آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ: لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل، پنجاب حکومت کو ترقیاتی کام کرنے کی مشروط اجازت
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے راوی اربن ڈویلیپمنٹ منصوبے کو کالعدم کرنے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو ترقیاتی کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پنجاب حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ترقیاتی کاموں کو صرف اس زمین تک محدود رکھا جائے جن کے مالکان کو قیمت ادا کی جا چکی ہے۔
عدالت نے ہدایت دی ہے کہ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا پنجاب حکومت اُن زمینوں پر کسی قسم کا ترقیاتی کام نہیں کر سکتی جن کے مالکان کو ادائیگی نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 25 جنوری کو راوی اربن ڈویلیپمنٹ اتھارٹی قانون کی بنیادی دفعات کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے منصوبے کے لیے درکار اراضی حاصل کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
’پنجاب حکومت کو اس کیس کے بارے میں علم ہی نہیں‘
آج کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر دلائل دینے سے متعلق تیاری نہ کرنے پر پنجاب حکومت کی قانونی ٹیم کی سرزنش کی اور کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کو اس کیس کے بارے میں علم ہی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 28 جنوری کو ایک ویڈیو پیغام میں اس منصوبے کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت لاہور ہائی کورٹ میں اس منصوبے کا بہتر طریقے سے دفاع نہیں کر سکی تھی اور ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الااحسن نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کیا غلطی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ نے اس منصوبے کو کالعدم قرار دیا ہے اس میں پنجاب حکومت فریق نہیں تھی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں 18 درخواستیں تھیں اور اگر ایک درخواست میں پنجاب حکومت فریق نہیں تھی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عدالت کو بتایا کہ درخواستیں ماحولیاتی ایجنسی کی عوامی سماعت کے خلاف تھیں جس پر بینچ کے سربراہ نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تکنیکی نکات میں نہ جائیں اور ٹھوس بات کریں۔
انھوں نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق منصوبے کے لیے زمینوں کا حصول بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے اپنا مؤقف ہائیکورٹ میں پیش کیا تھا۔
’کیس کی تیاری چیمبر میں کیا کریں‘
اس کیس کے دوران دلائل دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جب دلائل دے رہے تھے تو ان کے ساتھی کی جانب سے کان میں سرگوشیاں کرنے پر بینچ کے سربراہ نے اُن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیس کی تیاری اپنے چیمبر میں کیا کریں کیونکہ ہر دو منٹ کے بعد ان کے کان میں کوئی سرگوشی کر رہا ہوتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے صوبائی حکومت اور منصوبے کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو خود ہی سمجھ نہیں آ رہی کہ کیس آخر ہے کیا اور دلائل کیا دینے ہیں۔
اس منصوبے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مختلف نجی ہاوسنگ سوسائٹیز بھی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست گزار تھیں اس پر بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کا اس منصوبے میں فریق بننا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
’معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجوا سکتے ہیں‘
بینچ کے سربراہ نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ انھوں نے اس ضمن میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کیوں نہیں کی اور لاہور ہائی کورٹ کا اُن درخواستوں کی سماعت کرنے کے بارے میں صوبائی حکومت کو کیا اعتراض ہے۔
پنجاب ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی اور اس ضمن میں کسی متاثرہ فریق کو کہیں سے کوئی ریلیف ملنا ہے تو وہ سپریم کورٹ ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اس اپیل کی سماعت کے دوران عدالت تمام سوالات کا بغور جائزہ لے گی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کیوں دائر نہیں کی۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اس اپیل کی سماعت کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے کہ اس معاملے سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کی جانی چاہیے تھی تو سپریم کورٹ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کو دوبارہ بھجوا دے گی۔
جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی طرف سے دائر کی گئیں اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوسٹز جاری کر دیے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ایک ماہ کے اندر اگر کوئی فریق چاہے تو وہ سپریم کورٹ میں اضافی دستاویز جمع کروا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے راوی اربن ڈویلیپمنٹ منصوبے کو کالعدم کرنے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو ترقیاتی کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟
لاہور ہائیکورٹ نے 25 جنوری کو دریائے راوی کے کنارے نیا شہر بسانے کے منصوبے یعنی راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل سنگل بینچ نے اس منصوبے کے خلاف دائر ہونے والی مختلف درخواستوں پر فیصلے میں کہا تھا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت کے مطابق منصوبے کے لیے اراضی سنہ 1894 کے قانون کے برعکس حاصل کی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئین کے تحت منصوبے کے لیے ترمیمی آرڈیننس قواعد و ضوابط پورے کرنے میں ناکام رہا۔
اس منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں میں اس پراجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول میں قواعد کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بھی نکات اٹھائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کیا ہے؟
راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے منصوبے کا سنگ بنیاد سات اگست 2020 کو رکھا گیا تھا اور اس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔ اس منصوبے کا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکٹر پر محیط تھا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جب یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو اعلان کیا گیا کہ اسے تین فیز میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے فیز کے لیےحکومت کی جانب سے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروز والا کے ارد گرد کے 16 دیہاتوں میں تقریباً 4,300 ایکڑ سے زیادہ اراضی حاصل کی گئی تھی۔
نقشے کے مطابق منصوبے کے فیز ون کا کل رقبہ 22,705 ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں دریائے راوی کے بائیں کنارے پر واقع 9,515 ایکڑ، اس کے دائیں کنارے پر 7,034، دریا کے کنارے پر 6,156 ایکڑ، 2,200 ایکڑ پر پھیلا جزیرہ اور 612 ایکڑ پر پھیلی ہوئی بستیاں شامل ہیں۔
ان علاقوں کے رہائشیوں اور زرعی زمین کے مالکان کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ وہ اپنی زمین کو اس پراجیکٹ کے لیے دینے پر رضامند نہیں ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان پر اس بارے میں دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
علاقے کے کسانوں اور روای پراجکٹ سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کی جانب سے احتجاج بھی کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی اس پراجیکٹ پر کام رہا۔
دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ لوگوں کے لیے رہائش اور 20 لاکھ لوگوں کے لیے نوکریاں پیدا کی جا سکیں گی۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس منصوبے پر تین بیراج بنائے جائیں گے جو مجموعی طور پر پانچ لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی سٹور کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2014 میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے بھی اسی پراجیکٹ کے حوالے سے فیزیبیلٹی رپورٹ تیار کروائی گئی تھی لیکن اس پر مزید کام حکومت کہ طرف سے روک دیا گیا تھا۔