عمران خان کی جانب سے برفانی تیندوے کی ویڈیو ٹویٹ، لیکن کیا یہ پاکستان ہے یا ایران؟

تیندوا

،تصویر کا ذریعہCourtesy BWCDO

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 25 دسمبر کو برفانی تیندوے کی ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیئر کی جس میں گلگت بلتستان کے علاقے خپلو میں ایک برفانی تیندوا غُراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ وضاحت پیش نہیں کی کہ انھیں یہ ویڈیو کن ذرائع سے حاصل ہوئی یا پہلی مرتبہ اسے کس نے فلمایا۔ تاہم بلتستان کے علاقے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’بلتستان وائلڈ لائف کنزوریشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو اُن کے کیمرہ ٹریپ نے ریکارڈ کی تھی۔

اس تنظیم کے سربراہ پروفسیر ڈاکٹر شفقت حسین امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں ماحولیات اور بشریات کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو ضلع خپلو کے گاؤن خوشے میں کیمرہ ٹریپ کے ذریعے ریکارڈ ہوئی تھی۔

بی بی سی سے کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ بدقسمتی سے اس ویڈیو کو اُن کی تنظیم ہی کے کسی رکن نے تنظیم کے لوگو کے بغیر فیس بک پر شیئر کر دیا تھا۔

پروفسیر ڈاکٹر شفقت حسین کہتے ہیں کہ لگتا یہ ہی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے شاید یہ ویڈیو وزیر اعظم تک پہنچ گئی ہو گئی، جس پر انھوں نے اس کو شیئر کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس پر ہمارا عمران خان سے کوئی بھی کاپی رائٹ ایکٹ کا دعویٰ نہیں ہے۔

’ہم حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اس ویڈیو کو شیئر کر کے اچھا کیا ہے۔ پوری دنیا نے برفانی تیندوا کو دیکھ لیا۔ بس یہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں وہ ہمارا ذکر کر دیتے یا ہماری حوصلہ افزائی کر دیتے تو ہم زیادہ تن دہی سے اپنا کام جاری رکھتے۔‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ImranKhanPTI

پروفسیر ڈاکٹر شفقت حسین کا کہنا ہے کہ جب وزیر اعظم نے یہ ویڈیو شیئر کی تو انھوں نے وزیر اعظم کے مشیر اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم سے رابطہ کیا اور اُن کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کروائی۔

ڈاکٹر شفقت کے مطابق امین اسلم کے کہنے پر انھوں نے مزید ویڈیوز کے کلپ دوبارہ انھیں بھیجے جو انھوں نے ہمارے لوگو کے ساتھ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی تھیں۔ ’مجھے بعد میں امین اسلم صاحب نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس کو بھی ری ٹویٹ کیا تھا۔‘

اگر وزیر اعظم عمران خان کی ٹائم لائن دیکھی جائے تو انھوں نے پہلی ویڈیو کے بعد مزید دو ویڈیوز شیئرز کرتے ہوئے لکھا ’برفانی تیندووں کی رواں برس بنائی گئی مزید ویڈیوز مجھے بھجوائی گئی ہیں۔ ان کے قدرتی مسکن میں ان کی حفاظت کے حوالے سے میری حکومت کی کڑی پالیسی کے باعث ان کی تعداد بڑھ رہی ہے، ماشاءاللہ۔‘

تاہم اس مرتبہ وزیر اعظم کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیوز پر اس تنظیم کا لوگو بھی موجود تھا۔

وزیر اعظم کی جانب سے پوسٹ کردہ یہ ویڈیوز اب تک ہزاروں صارفین دیکھ چکے ہیں۔

بی بی سی نے اس بارے میں جب ملک امین اسلم سے بھی بات کی تو انھوں نے تصدیق کی اور بتایا کہ اُن کی پروفیسر شفقت سے پرانی واقفیت ہے اور وزیر اعظم کی پہلی ٹویٹ کے بعد انھوں نے اُن سے رابطہ کیا تھا۔

خپلو یا ایران؟

سوشل میڈیا پر عمران خان کچھ ٹویٹ کریں تو جہاں ایک جانب ان کے حامیوں کی جانب سے ٹویٹس کی بھرمار ہوتی ہے تو دوسری جانب بڑی تعداد میں ان کے ناقدین بھی اپنے پر تول کر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ اس ٹویٹ کی ساتھ ہوا اور کئی لوگوں نے عمران خان کی ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو دراصل ایران میں عکس بند کی گئی ویڈیو ہے جسے عمران خان نے اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کر دیا۔

