اسلام آباد پولیس کا سائیکل پیٹرولنگ یونٹ: ’خدشہ تھا کہ کہیں گھر والے پولیس کی نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا نہ کہہ دیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سمرینا کوثر اسلام آباد پولیس کی اُن خواتین پولیس اہلکاروں میں سے ایک ہیں جنھیں عوامی مقامات پر خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے سائیکل پیٹرولنگ یونٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی سمرینا کوثر کہتی ہیں کہ جب انھیں سائیکل پیٹرولنگ یونٹ میں منتخب کیا گیا تو وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئیں کہ اُن کے گھر والوں نے تو کبھی انھیں سبزی لینے کے لیے باہر نہیں بھیجا تھا تو وہ مردوں کے معاشرے میں روزانہ کی بنیاد پر کیسے سڑکوں پر سائیکل چلائیں گی۔
سمرینا بتاتی ہیں کہ انھیں سب سے زیادہ ڈر اپنے بڑے بھائی سے لگتا تھا کہ اگر انھیں معلوم ہو گیا کہ ان کی بہن سڑکوں پر مردوں کی موجودگی میں سائیکل چلاتی ہے تو وہ بہت خفا ہوں گے۔
انھیں یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں اُن کے گھر والے انھیں پولیس کی نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھنے کا ہی نہ کہہ دیں۔ سمرینا نے بتایا کہ وہ اس ذہنی کشمکش میں مبتلا رہتے ہوئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتی رہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان کا خوف اس وقت ختم ہو گیا جب اُن کے بڑے بھائی نے، جن سے وہ بہت زیادہ ڈرتی تھیں، خود بلا کر ان کا حوصلہ بڑھایا اور تاکید کی کہ شہر میں خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرو۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی شحص دوران ڈیوٹی اُن پر فقرے کسے تو ایسے حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور اُن کا ردعمل کیسا ہونا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ گاؤں میں کبھی کبھار انھوں نے اپنے بھائیوں کی سائیکل تو ضرور چلائی ہے البتہ جو جدید قسم کی سائیکلیں اسلام آباد پولیس کی طرف سے دی گئی ہیں اُن کو اس سے پہلے انھوں نے کبھی نہیں چلایا۔
سمرینا بی بی کا کہنا تھا کہ چونکہ اس یونٹ میں گیئروں والی سائیکلیں دی گئی ہیں اس لیے اُن کو چلانے سے قبل اس کی تربیت حاصل کرنا پڑی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی دارالحکومت کے پوش علاقوں (جیسا کہ ایف سکس، ایف سیون، ایف نائن پارک اور ایف ٹین وغیرہ) میں روزانہ کی بنیاد پر شام کے وقت پبلک مقامات پر خواتین پولیس اہلکار پیٹرولنگ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اگرچہ ان خواتین پولیس اہلکاروں کے پاس جدید قسم کی سائیکلیں تو موجود ہیں لیکن کسی ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اُن کے پاس اسلحہ وغیرہ موجود نہیں ہوتا تاہم خواتین کے پاس وائرلیس سیٹ ضرور موجود ہوتا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال میں وہ پولیس کنٹرول کو پیغام دے سکیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جن علاقوں میں خواتین پولیس اہلکار سائیکل پر پیٹرولنگ کرتی ہیں، ان کے قریبی علاقوں میں مرد پولیس اہلکار بھی گاڑیوں پر پیٹرولنگ کرتے پائے جاتے ہیں۔
'سائیکل پیٹرولنگ یونٹ' کیا ہے؟
اسلام آباد پولیس نے پبلک مقامات پر بالخصوص خواتین کے ساتھ اور عوام کے ساتھ بالعموم جرائم کی شرح کو کم کرنے کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی میدان میں اتارا ہے اور وہ مرد پولیس اہلکاروں کے علاوہ عوامی مقامات پر سائیکل پر گشت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
خواتین پولیس اہلکاروں کی طرف سے شہر کے محتلف علاقوں میں گشت کرنے والی ٹیم کو ’سائیکل پیٹرولنگ یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
دو ماہ قبل شروع ہونے والے اس یونٹ کے قیام کے بعد پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس سے پبلک مقامات پر خواتین سے پرس اور موبائل چھیننے کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

ایک اور خاتون پولیس اہلکار کنزہ اعجاز کا کہنا تھا کہ شروع میں جب وہ سڑکوں پر سائیکل چلاتی تھیں تو گاڑیوں میں سوار کچھ لوگ ان پر فقرے بھی کستے تھے لیکن انھوں نے اس معاملے کو نظر انداز کیا اور اپنے افسران سے اس کی شکایت نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ اب حالات نارمل ہیں۔
کنزہ اعجاز کا کہنا تھا کہ وہ اور اس یونٹ میں شامل دیگر خواتین پولیس اہلکار متعدد بار سائیکل چلاتے ہوئے سڑکوں پر گری ہیں تاہم انھوں نے اس صورتحال میں خود کو سنبھالا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے اُن کے ساتھ مرد سائیکل سوار بھی ہوتے تھے جو بظاہر ان کی حفاظت کے لیے تھے لیکن اب ان میں اعتماد پیدا ہو گیا ہے اور اس یونٹ کی خواتین پولیس اہلکار مرد پولیس اہلکاروں کا انتظار کیے بغیر ہی پیٹرولنگ کے لیے نکل پڑتی ہیں۔

انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پبلک مقامات پر جن لوگوں نے ماسک نہیں پہنے ہوتے انھیں ماسک پہننے کی ترغیب دینا، غلط پارکنگ کرنے والے کو تنبیہ کرنا اور بالخصوص خواتین جو گاڑیوں پر شاپنگ کے لیے آتی ہیں ان کی گاڑیوں کو چیک کرنا کہ کہیں ان کی گاڑی کا لاک کھلا ہوا تو نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یونیفارم میں سائیکل چلانے میں مشکل پیش آتی ہے اور انھوں نے اپنے حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ انھیں ٹریک سوٹ پہن کر پیٹرولنگ کرنے کی اجازت دیں۔
ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد مصطفی تنویر کا کہنا ہے کہ خواتین پولیس اہلکاروں پر مشتمل سائیکل پیٹرولنگ یونٹ کے قیام کے بعد پبلک مقامات پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس یونٹ میں شامل خواتین کو ادارے کی طرف سے سب سے پہلے خود اعتمادی دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ پیٹرولنگ کے دوران کسی طور پر بھی اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ عوامی مقامات اور بالخصوص پارکس میں پہلے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے علاوہ خواتین کے ساتھ سرقہ بالجبر کے واقعات زیادہ ہوتے تھے لیکن اس یونٹ کے قیام کے بعد اب ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ پہلے ہر ماہ 15 سے 20 ایسے واقعات کے مقدمات درج کیے جاتے تھے جو کہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، ان سے پرس اور موبائل وغیرہ چھیننے کی وارداتوں سے متعلق تھ
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں اسلام آباد پولیس نے مرد پولیس اہلکاروں کی سائیکل پر پیٹرولنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
پولیس اہلکار اپنے کندھے پر اسلحہ لٹکا کا شہر کے مختلف علاقوں میں پیٹرولنگ کرتے تھے تاہم یہ سلسلہ اس وقت روک دیا گیا جب ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں موٹر سائیکل اور گاڑیوں پر سوار ملزمان سائیکل پر پیٹرولنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو دھکا دینے کے علاوہ ان سے سرکاری اسلحہ بھی چھین کر لے جاتے تھے۔
ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کی سائیکل پیٹرولنگ کو شہر کے مزید سیکٹروں تک پھیلایا جائے گا۔











