علامہ اقبال کا مجسمہ: ’شکتی کپور لگتا ہے تو یہ اقبال بھی تو لگتا ہے، اسے ہٹایا نہ جائے‘

- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے لیے ’سنگِ مرمر سے اٹھائے ستونوں کا نظارہ آنکھوں کو اداس کرنے والا تھا۔ میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔‘
یہ مؤرخ اور مصنف علی عثمان قاسمی کی رائے ہے جس کا اظہار انھوں نے اقبال ہی کے ایک شعر کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بحث کا حصہ بنتے ہوئے کیا ہے جو لاہور کے گلشنِ اقبال پارک میں نصب علامہ اقبال کے ایک مجسمے کے گرد گذشتہ دو روز سے جاری ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر تصاویر سامنے آنے کے بعد اس مجسمے کو علامہ اقبال سے مشابہت نہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حکام نے اس مجمسے کو ’ہٹا کر اور بہتر کر کے دوبارہ نصب کرنے‘ کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین کے علاوہ فنکاروں اور ادیبوں کا ایک گروپ اس مجسمے کو ہٹانے کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ پہلو بھی ہے کہ یہ کسی مجسمہ ساز کی تخلیق نہیں بلکہ حکام کے مطابق پارک کے مالیوں نے اسے ’اقبال کی محبت‘ میں از خود تعمیر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لمز یونورسٹی سے منسلک مؤرخ علی عثمان قاسمی کہتے ہیں ’میرے خیال میں یہ خوبصورت ہے، اسے محفوظ کر لیا جانا چاہیے۔ اقبال کو بھی یہ پسند آتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
اپنے مؤقف کی دلیل میں علی عثمان نے اقبال ہی کے خیال کو ان ہی کے ایک شعر میں پیش کیا کہ 'میں نہ خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے، میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AU_Qasmi
لاہور کے گلشنِ اقبال پارک کے پندرہ مالیوں نے اس مجسمے پر کام کیا تھا۔ ان میں سے ایک مالی نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ مجسمے کو بناتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے۔
'یہ مجسمہ ہم نے بڑی محنت سے بنایا تھا۔ ہمارے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے۔ اب یہی مجسمہ ہمیں اپنے ہاتھوں سے توڑنا ہے۔ ہم مالیوں کو اس کا بہت زیادہ دُکھ ہے۔ یقین مانیے ہمارا دل رو رہا ہے۔'
مجسمے کے گرد جاری بحث کے اس نئے موڑ میں کئی فنکار اس مجسمے کو اسی مقام پر کھڑے کھڑے بہتر بنانے کے منصوبوں کے ساتھ بھی سامنے آئے ہیں، تو کچھ کے خیال میں اس میں کسی بہتری کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
صحافی اور کارٹونسٹ ریم خورشید ان میں سے ایک ہیں جو سمجھتی ہیں کہ اس مجسموں کو چھوٹی سی تبدیلیوں سے زیادہ عوامی بنایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے منصوبے کا خاکہ بھی ٹویٹر پر پوسٹ کیا ہے۔
’اگر ہم اس کی بنیاد میں بینچ بنا دیں۔۔۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کے بنائے گئے خاکے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مجسمے کو ہٹائے بغیر اقبال کی قلم پر دو پرندے اور آغوش میں نونہال بچے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریم خورشید نے اس خاکے کی وضاحت کی۔
ان کے خیال میں اسی مجسمے کو ایک عوامی انٹرایکٹو جگہ بنایا جا سکتا تھا۔ ’میرے خیال میں اگر اسی کو ایک بینچ کی صورت میں بنا دیا جائے تو پارک میں یہ مقام اور اقبال خود خاص طور پر بچوں کی پہنچ میں آ جاتے ہیں۔‘
ریم کا کہنا تھا کہ عموماً خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کے سامنے اقبال کا تصور ایسا پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے ان کی شاعری اور نظریات کو سمجھنا قدرے کٹھن کام ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے حقیقی اقبال تک رسائی محدود ہو جاتی تھی۔
’یہ اقبال بھی تو لگتا ہے‘
