گمبٹ ہسپتال: سندھ کا ہسپتال جہاں ایسے ٹرانسپلانٹ ہوتے ہیں ’جن کے بارے میں پاکستان میں کبھی سوچا نہیں گیا تھا‘

کوثر

،تصویر کا ذریعہGAWAR KHAN

،تصویر کا کیپشنگاور خان کی بیٹی 21 سالہ کوثر جنھوں نے اپنے والد کو جگر کا عطیہ دیا
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’جگر کا ٹکڑا کیا اگر پورا جگر بھی نکال لیں تو مجھے خوشی ہو گی۔‘

21 سالہ کوثر سندھ کے شہر لاڑکانہ میں بی ایس سی کی طالبہ ہیں جنھوں نے اپنے والد گاور خان کو اپنے جگر کا ایک ٹکڑا عطیہ کر کے پاکستان کی طبی تاریخ میں پہلی بار کسی ایڈز کے مریض کے کامیاب جگر ٹرانسپلانٹ کو ممکن بنایا ہے۔

یہ آپریشن پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹییوٹ آف میڈیکل سائنسز، گمبٹ میں ہوا جہاں ایک بیٹی نے باپ کو جگر کا عطیہ دے کر انھیں نئی زندگی بخشی ہے۔

یہی نہیں گمبٹ کے اس ہسپتال میں حال ہی میں پاکستان کی طبی تاریخ کا ایک اور اہم سنگ میل عبور ہوا تھا جب پہلی مرتبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے نوجوان نعمان طارق کا ایک ہی وقت میں جگر اور گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

گاور خان اور نعمان طارق دونوں ہی اپنی صحت اور معاشی حالات کے باعث زندگی سے مایوس ہو چکے تھے جب انھیں گمبٹ میں ایک نئی امید ملی اور وہی علاج جس پر لاکھوں کروڑوں خرچ ہو سکتے تھے مفت ہو گیا۔

گمبٹ ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کے مطابق پاکستان میں اس سے پہلے ایسے ٹرانسپلانٹس کے بارے میں سوچا بھی نہیں گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’نعمان طارق کی 12 گھنٹے طویل سرجری کے بعد جب وہ اور ان کی ٹیم کے ممبرز تھکے ہارے آپریشن تھیڑ سے نکلے تو سب خوش تھے کہ پاکستان میں ناممکن کو ممکن بنا دیا گیا ہے۔‘

’آج شاید میں زندہ نہ ہوتا‘

گاور خان

،تصویر کا ذریعہGAWAR KHAN

،تصویر کا کیپشنگاور خان

لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ گاور خان کاشتکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقامی اخبار سے بھی وابستہ ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر میرے جگر کا ٹرانسپلانٹ نہ کیا جاتا تو آج شاید میں زندہ نہ ہوتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ گمبٹ ہسپتال سے پہلے وہ جہاں بھی گئے انھیں کہا گیا کہ ایڈز میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کا ٹرانسپلانٹ ممکن نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ان سے پوچھتا کہ کیا مجھے اس طرح مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔‘

گاور خان کے مطابق چند سال قبل جب وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے تو انھیں خون دیا گیا تھا۔ ’مجھے خون کی بہت بوتلیں لگیں اور اسی کے بعد میں اس موذی مرض (ایڈز) میں مبتلا ہو گیا۔‘

کچھ عرصہ قبل اُن کے سینے میں تکلیف ہوئی تو ڈاکٹروں نے جگر کے کینسر کی تشخیص کی۔ ’مجھے بتایا گیا کہ اس کا واحد علاج جگر کا ٹرانسپلانٹ ہی ہے لیکن میں جس ہسپتال میں جاتا مجھے انکار کر دیا جاتا تھا۔‘

’میں ڈاکٹروں سے لڑتا تھا۔ ان سے کہتا تھا کہ کتنی بے رحمی سے کہتے ہو کہ میرا کچھ نہیں ہو سکتا۔ نہ حوصلہ دیتے ہو، نہ کوئی آس دلاتے ہو۔ کوئی مجھے ڈانٹ دیتا، کوئی خاموش ہو جاتا۔‘

پھر گاور کو کسی نے گمبٹ ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ مایوس دل کے ساتھ گاور گمبٹ گئے تو ضرور لیکن انھیں کچھ زیادہ امید نہیں تھی۔

’میں وہاں گیا تو میں نے وہاں بھی ڈاکٹروں سے لڑنا شروع کر دیا کہ آپ لوگ بھی میرا کچھ نہیں کرو گے، بس رٹے رٹائے جملے بولو گے۔‘

گاور کی امید کے برعکس گمبٹ کے ڈاکٹرز نے نہ تو انھیں ڈانٹا اور نہ ہی خاموش رہے۔

گاور خان کہتے ہیں کہ ’جب مجھے یہ بتایا گیا کہ میرا ٹرانسپلانٹ ہو جائے گا تو ان کی بیٹی کوثر، جو پڑھائی کے ساتھ پارٹ ٹائم ملازمت کرتی ہے، نے اصرار کیا کہ وہ ہی ٹرانسپلانٹ کے لیے اپنا جگر دیں گی۔‘

