نواب اکبر بگٹی کا پنجگور میں نصب مجسمہ ’طوفانی بارشوں‘ سے گرا یا ’گرایا‘ گیا؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
گذشتہ سال ستمبر میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے بعد بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں قوم پرست رہنماﺅں باچا خان اور نواب محمد اکبر خان بگٹی کے مجسموں کو بھی حالیہ دنوں میں نامعلوم افراد نے نقصان پہنچایا ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ بروقت کارروائی کی وجہ سے باچا خان کے مجسمے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا تاہم ایک اہم حکومتی شخصیت کے مطابق پنجگور میں نواب بگٹی کی اونٹ پر بیٹھے مجسمے کو گرانے کی کوشش کے دوران اسے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
ایک حکومتی شخصیت کے مطابق ’چار پانچ روز قبل اکبر بگٹی کے مجسمے کے سر کو توڑ دیا گیا مگر مجسمے کے بقیہ حصے کو مضبوط ہونے کی وجہ سے حملہ آور توڑ نہ سکے تھے۔‘
تاہم ضلع میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مجسمے کو کسی نے نہیں گرایا بلکہ یہ بارشوں کی وجہ سے گر گیا تھا جسے مرمت کے لیے سماجی بہبود کے دفتر منتقل کیا گیا ہے۔‘
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’کسی کے نظریات سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن کسی کے مجسمے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
نواب بگٹی کا مجسمہ کہاں نصب تھا؟

،تصویر کا ذریعہ@PIRDHAN_BALOCH
سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان کے سخت گیر قوم پرست رہنماﺅں کی شہرت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شہرت میں اضافے کی وجہ سے ان کی تصاویر کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تاہم 2008 کے بعد سے ان تصاویر کو اخبارات کے سٹالز اور کتابوں کی دکانوں سے ہٹا دیا گیا۔
سنہ 2013 کے بعد ان سٹالوں سے قوم پرستی کے متعلق کتابیں اور رسائل بھی غائب ہو گئے تھے۔ ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت شہر میں ڈگری کالج پر چھاپوں اور وہاں سٹالوں سے جو کتابیں اور رسائل برآمد کیے گئے تھے اُن کو فرنٹیئرکور کی جانب سے کوئٹہ میں میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اگرچہ ایک جانب سٹالوں سے سخت گیر قوم پرستوں کی تصاویر اور قوم پرستی سے متصل لٹریچر کے خلاف کریک ڈاﺅن ہو رہا تھا وہیں سنہ 2007 میں ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر پنجگورمیں نواب بگٹی کا جو مجسمہ نصب کیا گیا تھا اسے ہاتھ نہیں لگایا گیا۔
یہ مجسمہ نواب بگٹی کی اس وائرل ہونے والی تصویر پر بنا تھا جس میں وہ اونٹ پر بیٹھ کر پہاڑوں میں سفر کر رہے ہیں۔ یہ تصویر اس وقت بنائی گئی تھی جب سنہ 2006 کے اوائل میں فوجی آپریشن میں مارے جانے سے قبل انھوں نے اپنے گھر کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رُخ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@Tabeen6
مجسمہ کب بنایا گیا تھا؟
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میرضیاءاللہ لانگو کے مطابق یہ مجسمہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سیکریٹری جنرل اسد بلوچ نے اس وقت بنوایا تھا جب وہ ضلعی ناظم تھے۔
سابق ضلعی ناظم اور موجودہ وزیر برائے زراعت اسد بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سنہ 2007 میں انھوں نے نہ صرف پنجگور میں ایک چوک کو نواب بگٹی کے نام سے منسوب کیا بلکہ دوستوں سے عطیات کی رقم کے ذریعے نواب بگٹی کا ایک مجسمہ بھی بنوایا جسے اس چوک پر نصب کیا گیا۔
اسد بلوچ کے مطابق اس مجسمے پر مجموعی طور پر چھ سے سات لاکھ روپے کا خرچہ آیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران انھوں نے دیگر چوک چوراہوں کو بھی چاکر اعظم اور ’شہدائے بلوچستان‘ کے ناموں سے منسوب کیا تھا۔
پنجگور میں نواب بگٹی کا مجسمہ بارش سے گرا یا توڑا گیا؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
