پنجگور، نوشکی میں عسکریت پسندوں کے حملے: ’فلموں میں جنگ کے مناظر دیکھے تھے، کبھی سوچا نہ تھا کہ حقیقی زندگی میں ایسا ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
‘پہلے ہم نے ٹیلی ویژن کے سکرینوں پر جنگوں کے مناظر دیکھتے تھے مگر کبھی سوچا نہیں تھا کہ اصل زندگی میں ایسا ہو گا، لیکن گذشتہ دنوں لگاتار چار روز تک جنگ کیسی ہوتی ہے اس کا مشاہدہ ہم نے اپنے شہر میں کیا ہے۔ یہ خوفزدہ کر دینے والا تھا۔‘
یہ کہنا ہے ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور کے رہائشی آغا شاہ حسین کا، جن کا گھر ایف سی ہیڈکوارٹر سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔
نوشکی کی طرح دو فروری کی شب پنجگور میں بھی مسلح افراد نے ایف سی کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جو کہ سکیورٹی کے حوالے سے پنجگور میں ایف سی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
آغا شاہ حسین نے بتایا کہ ‘ہم چار روز تک اپنے گھروں میں محصور تھے اور اس دوران مسلسل دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں، اس دوران ذہن پر بس یہ سوچ غالب تھی کہ بچ پائیں گے یا نہیں۔‘
بلوچستان میں 2000 کے بعد نئی شورش کے آغاز کے بعد پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرپر ہونے والے حملہ سب سے طویل تھا جو کہ دو فروری کی شب شروع ہوا اور پانچ فروری کی صبح تک جاری رہا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پنجگور میں ہونے والے حملے میں فوج کے ایک افسر سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
مقامی حکام نے اس واقعے میں دو سویلین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایف سی ہیڈکوارٹر سے متصل بعض سرکاری عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے علاوہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اعلانیہ طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن چار روز انھوں نے کرفیو جیسے ماحول میں گزارے، تاہم اتوار کو پنجگور میں معمولات زندگی بحال ہوئے ہیں۔
پنجگور کے رہائشی محمد ابراہیم (فرضی نام) نے فون پر بی بی سی بتایا کہ دو فروری کی رات آٹھ بجے کے قریب ایک بہت زوردار دھماکہ ہوا تھا جس کے ساتھ ایک تیز روشنی بلند ہوئی جو آسمان پر واضح نظر آئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
ان کا کہنا تھا کہ ‘جس وقت دھماکہ ہوا، اس وقت میں اپنے گھر میں تھا اور دھماکے کی شدت نے مجھ سمیت تمام گھر والوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ چونکہ پنجگور میں دھماکے طویل عرصے سے ہو رہے ہیں اس لیے بہت زیادہ شدید دھماکہ ہونے کے باوجود ہم سمجھے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس کے تھوڑی دیر بعد شدید فائرنگ اور مسلسل دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔‘
‘ماضی میں بھی دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکار حفظ ماتقدم کے طور پر فائرنگ کرتے رہے ہیں جس کے باعث ہم یہی سمجھے فائرنگ بھی تھوڑی دیر بعد ختم ہو جائے گی لیکن نہ صرف یہ ختم نہ ہوئی بلکہ اگلے روز ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ اور گولہ باری کرتے رہے اور یہ سلسلہ چار روز تک جاری رہا۔‘
‘چار روز موت اور خوف کی سائے میں گزارے‘
انھوں نے بتایا کہ دو فروری کی شب آٹھ بجے سے لے کر پانچ فروری کی صبح تک گھروں میں محصور ہم لوگ تھے اور دوسری جانب بس مسلسل دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ نے گھر سے نکلنے سے منع کیا تھا اگر وہ منع نہ بھی کرتے تو فائرنگ کی شدت اور تسلسل اتنا زیادہ تھا کہ اس میں باہر نکلنا بہت مشکل اور موت کو دعوت دینے کے مترادف تھی۔
‘ہم خوف اور موت کے سائے میں تھے لیکن اللہ نے رحم کیا جس کے باعث ملک الموت نے ہماری جانب رُخ نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ املاک کا نقصان ہوا لیکن انسانی جانوں کا بہت زیادہ ضیاع نہیں ہوا۔ ‘ہمارے محلے میں ایک بچی زخمی ہوئی ہے لیکن وہ بھی معمولی۔‘
انھوں نے کہا کہ بعض گھروں پر گولوں کے ٹکڑے گرے ہیں اور بازار میں دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
محمد ابراہیم نے بتایا کہ ’‘نیند ایسی صورتحال میں کسے آ سکتی ہے۔ بچے، خواتین اور ہم سب مرد سہمے ہوئے بیٹھے تھے کہ مسلسل فائرنگ اور دھماکوں میں معلوم نہیں کس لمحے کیا ہو جائے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر صبح سات، ساڑھے سات بجے کے قریب آتے اور پھر وقفے وقفے سے شام تک شیلنگ اور فائرنگ کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ تین چار روز تک ایک مکمل جنگ کی خوفناک کیفیت تھی جو کہ پنجگور شہر میں بالخصوص ان لوگوں پر گزری جو کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے قریب تھے۔ ‘جس خوف اور اذیت سے ان تین چار دنوں میں ہم گزرے ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر وقت بس موت کا خوف سروں پر منڈلا رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
ایک اور شہری نے بتایا کہ پنجگور میں حالات تو ویسے بہت خراب ہیں۔ ‘کوئی دن ایسا نہیں جس میں لوگ نہیں مارے جاتے ہوں یا لاپتہ اور اغوا نہیں کیے جاتے ہوں لیکن یہ چار دن ایسے تھے کہ اس میں وہ مکمل طور پر محصور ہوکر رہ گئے۔‘
سویلین ہلاکتیں، سرکاری املاک اور گھروں کو نقصان
نقصانات کے حوالے سے معلومات کے لیے ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ایس ایس پی پنجگور سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم سی ٹی ڈی کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سول ہسپتال پنجگور میں جن آٹھ افراد کی لاشیں منتقل کی گئی ہیں ان میں دو عام شہریوں کی لاشیں بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی یا کسی اور وجہ سے، تاہم ان کی ہلاکت ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کے دوران ہوئی ہے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر صحت بلوچستان رحمت صالح کا تعلق پنجگور شہر سے ہے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چار روز تک پنجگور کے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار رہے۔
انھوں نے کہا کہ بہت سارے دفاتر، ایف سی ہیڈکوارٹر سے متصل ہیں جن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا دفتر، ایلیمنٹری کالج، بوائز ڈگری کالج ،میونسپل کمیٹی چتکان کا دفتر، پولیس تھانہ اور پولیس لائن وغیرہ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قرب و جوار کے دفاتر میں نقصان ہوا ہے اور بہت سارے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBarkat Marri
ان دفاتر کے حوالے سے پنجگور کے سینیئر صحافی برکت مری نے جو تصاویر شیئر کیں ان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفتر میں ہونے والے نقصانات بہت زیادہ ہیں جبکہ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
برکت مری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری دفاتر اور دکانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ بجلی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے شہر میں بہت سارے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بہت سارے محلوں اور گھروں میں گولوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے ہیں لیکن تاحال ان کو نہیں اٹھایا گیا ہے۔
تاہم چار روز کے بعد پنجگور شہر میں معمولات زندگی بحال ہو گئی ہیں۔
برکت مری نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کے بعد لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور اتوار کے روز شہر میں دکانیں کھل گئیں۔