تاہم بی بی سی نے اس بارے میں مزید فیکٹ چیکنگ کی تو پروفیسر شفقت کی بات کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ ان کی تنظیم کی شراکت دار، دا وائٹ لائن فاؤنڈیشن نے اپریل 2020 میں یہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھوں نے واضح طور پر بتایا کہ پاکستان کے علاقے بلتستان میں اس کو عکس بند کیا گیا ہے۔

وائٹ لائن فاؤنڈیشن نے اپریل میں اس ویڈیو کو جاری کرتے ہوئے اپنی پارٹنر تنظیم ’بلتستان وائلڈ لائف کنزوریشن اینڈ ڈویلپمنٹ‘ کا حوالہ بھی دیا جس کے کیمرہ ٹریپ میں یہ ویڈیو محفوظ ہوئی تھی۔

وائٹ لائن فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو کو ذرائع ابلاغ کے چینلز نے نشر کیا تھا۔

ویڈیو میں موجود برفانی تیندوے کیا کر رہے ہیں؟

پروفسیر ڈاکٹر شفقت حسین کہتے ہیں کہ جو ابتدائی ویڈیو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر شئئر کی ہے وہ انتہائی نایاب نظارہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس ویڈیو میں نظر آنے والا برفانی تیندوا ایک بالغ نر ہے جس کی عمر کم از کم تین سال ہے۔

’یہ وڈیو اس وقت کی ہے جب نر اور مادہ کے آپس میں ملاپ کرنے کا سیزن ہوتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ نر برفانی تیندوا اس وقت چنگھاڑ کر اپنی آواز کو مادہ تک پہنچا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دوسری ویڈیو جو کہ پہلے ملک امین اسلم اور بعد میں وزیر اعظم نے شیئر کی اس میں چار برفانی تیندوے نظر آرہے ہیں جس میں ایک مادہ اور ماں ہے جبکہ باقی تین تیندوے کم عمر ہیں۔

برفانی تیندؤں

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

کیمرہ ٹریپ کیوں؟

پروفیسر ڈاکٹر شفقت حسین کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم بلتستان کے علاقے میں کم از کم بیس سال سے برفانی تیندووں اور جنگلی حیات کی افزائش نسل اور تحفظ کے لیے کام کررہی ہے، جہاں ان کی زیادہ توجہ برفانی تیندوے پر ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شفقت حسین کا کہنا تھا کہ جن مقاما ت پر کام چل رہا رہا ہوتا ہے وہاں پر جنگلی حیات اور برفانی تیندوے کی نقل و حرکت کو سمجھنے کے لیے کیمرہ ٹریپ لگایا جاتا ہے۔

’جب ہم نے کام شروع کیا تھا تو اس وقت ایک کیمرہ ٹریپ لگایا گیا تھا۔ اب ان علاقوں میں کوئی 25 کے قریب کیمرہ ٹریپ لگائے گے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برفانی تیندوا اور جنگلی حیات کو کیمرہ ٹریپ کی مدد سے ریکارڈ کرنے کا مقصد تحقیق کرنا، جانوروں کی عادات کو سمجھنے کے علاوہ بہت سے معاملات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں موجود برفانی تیندوے

پروفسیر ڈاکٹر شفقت حسین کہتے ہیں کہ پاکستان میں موجود برفانی تیندووں میں سے 80 فیصد گلگت بلتستان میں رہتے ہیں جبکہ باقی بیس فیصد صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چترال اور پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں پائے جاتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر حیدر رضا کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت برفانی تیندووں کی تعداد تقریباً چھ ہزار کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں یہ تعداد ممکنہ طور پر 200 سے 400 تک ہے۔

محکمہ جنگلی حیات گلگت بلتستان کے کنزرویٹر اجلال حسین کا تیندووں کی تعداد کے بارے میں کہنا ہے کہ ملک میں ان کی تعداد کے حوالے سے اس سال دوبارہ ایک سروے شروع کیا جائے گا جس سے ان کی صیح تعداد کا اندازہ ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ برفانی تیندوے کے تحفظ کے لیے حکومت کے علاوہ غیر سرکاری اداروں نے بہت کام کیا ہے۔

’ہمارا خیال ہے کہ اس کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہو گا۔‘