پاکستان کی قومی اسمبلی میں مِنی بجٹ پیش، 150 اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز

مہنگائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے منی بجٹ پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں لیا ہے جس سے غریب پر بوجھ پڑے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیے گئے بجٹ کے دفاع میں کہا ہے کہ ٹیکس کی چھوٹ درآمد کی گئی اشیا پر تھیں جو کہ اب واپس لے لی گئی ہے اور یہ کہ 'غریب انسان ان اشیا کو استعمال نہیں کرتا‘۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے تقریباً ساڑھے تین سو ارب روپے کے مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیا پر پہلے سے موجود سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے یا نئے ٹیکسوں کی مد میں اس میں زیادہ سے زیادہ 17 فیصد تک بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس بجٹ کے ذریعے حکومت کو امید ہے کہ اسے ساڑھے تین سو ارب سے زیادہ کا ریوینیو حاصل ہو سکے گا لیکن اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

شوکت ترین کی پریس کانفرنس

پاکستان کے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت نے فائنانس (ضمنی) بل 2021 میں ٹیکس میں چھوٹ دیے گئے دو ارب کی اشیا کا جائزہ لیا تھا اور اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاں سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم تین ٹریلین ہے تو اس میں محض دو ارب روپے کے اضافے سے مہنگائی میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی چھوٹ درآمد کی گئی اشیا پر تھیں جو کہ اب واپس لے لی گئی ہیں۔

'غریب انسان ان اشیا کو استعمال نہیں کرتا، تو اس سے اس پر کیسے کوئی فرق پڑے گا؟ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے ان پر بوجھ پڑے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ درآمدی مشینری اور ادویات بنانے کے خام مال پر لگائے گئے ٹیکسز یا 'ری فنڈ ایبل' ہیں یا 'ایڈجسٹ' کیے جا سکیں گے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جہاں ڈیوٹیز سے متعلق بعض قوانین میں ترمیم کرنے کے مالی (ضمنی) بِل 2021 پر سوالات اور بحث ہوئی۔

وفاقی کابینہ نے اس مِنی بجٹ کی منظوری دے دی جس کے بعد اسے وزیر برائے خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

اس دوران کئی حکومتی وزرا نے واضح کیا کہ یہ بِل آج یعنی جمعرات کو منظور ہونے کے لیے پیش نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اسے صرف متعارف کرایا جارہا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس

بجٹ

،تصویر کا ذریعہPMO

'یہ بجٹ عوام کو مزید مہنگائی کی طرف لے جائے گا۔۔۔ اپوزیشن کے نمبرز پورے ہیں۔'

یہ کہنا تھا مریم اورنگزیب کا جن سے صحافیوں نے یکے بعد دیگرے سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے پوچھا کہ اپوزیشن کے دیگر ممبران کہاں ہیں؟

یہ سوال پوچھنے کے پیچھے جواز یہ تھا کہ جمعرات کے روز ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان مالی (ضمنی) بِل پر تنقید کرنے کے باوجود اسمبلی سے غیر حاضر رہے جہاں آج حکومت نے منی بجٹ کا بل متعارف کرا دیا ہے۔

اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی وزیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے وقفہ سوالات کو ختم کر دیا جس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین کو بِل پیش کرنے کو کہا جنھوں نے اپوزیشن بینچز کی جانب سے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود بِل پیش کر دیا۔

آج کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت کے مابین جملے بازی مسلسل جاری رہی اور اس دوران معاملات اس وقت مزید بگڑ گئے جب ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شگفتہ جمانی نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما غزالی سیفی کو تھپڑ مار دیا۔

یہ واقعہ سپیکر کے ڈائس کے بالکل پیش آیا۔ پہلے پہل صرف ایک خبر آئی کہ ایسا ہوا ہے لیکن بعد میں ویڈیو بھی سامنے آئی اور بتایا گیا کہ کس طرح یہ واقعہ پیش آیا۔

دوسری جانب اسمبلی میں صورتحال دیکھتے ہوئے بظاہر اپوزیشن کی کوئی مشترکہ پالیسی نظر نہیں آ رہی تھی۔

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کارروائی شروع کرنے کے بعد رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نوید قمر نے کہا کہ آٹھ میں سے چھ آرڈیننس اپنی مدت مکمل کر چکے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ ان کو کیسے توسیع دی جاسکتی ہے، جس کا جواب دیتے ہوئے بابر اعوان نے بتایا کہ بِل بر وقت پیش کیے جا چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری نے ایوان میں گنتی کو چیلنج کردیا جس کے بعد سپیکر نے گنتی دوبارہ کرائی اور قرارداد کے حق میں لوگوں کو اپنی کرسیوں کے سامنے کھڑے ہونے کا کہا۔

گنتی کے آخر میں سپیکر نے بتایا کہ حکومتی ارکان کی تعداد 145 ہے لیکن اپوزیشن بینچز پر صرف تین لوگوں کی گنتی ہو سکی جو اپنی سیٹ پر کھڑے ہوئے۔