گاور خان کی بیٹی کوثر کا کہنا تھا کہ جب والد کے ٹرانسپلانٹ کا علم ہوا تو ان کو خدشہ تھا کہ کہیں عطیے میں دیر کی وجہ سے کوئی تاخیر نہ ہو اس لیے انھوں نے فوراً رضا کارانہ طور پر یہ پیشکش کر دی۔

70’ لاکھ صرف ڈائیلیسز پر خرچ ہوئے‘

نعمان طارق

،تصویر کا ذریعہNOMAN TARIQ

،تصویر کا کیپشننعمان طارق

گمبٹ ہسپتال میں نئی زندگی پانے والوں میں ایک نام نعمان طارق کا بھی ہے جن کا ایک ہی وقت میں جگر اور گردے کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔

بی بی سی سے بات کرے ہوئے نعمان طارق نے بتایا کہ پہلے ان کے گردوں نے کام کرنا چھوڑا جس کے بعد معلوم ہوا کہ انھیں ہیپاٹائٹیس ہوا ہے۔

یہ انکشاف اُن کی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی جیب پر بھی بہت بھاری پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ’بیماری کے بعد میرے خاندان نے اپنا سب کچھ میرے علاج پر خرچ کر دیا تھا۔ اپنی ساری زمین، جائیداد فروخت کر دی۔ کوئی یقین کرے نہ کرے، مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے والدین سے ایک بڑے ہسپتال نے ڈائیلیسس کے کل ملا کر 70 لاکھ روپے وصول کیے۔‘

نعمان طارق کو گردوں کے ساتھ ساتھ اب جگر ٹرانسپلانٹ کی بھی ضرورت تھی۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے جگر کا ٹرانسپلانٹ کرنے والے کہتے کہ پہلے گردے کا ٹرانسپلانٹ کراؤ اور گردے کا ٹرانسپلانٹ کرنے والے کہتے ہیں کہ جگر کا ٹرانسپلانٹ کروا کر آؤ۔‘

نعمان طارق کہتے ہیں کہ ان کو جگر ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک کروڑ کا تخمینہ بتایا گیا جب کہ گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے 30 لاکھ۔

’مگر اس کے ساتھ مجھے کہتے کہ پاکستان میں اس کی کامیابی کے چانسز بہت کم ہیں۔ اس لیے بیرونی ملک چلے جاؤ تو بہتر ہو گا لیکن وہاں اخراجات پاکستان سے بھی کئی گنا زیادہ تھے۔‘

پھر نعمان کو بھی گمبٹ جانے کا مشورہ ملا جہاں ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی۔ آج وہ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں اس سے پہلے ایسے آپریشنز کے بارے میں سوچا بھی نہیں گیا

گمبٹ ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر بتاتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران اُن کے پاس دو ایسے کیسز آئے ہیں جن کا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو علاج ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں اس سے پہلے سوچا بھی نہیں گیا تھا۔

لیکن گمبٹ میں ایسی سہولت موجود تھی جو پاکستان میں کم ہی جگہوں پر میسر ہوتی ہے۔ یعنی جگر اور گردے کے ٹرانسپلانٹ کی سہولت۔

ڈاکٹر عبد الوہاب کے مطابق ان کے پاس دونوں ٹرانسپلانٹ کرنے کے لیے مناسب سہولتیں، تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور سٹاف موجود تھے لیکن انھوں نے پہلے طویل مشاورت کی۔

گاور خان کے ٹرانسپلانٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایڈز کے مریضوں کا ٹرانسپلانٹ ہو رہا ہے اور ایسے مریض کسی حد تک نارمل زندگی گزارتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کے مطابق اب ایڈز کے مریضوں کو ایک ہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ ان کی قوت مدافعت کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے جس سے وہ مختلف مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

’ہم نے اپنے مریض کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ادویات دیں اور جب گاور خان کی قوت مدافعت مناسب سطح پر پہنچ گئی تو ان کے ٹرانسپلانٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ خوش قسمتی سے ان کو جگر ان کی بیٹی نے عطیہ کیا۔‘

گاور خان کی بیٹی 21 سالہ کوثر جنھوں نے اپنے والد کو جگر کا عطیہ دیا

،تصویر کا ذریعہGAWAR KHAN

،تصویر کا کیپشنگاور خان کی بیٹی 21 سالہ کوثر جنھوں نے اپنے والد کو جگر کا عطیہ دیا

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کہتے ہیں کہ ٹرانسپلانٹ آپریشن سے قبل آپریشن تھیٹر اور آئی سی یو میں خصوصی انتظامات کیے گئے تاکہ طبی عملہ متاثر ہوئے بغیر مریض کی دیکھ بھال کر سکے۔