ریم کے مطابق جہاں سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے اس مجسمے کو یہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ لکھا کہ یہ ’انڈین اداکار شکتی کپور لگ رہا ہے یا یہ کرائم ماسٹر گو گو لگتا ہے، وہیں یہ بھی تو دیکھا جائے کہ یہ اقبال بھی لگتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابتدا ہی سے عوامی آرٹ کا یہ نمونہ بہت پسند آیا تھا۔ ’ضروری نہیں ہے کہ پارکس جیسے عوامی مقامات پر آرٹ کا ایک بے داغ اور مکمل نمونہ ہی آویزاں کیا جائے۔ میرے خیال میں آرٹ کے اس نمونے میں ہماری ثقافت کے جدید اور قدیمی سب رنگ موجود تھے۔‘
ریم خورشید نے جس تخیل کے تحت مجسمے کو بہتر بنانے کے لیے خاکہ تجویز کیا اس میں مجسمے کے ذریعے اقبال اور ان کے خیالات کو لوگوں کی پہنچ میں لانا نمایاں ہے۔ ’یہاں مشاعروں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، اسی طرح اقبال کے خیالات کے گرد بات چیت ہو سکتی ہے۔‘
’ٹرک آرٹ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے‘
کئی افراد نے ٹوئٹر پر ان کے اس منصوبے اور خاکے کی تائید میں رائے دیتے ہوئے حکام سے اقبال کے اس مجمسے کو ضائع نہ کرنے اور اس کی اصل حالت میں محفوظ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
بنتِ بلال نامی ایک صارف نے لکھا کہ انھیں انتہائی دکھ ہوا جب اس مجسمے کا مذاق اڑایا گیا۔ ’حقیقت میں یہ مجسمہ اقبال کے نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے اس کا مذاق اڑایا اس پیغام کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔‘
تاہم کئی فنکار اور ثقافت کے ناقدین کہتے ہیں کہ اقبال کا یہ مسجمہ اسی حالت میں اسی مقام پر نصب رہنا چاہیے اس میں کسی بہتری یا تبدیلی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر فریدہ بتول خود ایک آرٹسٹ ہیں اور آرٹ پڑھاتی بھی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مجسمہ ایسے ہی ہے جیسے ٹرک آرٹ ہے جس کی ہم اتنی پذیرائی کرتے ہیں۔ اس کے اندر خلوص اور اصلی پن موجود ہے اور یہی حقیقی آرٹ کا مفہوم ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAwami Art Collective
فنکار مجسمے کو ہٹانے کے مخالف کیوں ہیں؟
فریدہ بتول کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگوں کا یہ سکھا دیا گیا ہے کہ ایسے عوامی مقامات پر وہ پلاسٹر آف پیرس سے بنے گھوڑے دیکھیں گے اور اسی طرح پیشہ ور فنکاروں کے بنائے نمونے ہی دیکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مجسمے پر تنقید کرنے والوں کو زیادہ شکایت یہی تھی کہ یہ ہو بہو اقبال سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ’عوامی آرٹ کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ ہاتھ سے نہیں بنا ہوتا۔ ہمیں ٹرکوں کے پیچھے بنے ایسی خوبصورت مل جاتی ہیں جو ضروری نہیں کہ ہوبہو اس کردار سے مشابہت رکھتی ہوں۔‘
ڈاکٹر فریدہ بتول کا استدلال تھا کہ اس مجسمے کو اس کی اصل حالت میں پارک میں اسی جگہ موجود رہنا چاہیے کیونکہ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ’خالص ہے اور کمیشن کر کے کسی پیشہ ورانہ فنکار سے بنوایا نہیں گیا۔‘
سیم خان نامی ایک صارف نے بھی ٹویٹر پر اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گو کہ وہ (مالی) اس کو پوری طرح عمدگی سے نہیں بنا سکے، پھر بھی انھوں نے اسے محبت سے تعمیر کیا ہے۔‘
ان کا استدلال تھا کہ ’اگر کسی کو اس سے مسئلہ ہے تو کسی فنکار کو اس میں تبدیلی کر لینا چاہیے لیکن یہ محبت کی علامت کے طور پر ادھر ہی رہنا چاہیے۔‘

’مجسمہ بنانے والوں کو ہمارا سلوٹ‘
فنکاروں کی ایک تحریک عوامی آرٹ کولیکٹو نے بھی ’عوامی آرٹ بچاؤ‘ کے عنوان سے مالیوں کے ہاتھوں سے تعمیر اقبال کے اس مجسمے کو محفوظ بنانے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اس مجسمے سے لوگوں کی معصومانہ اور پر خلوص محبت عیاں ہے اور یہ شکل، حجم، مواد اور منصوبے کی تعمیل میں بالکل اصل ہے۔‘
ان کا استدلال ہے کہ ’اس زبردست کاوش کو مسترد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اس کے بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس مجسمے کو ایک اصل عوامی آرٹ کے نمونے کے طور پر اپنا لینا چاہیے۔‘
ان کہنا تھا کہ 'ہم عوام کی طرف سے عوامی مقامات پر حقیقی اور بھرپور اظہارِ رائے میں یقین رکھتے ہیں، اس لیے ہم یہ مجسمہ بنانے والوں کو سیلیوٹ کرتے ہیں۔'










