آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راوی ریور فرنٹ: عمران خان کا لاہور میں راوی کے کنارے ’نئے شہر‘ کا دفاع، کیا منصوبے کا مستقبل خطرے میں ہے؟
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
'شاید کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہاں ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔ یہ نیا شہر بن رہا ہے۔ دنیا میں جیسے ملائیشیا اور دبئی میں ماڈرن سٹی بنے ہیں، یہ اسی طرز کا جدید شہر بن رہا ہے جو اوپر کی طرف جائے گا۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام رکھ جھوک کے مقام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ 20 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، اتنا بڑا منصوبہ پاکستان میں نہیں بنا۔ اس سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری آئے گی اور نوکریاں ملیں گی۔۔۔ جس تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے ہمیں نئے شہروں کی ضرورت ہے۔'
حکومت نے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے پہلو میں دریائے راوی کے کناروں پر ایک نیا ’سمارٹ‘ شہر بسانے کے منصوبے کا آغاز کر رکھا ہے۔ مگر لاہور ہائیکورٹ نے راوی ریور فرنٹ منصوبے اور اس کے تحت بنائی جانے والی سکیموں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ میں اپنا کیس صحیح معنوں میں رکھیں گے
عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’عدالتوں کی عزت کرتا ہوں۔ ہم نے صحیح معنوں میں لاہور بینچ کے سامنے پیش نہیں کیا۔ سپریم کورٹ میں اپنا کیس صحیح معنوں میں رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'میں آج یہاں کھڑا ہوں جدھر ہم نے پلان کیا ہوا ہے۔ اسلام آباد کے بعد پہلی بار پاکستان میں نیا شہر بن رہا ہے۔'
'لاہور کے قریب نئے شہر کی کیوں ضرورت ہے میں اس کا مقصد قوم کو بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ لاہور اگر اس طرح پھیلتا گیا تو لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ آنا ہے کہ اس میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے گرتی رہنی ہے۔ دوسری چیز ویسٹ ڈسپوزل، جس طرح یہ پھیلتا جائے گا ہم وہاں کا سالڈ ویسٹ اور گندگی صحیح طرح اٹھا نہیں سکیں گے۔'
'راوی کا دریا بالکل سکڑتا جا رہا ہے اور وہ صرف ایک سیوریج کے نالے کی طرح بن جائے گا۔ سردیوں میں وہ وہاں سب سیوریج جاتا ہے۔۔۔ جو دریاؤں میں آلودگی پیدا کرتا ہے۔'
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو 'ویسے ہی لاہور یہاں پہنچ رہا ہے۔ راستے میں یہاں بغیر منصوبے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز (رہائشی پراجیکٹ) بنتی جا رہی ہیں۔۔۔ ان کے پاس سیوریج کا کوئی انتظام نہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اس منصوبے کو ماحول دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں دو کروڑ درخت اُگائیں گے پورا جنگل یہاں بنے گا۔ ماڈرن سٹی کے ساتھ جنگل بھی بن رہا ہے جو آب و ہوا کو صاف رکھے گا۔ پھر راوی کو بچایا جائے گا، اس پر بیراج بنیں گے۔ پانی کو روکا جائے اور اور پانی کی سطح اوپر آئے گی۔ اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بنیں گے۔‘
لاہور میں راوی کے کنارے نئے شہر کا مستقبل خطرے میں ہے؟
لاہور کے پہلو میں دریائے راوی کے کناروں پر نئے منصوبے کے مجوزہ ماڈلز اور تصاویر سبزہ زاروں اور چھوٹے چھوٹے جزائر پر بنی بلند و بالا عمارتوں اور رہائشی علاقوں کا ایسا منظر پیش کرتی ہیں جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے جدید شہروں سے مماثلت رکھتا ہے۔
راوی ریور فرنٹ نامی اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر محیط اس شہر میں جدید تقاضوں کے مطابق رہائش کے ساتھ ساتھ جنگلات، جھیلیں، بیراج اور جزیرے قائم کیے جائیں گے۔
باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے جانے والے شہروں کی طرح اس میں ایجوکیشن سٹی، سپورٹس سٹی اور میڈیکل سٹی بنانے کے ذیلی منصوبے بھی شامل ہیں۔
اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ دار راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے مطابق مکمل ہو جانے کے بعد یہ دریا کے کنارے پر بنایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا شہر ہو گا جو 46 کلو میٹر کے علاقے پر پھیلا ہو گا۔
روڈا کے مطابق اس منصوبے سے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی بحالی بھی ممکن ہو پائے گی اور اس میں تعمیر کیے جانے والے تین بیراجوں میں پانچ لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے ستمبر سنہ 2020 میں اس منصوبے کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ یہ منصوبہ ’پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار بھی ملے گا تاہم لاہور ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے سوالیہ نشان پیدا کر دیے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس قانون کی چند بنیادی دفعات کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے تحت روڈا کا قیام عمل میں آیا۔
عدالت نے منصوبے کے لیے درکار اراضی حاصل کرنے کے عمل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشنز کو ختم کر دیا ہے۔ عدالت نے اس منصوبے اور اس کے تحت بنائی جانے والی سکیموں کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ ’منصوبے کے پہلے زون پر کام زور و شور سے جاری ہے‘ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے کوئی فوری ریلیف نہ ملنے کی صورت میں حکومت اس منصوبے کو آگے کیسے بڑھا سکے گی۔
یہ منصوبہ عدالت تک کیسے پہنچا؟
زمین کے حصول ہی سے مسئلے کا آغاز ہوا تھا۔ راوی ریور فرنٹ کے لیے درکار اراضی کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو زرعی زمین پر مشتمل ہے۔ سنہ 2020 میں روڈا نے کسانوں سے یہ زمین حاصل کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا تاہم چند متاثرہ کسانوں نے حکومت کے اس عمل کے خلاف احتجاج کیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی زرعی زمین بیچنا یا حکومت کو دینا ہی نہیں چاہتے تھے اور حکومت زبردستی ان سے یہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
انھیں خدشہ تھا کہ زرعی زمین لے لیے جانے سے ان کا ذریعہ معاش ختم ہو جائے گا اور اس کے عوض جو معاوضہ انھیں ادا کیا جا رہا ہے وہ اتنا نہیں کہ وہ ان کی مستقبل کی ضروریات پوری کر سکے۔
ابتدائی طور پر احتجاج میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرنے کے بعد کسانوں اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے چند کارکنان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
گزشتہ برس کے اوائل میں ایک حکمِ امتناعی کے ذریعے عدالت نے روڈا کو مزید اراضی حاصل کرنے سے بھی روک دیا تھا۔
منصوبے کے لیے کتنی زمین حاصل کی جا چکی ہے؟
روڈا کے ترجمان شیر افضل بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک لگ بھگ چار ارب روپے کے عوض 4560 ایکڑ رقبہ زمین حاصل کی چکی ہے۔
’اس میں دو ہزار ایکڑ پر مشتمل سیفائر کے نام سے منصونے کا وہ پہلا حصہ بھی شامل ہے جس پر تعمیراتی کام کے حوالے سے ٹھیکہ جاوداں گروپ کو دیا جا چکا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ جاوداں گروپ میں ملک کی معروف تعمیراتی کمپنیاں شامل ہیں۔ پنجاب حکومت کے ترجمان اور وزیرِ اعلٰی پنجاب کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات حسان خاور کی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ پیغام میں بتایا گیا ہے کہ چاہار باغ نامی پہلے زون پر تعمیراتی کام جاری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’پہلا مرحلہ 15 ہزار ایکڑ پر محیط ہو گا اور اس میں سیفائر بے، ایگری، نالج، ایمرلڈ بے، ٹوپاز بلاک، بیراجز اور جھیل شامل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ پراجیکٹ دریائے راوی کو ری چارج بھی کرے گا۔
خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب کے مطابق راوی ریور فرنٹ منصوبے کو تین فیزز میں مکمل کیا جانا ہے۔ روڈا کے مطابق پہلا فیز لگھ بھگ 44 ہزار ایکڑ، دوسرا فیز تقریباً 28 ہزار ایکڑ جبکہ تیسرا فیز 30 ہزار ایکڑ پر محیط ہو گا۔
