کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین پر دوران گرفتاری بد سلوکی کا معاملہ، ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت ملوث اہلکار معطل

،تصویر کا ذریعہ@Advjalila/Twitter
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین کو گرفتار کرنے اور پولیس وین میں بٹھاتے وقت تشدد کرنے کے واقعے پر وزیر اعلیٰ نے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کے بعد کوئٹہ پولیس کے ایس ایس پی نے خواتین کی گرفتاری کے معاملے میں ’غیر ذمہ دارانہ رویے‘ پر ایڈیشنل ایس ایچ او نوید مختار اور مذکورہ اہلکاروں کو معطل کرنے کے بعد انکوائری حکم دے دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر خواتین کی گرفتاری ضروری تھی تو لیڈی پولیس اہلکار کے ذریعہ کارروائی عمل میں لائی جاتی۔ پولیس کا یہ رویہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔
ویڈیو میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ کی ایک مصروف شاہراہ پر پولیس اہلکار تین خواتین کو حراست میں لے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@Advjalila/Twitter
یہ ویڈیو کوئٹہ شہر میں قائد آباد پولیس سٹیشن کے اہلکاروں کی جس میں یہ نظر آرہا ہے کہ وہ تین نوجوان خواتین کو پکڑ کر پولیس موبائل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس دوران سڑک پر لوگوں کا مجمع ہے اور پولیس اہلکار تین خواتین کو بنا کسی لیڈی کانسٹیبل کے گھسیٹتے ہوئے پولیس موبائل کی جانب لے جا رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد پولیس اہلکار ایک خاتون کو پکڑ کر پولیس موبائل میں پھیکتے ہیں، اس کے بعد دوسری خاتون کو لایا جاتا ہے اور ان کی جانب سے مزاحمت کرنے پر انھیں مرد اہلکار کی جانب سے اٹھا کر زیادہ شدت کے ساتھ پولیس موبائل میں دھکیلا جاتا ہے ۔
اگرچہ تیسری خاتون بہت زیادہ مزاحمت تو نہیں کرتی ہے لیکن ان کو بھی پولیس موبائل کے قریب لاکر زور سے اندر کی جانب دھکا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قوانین کے تحت کسی بھی خاتون کو لیڈی پولیس کانسٹیبل کی موجودگی کے بنا نہ صرف گرفتار نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی جامعہ تلاشی بھی مرد پولیس اہلکار نہیں لے سکتے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
کوئٹہ میں مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین کو گرفتار کرنے اور ان پر تشدد کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کے اس رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس خلاف قانون قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سماجی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ' اگر یہ خواتین کسی جرم میں مطلوب بھی تھیں تو خواتین پولیس کانسٹیبل کی مدد کیوں نہیں لی گئی؟ اگر سب اپنی عدالتیں خود سڑکوں پر لگائیں گے تو عدالتوں کو تالے لگا دینے چاہیے۔'
انھوں نے وزیر اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سے اس معاملہ کا فی الفور نوٹس لینے اور ان سب پولیس اہلکاروں کے خلاف انتظامی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
جلیلہ حیدر نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'کوئٹہ پولیس کو یہ اختیار کون دیتا ہے کہ وہ خواتین کو بھرے بازار میں مارے۔ یہ عادت انھوں نے طلباء اور خواتین اساتذہ پر تشدد کا راستہ اپنانے کے بعد اپنائی ہے۔ ان کے خلاف انضباطی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ یہ جان سکیں کہ قانون کے تحفظ کے ساتھ قانون کی پاسداری کا کیا مطلب ہوتا ہے۔'
وزیر اعلیٰ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے کے بعد پولیس اہلکاروں کی معطلی کا نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ 'یہ خوش آئند ہے کہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن اس طرح کے خلاف قانون رویے کو روکنا ہو گا۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سید جہانگیر شاہ نامی ایک صارف نے ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ' جو بھی معاملہ ہو، مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین کے خلاف یہ دست درازی قابل قبول نہیں ہے، آپ ذاتی حیثیت میں اس پر ایک رپورٹ طلب کریں۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ایک اور صارف نے پولیس کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ' یہ قائد آباد پولیس کی بدمعاشی ہے، عورت پر ہاتھ اٹھانا ہر گز جائز نہیں اور قانون میں بھی یہ نہیں لکھا۔ جرم جو بھی ہو عورت کی ایسی تزلیل کرنا بلوچستان کے روایات کو خراب کرنے کے مانند ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
یہ بھی پڑھیے
یہ لڑکیاں کون ہیں؟
کوئٹہ پولیس کے ایس ایس پی عبدالحق عمرانی کے مطابق 20 روز قبل زینب نامی لڑکی کے والد نے ان کے اغوا کی ایف آئی آر قائدآباد پولیس میں درج کرائی تھی۔
میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ والدین کی نشاندہی پر ہی پولیس نے لڑکیوں کو پولیس وین میں بٹھایا جن میں زینب اور ان کی دو سہیلیاں شامل تھیں۔ ایس ایس پی پولیس کے مطابق زنیب نامی لڑکی اپنی رضامندی سے سہیلیوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔
پولیس نے اس معاملے میں اہلکاروں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈیشنل ایس ایچ او کو لیڈی پولیس کے ہمراہ لڑکیوں کی حراست میں لینا چاہیے تھا۔