’ہم نے ایک ایک قدم دیکھ بھال کر اٹھایا۔ ایک ایک چیز کو دو دو بار دیکھا۔ ہر طرح کوشش کی کہ کوئی معمولی سے غلطی بھی نہ رہ جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم نے جگر لگا دیا تو چند منٹ بعد ہی میں ہمیں پتا چل گیا کہ ٹرانسپلانٹ کامیاب ہو چکا ہے۔‘

جگر اور گردے کا ایک ہی وقت میں کامیاب آپریشن جس میں انڈین ڈاکٹر نے بھی مدد کی

گمبٹ

،تصویر کا ذریعہ Institute of Medical Sciences Gambat

گاور خان کا کیس منفرد تھا تو نعمان طارق کا کیس بھی ایک مشکل کیس تھا۔

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کہتے ہیں کہ نعمان جب ان کے پاس آئے تو وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ہی وقت میں اس سے پہلے دونوں ٹرانسپلانٹ نہیں ہوئے تھے۔

’میں نے انڈیا میں اپنے استاد ڈاکٹر سبھاش گپتا سے مشورہ کیا۔ انھوں نے دونوں ٹرانسپلانٹ ایک ساتھ کرنے کا مشورہ دیا۔‘

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر کہتے ہیں کہ یہ کوئی 12 گھنٹے طویل آپریشن تھا جس کے لیے ان کو ہر شعبے کے ماہرین کی مدد حاصل تھی۔

’ہم نے نیا جگر لگایا تو چند ہی لمحوں میں پتا چل گیا کہ جگر نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ جس کے بعد ہم نے مریض کا سینہ بند کرنا شروع کر دیا۔‘

’12 گھنٹے بعد ہم تھکے ہارے آپریشن تھیڑ سے نکلے تو سب خوش تھے کہ پاکستان میں ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔‘

ڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر

،تصویر کا ذریعہInstitute of Medical Sciences Gambat

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عبدالوہاب ڈوگر

گمبٹ ہسپتال

گمبٹ ہسپتال میں اب تک تقریباً 550 ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان میں کامیابی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے۔

یہ ہسپتال ڈاکٹر رحیم بخش کا خواب تھا جنھوں نے چار دہائیوں قبل فوج سے ریٹائرمنٹ پر گمبٹ میں ایک ڈسپنسری کا چارج سنبھالا تھا۔ آج وہ اس ڈسپنسری کو گمبٹ ہسپتال میں تبدیل کر چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر رحیم بخش بتاتے ہیں جب ’میں گمبٹ میں آیا تو بس ایک ہی جنون تھا کہ کچھ ایسا کرنا ہے جس سے ملک کے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’جب میں کہتا کہ یہاں دنیا کا جدید ہسپتال بناؤں گا تو لوگ ہنستے تھے۔ مگر میں کہتا کہ ارادہ مضبوط ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر رحیم بخش کو سب سے پہلے اس وقت اس خواب کی تکمیل میں مدد ملی جب سنہ 1988 میں سابق سینیٹر پیر آف گمبٹ محمد شاہ نے زمین اور فنڈز مہیا کیے۔

اس فنڈ سے آغاز کرنے کے بعد ڈاکٹر رحیم بخش نے اور دروازے کھٹکھٹانا شروع کیے۔

’میں صبح کراچی نکل جاتا تھا، وہاں گمبٹ کی کارکردگی دکھاتا اور اس وقت تک نہیں اٹھتا تھا جب تک وہ مزید فنڈز جاری نہیں کر دیتے تھے۔‘

پہلے یہ میڈیکل کالج اور ہسپتال بنا اوراب یہ ٹرانسپلانٹ کا جدید ترین مرکز ہے جس کا آغاز 2016 میں سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے بعد کیا گیا تھا۔

گمبٹ

،تصویر کا ذریعہInstitute of Medical Sciences Gambat

ڈاکٹر رحیم بخش کہتے ہیں کہ ٹرانسپلانٹ کا آغاز انھوں نے جرمن ٹیم کی مدد سے کیا تھا جس کے دو سال کام کے دوران آپریشن تھیڑ اور وارڈ بنوائے گئے اور ان کے ساتھ پاکستانی ڈاکٹرز کو تربیت دلوائی گئی۔

’دو سال بعد جب وہ واپس گئے تو ہمارے پاس ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم تیار ہو چکی تھی۔ ہمیں باہر سے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔‘

ڈاکٹر رحیم بخش کہتے ہیں کہ ہسپتال آج بھی سندھ حکومت کے فنڈز پر چلتا ہے مگر چاروں صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان تک سے مریض آتے ہیں جن میں سے ضرورت مندوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔

ڈاکٹر رحیم بخش کہتے ہیں کہ ’میں ایک چھوٹا آدمی ہوں۔ خود کو کبھی بھی بڑا نہیں سمجھا۔ بس کچھ اچھا کرنے کی خواہش تھی جس کے لیے صرف محنت، ایمانداری اور خلوص کو اپنا شعار بنایا ہے۔ اگر پاکستان کے ڈاکٹر بھی ایسا کرنا شروع کر دیں تو ان کو بھی بہت کامیابیاں ملیں گی۔‘