کارروائی کے دوران مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف نے کہا کہ 'آج عوام کی زبان بندی کر کے پاکستان کی معاشی خود مختاری کو بیچا جارہا ہے۔'

فائنانس بل 2021 میں کیا ہے؟

حکومت کے اس فائنانس بِل میں تقریباً 150 اشیا پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جس کی منظور کی صورت میں ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد تک بڑھا دی جائے گی۔ یہ وہ اشیا ہیں جن پر پہلے یا تو مکمل ٹیکس کی چھوٹ تھی یا پھر پانچ سے بارہ فیصد تک ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔ ان میں کھانے پینے کی اشیا سر فہرست ہیں۔

اس بجٹ کے تحت عام تندور پر بننے والی روٹی اور نان پر تو ٹیکس نہیں بڑھایا گیا لیکن کسی ریسٹورنٹ، بیکری اور فوڈ چین میں تیار ہونے والی بریڈ پر 17 فیصد ٹیکس لگے گا۔

بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر تیار ہونے والے سامان پر بھی ٹیکس ساڑھے سات فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا جائے گا۔

بجٹ

،تصویر کا ذریعہEPA

اس بل کے تحت غیر ملکی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد ہوگی اور اس کے علاوہ کاسمیٹکس پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ امپورٹڈ موبائل فون پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

نو مولود بچوں کا دودھ بنانے والی مصنوعات پر ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی اور 17 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

فلیورڈ دودھ جو کسی برینڈ نام سے فروخت کیا جائے، اس پر ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد، جب کہ کسی بھی معروف برینڈ کی جانب سے ڈبے کا دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی اور دودھ پر بھی ٹیکس سترہ فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔

ماچس پر بھی سترہ فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ڈیری پروڈکٹس بنانے میں استعمال ہونے والی مشینری اور سامان پر پانچ فیصد کی جگہ سترہ فیصد ٹیکس لگے گا۔

جانوروں اور پولٹری کی بیرون ملک سے درآمد پر سترہ فیصد ٹیکس ہوگا لیکن مقامی سپلائی مستثنی رہے گی۔ پولٹری سیکٹر میں استعمال ہونے والی مشینری پر بھی جنرل سیلز ٹیکس سات سے سترہ فیصد کر دیا جائے گا۔

موبائل فونز پر فکسڈ ریٹ کی جگہ سترہ فیصد ٹیکس لگے گا اور موبائل فون کالز پر ٹیکس بھی دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کیا جائے گا۔ موبائل فونز مقامی طور پر بنانے والی انڈسٹری کو بھی مشینری کی درآمد پر سترہ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ پر بھی نیا ٹیکس عائد ہو گا۔ ساڑھے آٹھ سو سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سترہ فیصد جی ایس ٹی عائد ہوگا۔

بیرون ملک سے در آمد شدہ اخبارات، جرنلز، کتابوں پر سترہ فیصد ٹیکس سے سالانہ ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن کا امکان ظاہر کیا گیا ہے لیکن اس ٹیکس سے مقامی اخبارات کو استثنی حاصل رہے گا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کیا معاہدہ طے پایا ہے؟

رواں سال 22 نومبر کو پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے ذریعے آئی ایم ایف کے رواں سال اپریل میں تعطل کا شکار ہونے والے پروگرام کو ایک بار پھر شروع کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر آئی ایم ایف فنڈ کے تحت دیے جائیں گے۔

امف

،تصویر کا ذریعہReuters

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے ان تمام پالیسیوں اور اصلاحات کی تکمیل ضروری ہے جو چھ ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے لیے درکار ہیں۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اُن پانچ خصوصی عوامل کو بیان کیا جو اس فنڈ کو حاصل کرنے سے پہلے پورے کرنا لازمی ہیں۔

ان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان امینڈمنٹ ایکٹ 2021 کا منظور ہونا، جس کے ذریعے موجودہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں اسمبلی کے ذریعے تبدیلیاں لائی جائیں گی، ٹیکس کی چھوُٹ ختم کرنا، اور بجلی کی قیمتوں میں حکومتی ڈیوٹی کو زیادہ کرنا شامل ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان کو تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر کے اُس قرضے کا حساب بھی دینا ہوگا جو پاکستان کو اپریل 2020 میں کووڈ وبا سے بچاؤ کے لیے دیا گیا تھا۔

واضح رہے کے اس فنڈنگ پروگرام کی بنیاد جولائی 2019 میں رکھی گئی تھی، جو رواں سال کے شروع میں قانون سازی کی اصلاحات مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر آگے نہ بڑھ سکی۔

پاکستان میں سٹیٹ بینک کے کردار کو سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 کے تحت واضح کیا گیا تھا۔

جس کے بعد سے اس میں کئی بار تبدیلیاں اور ترامیم کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند خاصی واضح تبدیلیاں 1994، 1997، 2012 اور 2015 میں کی گئی ہیں۔ حکومتی ارکان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان امینڈمنٹ ایکٹ 2021 بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ سٹیٹ بینک کے طریقہ کار میں جدت لائی جائے۔