عدالتی حکم منصوبے پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے؟
روڈا کے ترجمان شیر افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جمعرات کے روز جاری کیا گیا ہے اور ان کی ’قانونی ٹیم کی طرف سے اس کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کی حکمتِ عملی کا تعین کیا جائے گا‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ روڈا اس فیصلے کے خلاف داد رسی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں روڈا اپنا کام جاری رکھے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر روڈا اور پنجاب حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں تو راوی ریور فرنٹ کا مستقبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہو پائے گا تاہم اس سے پہلے موجودہ حکومت کے دور میں اس منصوبے پر عملی طور پر مزید کام کرنا مشکل ہو گا۔
اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں روڈا کے قیام اور کام کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے قانون کی بنیادی دفعات ہی کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس طرح روڈا کی طرف سے کیے جانے والے کئی اقدامات بھی غیر قانونی قرار دے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’آزادامہ ماسٹر پلان کوئی نہیں۔۔۔ سکیمیں غیر قانونی ہیں‘
لاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ روڈا ایکٹ سنہ 2020 کے مطابق ’ماسٹر پلان ایک بنیادی دستاویز ہے اور تمام سکیمیں اس ماسٹر پلان کے مطابق بنتی ہیں‘ تاہم عدالت کے مطابق روڈا سنہ 2020 کے اس ایکٹ کے مطابق ایک آزادانہ ماسٹر پلان بنانے میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے اس ماسٹر پلان کی غیر ماجودگی میں بنائی جانے والی کوئی بھی مزید سکیمیں غیر قانونی ہیں۔
وکیل رافع عالم اس مقدمے میں ایک درخواست گزار کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ روڈا نے عدالتی کارروائی کے دوران ایک ماسٹر پلان عدالت میں جمع کروایا تاہم یہ روڈا کا تیارکردہ آزادانہ ماسٹر پلان نہیں تھا۔
’یہ بنیادی طور پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تیار کی گئی اس فیزیبیلیٹی رپورٹ پر مبنی تھا جو سنہ 2013 میں اس وقت کی حکومت نے بنوائی تھی۔‘
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں روڈا کی طرف سے مقامی بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ معاہدے کی غیر موجودگی میں بنائی گئی ماسٹر پلاننگ یا سکیموں کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
منصوبے کے تحت بنائی جانے والی سکیمیں کیوں غیر قانونی قرار دی گئیں؟
لاہور ہائیکورٹ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ روڈا سنہ 2020 کے ایکٹ کی شق چھ کے تحت ماسٹر پلاننگ اور سکیموں کی تیاری وغیرہ کے لیے مقامی بلدیاتی حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت کام کرنے کی پابند تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
تاہم روڈا حکام نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ روڈا ایکٹ 2020 کے ترمیمی آرڈیننس 2021 کی شق چار نے انھیں اس پابندی سے مستثنٰی قرار دے دیا تھا اور یہ کہ ترمیمی آرڈیننس کے آنے سے قبل بلدیاتی حکومت ہی موجود نہیں تھی۔
وکیل رافع عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران ہی گزشتہ برس اس وقت کے قائم مقام گورنر پنجاب پرویز الٰہی نے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کی شق چار کے مطابق روڈا بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ معاہدے میں کام کرنے کی پابند نہیں تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ترمیمی آرڈیننس کی شق چار ہی کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔
’یہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے متصادم ہے۔‘ عدالتی فیصلے کے مطابق اس طرح روڈا ایکٹ 2020 کی شق چھ بحال ہو جاتی ہے۔
’نتیجتاً مقامی حکومت کے ساتھ معاہدے کی غیر موجودگی میں روڈا کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی ماسٹر پلاننگ یا سکیموں کی تیاری غیر قانونی ہے۔‘
ساتھ ہی عدالت نے روڈا ایکٹ 2020 کی شق چھ کی ذیلی شق 34، 18(2)، 29، 30 اور 31 کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے پورے کے پورے ترمیمی آرڈیننس کو آئین کے آرٹیکل 128 سے متصادم ہونے کی وجہ سے غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا ہے۔
’زرعی زمین کسی قانونی فریم ورک کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی‘
روڈا کی طرف کسانوں سے زرعی اراضی اپنے ہی طے کردہ معاوضے کے عوض حاصل کر لینے کے حوالے سے عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ زرعی یا قابلِ کاشت رقبے کا حصول صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب پہلے اس کے لیے کوئی قانون میں ضروری ترامیم کے ذریعے کوئی لیگل فریم ورک نہ بنا لیا جائے۔
عدالت نے ان نوٹیفیکیشنز کو بھی ختم کر دیا جو لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ فیصلے کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے ادارے سے منصوبے کے ماحول پر اثرات کی رپورٹ کے بعد کلیکٹر کی طرف سے اراضی کے حصول کا عمل شروع ہوتا ہے۔
عدالت کے مطابق لاہور اور شیخوپورہ کے کلیکٹرز لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے پہلے ضابطے کی کارروائی کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس لیے ان نوٹیفیکشنز کو ختم کیا جاتا ہے۔
ساتھ ہی عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ 1894 کو آئینی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے قانونی سازی کے عمل کا آغاز کرے۔ اس میں زرعی اور فارم لینڈ کے حصول کو ایک الگ کیٹیگری کی جگہ دی جائے۔
عدالتی فیصلے کے بعد عملاً منصوبہ کہاں کھڑا ہے؟
وزیرِاعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے اطلاعات حسان خاور کی طرف سے ایک حالیہ بیان میں کیا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور ان پر عملدرآمد کرے گی اور روڈا عدالتی فیصلوں کی روشنی میں اپنا کام جاری رکھے گی تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عملی طور پر اس فیصلے کے بعد روڈا کو نئے سرے سے اراضی کے حصول کا عمل شروع کرنا پڑے گا۔ اس سے پہلے اس کے لیے حکومت کو ضروری قانونی سازی بھی کرنا ہو گی۔
اس مقدمے سے منسلک ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ روڈا کو پہلے سے حاصل کی گئی اراضی کو بھی نئے معاوضے کے مطابق دوبارہ حاصل کرنا ہو گا۔
’یہ معاوضہ اور زمیں حاصل کرنے کا طریقہ کار وہ لیگل فریم ورک طے کرے گا جس کے بنانے کا عدالت نے حکم دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو یہ تمام کام کرنے میں وقت لگے گا۔ اگر حکومت ایسا کر بھی لیتی ہے تو ماہرین کے مطابق راوی ریور فرنٹ کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ میں کم از کم 20 سے 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
اس سے قبل یہ تمام کام روڈا کو مقامی بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ مشاورت اور معاہدے کے تحت کرنا پڑیں گے جس کے بعد وہ آزادانہ ماسٹر پلان ترتیب دے پائیں گے جو یہ تمام ایک طویل عمل ہے۔
دوسری صورت میں روڈا اور پنجاب حکومت کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ کی طرف سے بھی روڈا یا پنجاب حکومت کو ریلیف نہ ملا تو قانونی چارہ جوئی اور اس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں ضروری تبدیلیوں میں اتنا وقت لگ سکتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت کے اختتام کے قریب پہنچ جائے گی۔
اس کے پاس ایک سال اور چند ماہ باقی ہیں۔ اس کے بعد دریائے راوی کے کنارے بسائے جانے والے راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ آنے والی حکومت کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