نواب بگٹی کا مجسمہ گرانے کے بعد جو تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ان میں اونٹ تو اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن نواب بگٹی کا مجسمہ اس پر موجود نہیں ہے۔
اعلیٰ حکومتی شخصیت نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نواب بگٹی کا مجسمہ بہت مضبوط تھا۔ اسے کسی بھی تیز ہوا یا جھٹکے سے گرنے سے بچانے کے لیے سریا لگا کر محفوظ بنایا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ نواب بگٹی کا مجسمہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے گر گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے مجسمے کو توڑنے اور اسے گرانے کی کوشش کی انھوں نے اس کے لیے ٹیلیفون کے مضبوط تار استعمال کیے جس کی وجہ سے مجسمہ گر تو سکا تھا لیکن اس کا سر الگ ہو گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ لوگ مجسمے کو مکمل طور پر گرا کر نہیں لے جا سکے لیکن اس کا سر ضرور ساتھ لے گئے ہیں جبکہ مجسمے کے باقی حصے کو انتظامیہ کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔‘
مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAhmed Farooq Sahi
گوادر میں پولیس کے ایک سینیئر اہلکار اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ کسی نے مجسمے کو چوری کرنے یا اسے لے جانے کے لیے گرانے کی کوشش کی تھی، ان کا کہنا ہے کہ ’تین چار روز قبل جب طوفانی بارشیں ہوئیں تو یہ ان کے باعث گر گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’گرنے کی وجہ سے اس کے بعض حصے ٹوٹ گئے تھے جس کے باعث اسے مرمت کے لیے سوشل ویلفیئر کے دفتر منتقل کیا گیا ہے۔‘
کیا مجسمے کو اسی جگہ پر دوبارہ نصب کیا جائے گا؟
مشیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لوگ اگر کہیں کسی شخصیت کا مجسمہ بنا کر نصب کرتے ہیں تو اسے گرانا ایک غلط عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجسمہ خواہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا ہو، نواب بگٹی کا ہو یا کسی اور شخصیت کا، انھیں نہیں گرانا چاہیے اور ان کا گرانا غیر قانونی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کسی بھی شخصیت کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا جو نام اور مقام ہے ان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’اس مجسمے کو پہلے بھی اسد بلوچ نے بنوایا تھا اور اب بھی یہ توقع ہے کہ وہ اسے دوبارہ نصب کروائیں گے۔‘
وزیر زراعت اسد بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس مجسمے کی مرمت کریں گے اور اسے مزید خوبصورت بنا کر اسی جگہ پر دوبارہ نصب کروائیں گے۔

نواب بگٹی سے قبل باچا خان کے مجسمے کو جلانے کی کوشش
نواب بگٹی کے مجسمے کو گرانے سے قبل بلوچستان کے ضلع دکی میں باچا خان کے مجسمے پر مشتمل یادگار کو جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔
گذشتہ سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک شخص نے یادگار پر پیٹرول چھڑک کر اس کو جلانے کی کوشش کی تھی لیکن اردگرد موجود افراد نے آگ کو بجھا دیا تھا جس کے باعث یادگار کا نچلا حصہ متاثر ہوا لیکن وہ مکمل طور پر جلا نہیں۔
مقامی انتظامیہ نے ایک شخص عبدالرزاق کو باچا خان کے مجسمے کو جلانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق گرفتارشخص مذہبی شدت پسندی کے نظریات کا حامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہiSPR
باچا خان اورنواب بگٹی کے مجسموں سے قبل بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیزمواد سے اڑایا گیا تھا۔
گوادر میں میرین ڈرائیو پر بنے اس مجسمے کو نامعلوم افراد نے 26 ستمبر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا۔
بانی پاکستان کے مجسمے کو اڑانے کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے قبول کی تھی۔
تاہم حکومت نے مجسمے کی جگہ پر دوبارہ مجسمہ نصب کرنے کی بجائے محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ایک یادگار تعمیر کرائی۔
اس یادگار کے اوپر قرآن مجید کا ماڈل جبکہ اس کے نیچے محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے اقوال تحریر کیے گئے ہیں۔












