی دھات ہے اور اسے آپ بین الاقوامی مارکیٹ میں استعمال کر کے زرِ مبادلہ لے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
شاہد محمود کے مطابق جس طرح بیرونی دنیا اور مالیاتی اداروں سے قرض لے کر اس پر ایک خاص شرحِ سود ادا کی جاتی ہے، اسی طرح سونے کو بھی استعمال میں لا کر اس کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سونا ایک اثاثہ ہے اس لیے اسے ضمانت کے طور پر استعمال کر کے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر پاشا نے بتایا کہ ہندوستان نے یہ کام 1991 میں کیا جب وہاں کی حکومت نے لوگوں سے سونا حاصل کیا اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت دیوالیہ ہو گیا تھا تاہم اس وقت کی ہندوستانی حکومت اس اقدام کے سات دوسرے بہت سارے اقدامات اٹھائے اور معیشت کو دوبارہ منظم کیا اور اس کے بعد مسلسل بلند شرح نمو حاصل کی۔
پاکستان میں عام لوگوں سے سونا حاصل کر کے اس سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے سلسلے میں آنے والی تجویز کے تحت تجارتی بینک لوگوں سے سونا حاصل کر کے اسے مرکزی بینک کے پاس جمع کروا دیں گے اور مرکزی بینک سونے کے ان ذخائر کا استعمال کر کے زرمبادلہ حاصل کرے گا۔ تجارتی بینک سونے کے مالکان کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے اور اُنھیں اس سونے پر ایک خاص شرح سے منافع ادا کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اکنامک ایڈوائزری کونسل کے اجلاسوں میں مختلف تجاویز آتی رہتی ہیں جن پر بحث ہوتی رہتی ہے۔
انھوں نے کہا جہاں تک حکومت کی جانب سے لوگوں سے سونا لے کر اس کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایک نکتہ گفتگو پر آئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کسی نے بتایا کہ فلاں ملک میں ایسا ہوا اور انھوں نے اس طرح لوگوں کے پاس سونے کو حاصل کر کے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا۔

،تصویر کا ذریعہState Bank of Pakistan
حکومت پاکستان کو یہ تجویز دینے والے طاہر محممود جو بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں ان سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یہ تجویز اس لیے دی تاکہ سونا جو ایک ’ڈیڈ ایسیٹ‘ کی صورت میں ملک میں موجود ہے اسے استعمال میں لا کر معاشی سرگرمی کو تقویت دی جائے۔
انھوں نے کہا یہ تجویز انھوں نے اکنامک ایڈوائزری کونسل میں پیش کی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے کہ اس پر کیسے عمل درآمد کیا جا سکے۔
انھوں نے سونے کے بدلے زرمبادلہ حاصل کرنے کی اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب لوگوں سے تجارتی بینک سونا لے کر اسے سٹیٹ بینک کو جمع کروائیں تو لوگوں کو اس سونے کا اونر شپ سرٹیفکیٹ دیا جائے گا اور پھر اس پر ایک خاص شرح منافع یا اس کے بدلے قرضہ بھی لے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا جب سٹیٹ بینک اس جمع شدہ سونے کے بدلے بین الاقوامی منڈی سے زرمبادلہ اٹھائے گا تو اس کی ساورین گارنٹی ریاست دے گی جیسے کہ دوسرے بانڈز کی صورت میں دی جاتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ سونا کتنی مالیت کا ہے اس کے بارے میں کسیے معلوم ہوگا تو انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایک ادارہ مرکنٹائل ایکسچینج کے نام سے موجود ہے جو اس سلسلے میں کام کرے گا۔
طاہر نے بتایا کہ جب لوگ بینکوں کے لاکرز میں سونا رکھتے ہیں تو اسے نہیں پتا ہوتا کہ کتنا سونا رکھا گیا تاہم جب اس سکیم کے تحت سٹیٹ بینک کے پاس سونا جائے گا تو وہ سرٹیفائئڈ یعنی تصدیق شدہ ہوگا اور اس کا پورا ڈیٹا بیس تیار ہو گا کہ اتنا سونا موجود ہے۔
کیا پاکستان میں یہ منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں مرکزی بینک کے پاس 3.8 ارب ڈالر مالیت کا سونا موجود ہے تاہم پاکستان میں عام لوگوں کے پاس کتنا سونا موجود ہے اس کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں۔
معاشی امور کے سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا اس سلسلے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار تو دستیاب نہیں تاہم کونسل کے اجلاس میں دو ہزار سے پانچ ہزار ٹن سونے کی موجودگی کے اعداد و شمار بتائے گئے۔
انھوں نے پاکستان میں یہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ لوگ اپنے پاس موجود سونے کو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کرتے۔
عارف حبیب کموڈٹیز کے چیف ایگزیکٹو احسن محنتی نے بتایا کہ اس بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار تو موجود نہیں کہ جس کی بنیاد پر کوئی حتمی نمبر دیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں سونے کی کھپت کے سرکاری اعداد و شمار ہوتے ہیں جو تقریباً 60 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ انھوں نے کہا اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان میں سالانہ چھ ارب ڈالر سونے کی کھپت ہو سکتی ہے۔
احسن محنتی کہتے ہیں کہ پاکستان میں سونا قانونی ذرائع یعنی درآمد ہونے کے علاوہ سمگل بھی ہوتا ہے اور وہ لوگ جو بیرون ملک جاتے ہیں وہ بھی واپسی پر سونا لے آتے ہیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔
طاہر محمود نے اس سلسلے میں بتایا کہ اکنامک ایڈوائزری کونسل میں جو بتایا گیا اس میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانیوں کے پاس 5000 ٹن سونا موجود ہے۔
انھوں نے کہا تاہم یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔ اسی طرح اس بات کا تخمینہ لگانا بھی ابھی مشکل ہے کہ اس کے بدلے کتنا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا اس وقت یہ تجویز زیر غور ہے اور اس پر حکومتی اور غیر حکومتی ماہرین غور کریں گے کہ اسے کیسے بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور اس کے بدلے کتنا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
لوگوں کے پاس موجود سونے کو لے کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کا کوئی منصوبہ پاکستان میں کامیاب ہو سکتا ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ اس کی کامیابی پاکستان میں ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ پاکستان میں حکومتوں اور لوگوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اور لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں سونا جمع نہیں کروائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ جب پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے تھے اس وقت فارن کرنسی اکاونٹس منجمد کر دیے گئے تھے اور لوگوں کو مقامی کرنسی میں ادائیگی کی گئی اس لیے پاکستان میں اس سکیم کی کامیابی مشکل ہے۔
شاہد محمود نے اس سلسلے میں بتایا کہ کسی ایسے منصوبے کی پاکستان میں کامیابی اس لیے ناممکن ہے کیونکہ لوگوں کے پاس زیادہ تر سونا زیورات کی صورت میں موجود ہوتا ہے جب کہ اس کے لیے سونے کے بسکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔













