کراچی دھماکے میں مرنے والے محنت کشوں کی ادھوری خواہشات اور ادھورے وعدوں کی داستان

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’بچو دیکھو میں جاہل اور ان پڑھ ہوں اس لیے گارڈ کی نوکری کررہا ہوں۔ اگر پڑھا لکھا ہوتا تو گارڈ کی نوکری نہ کرتا، خوب محنت کرکے پڑھنا تاکہ زندگی میں ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

یہ نصیحت تھی کراچی میں نجی بینک میں دھماکے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ محمد ذیشان آفریدی کی اپنے بچوں کو۔

محمد ذیشان کے بھائی محمد صفیان نے بتایا کہ ان کے بھائی یہ اکثر کہتے تھے کہ ’کراچی میں گارڈ کی نوکری بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اس میں کچھ پتا نہیں چلتا کہ کس وقت کیا ہوجائے۔‘

محمد ذیشان آفریدی کافی عرصے سے بینک گارڈ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کو کراچی میں شیر شاہ کے علاقے میں ایک نجی بینک کی برانچ میں دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

محمد صفیان، ذیشان آفریدی کے بھائی ہیں اور وہ خود بھی سکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بھائی اپنے بچوں کے بارے میں بہت حساس تھے۔

ان کے مطابق ’گذشتہ روز جب ذیشان حسن اپنے مقررہ وقت پر گھر نہیں پہنچے تھے تو ان کی چار برس کی بیٹی بہت پریشان ہوئیں اور وہ مجھ سے بار بار اپنے والد کا پوچھ رہی تھیں۔ اس کو بتانے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔‘

’اپنی طرح بچوں کو بھی چھوٹی عمر میں یتیم کرگیا‘

27 برس کے شفیع اللہ کا آبائی علاقہ خیبر پختونخوا کا ضلع لکی مروت ہے۔ وہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے ایم این اے عالمگیر خان کے والد دلاور خان کے ڈرائیور تھے۔ جب حادثہ ہوا تو اس وقت وہ دلاور خان کے ہمراہ موجود تھے۔

شفیق اللہ کے چچا زاد بھائی امیر نواز کا جو کہ استاد کی خدمات انجام دیتے ہیں کہنا تھا کہ شفیع اللہ نے سوگواروں میں تین کم عمر بچے اور بیوہ چھوڑی ہے جبکہ ان کی بوڑھی ماں اور تین کم عمر بھائیوں کا بھی سارا انحصار شفیع اللہ پر ہی تھا۔

شفیع اللہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ یہ صرف گیارہ سال کے تھے جب ان کے والد وفات پاگئے تھے۔

امیر نواز کے مطابق اس کے بعد ان کی والدہ نے محنت مزدوری شروع کردی تھی۔

وہ لوگوں کے گھروں کا کام کاج کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی رہی تھیں۔ شفیع اللہ جب تھوڑے بڑے ہوئے تو انھوں نے بھی محنت مزدوری شروع کردی تھی۔ اس دوران وہ کنڈیکڑی بھی کرتے رہے تھے۔

امیر نواز کا کہنا تھا کہ اس دوران انھوں نے اپنی والدہ سے محنت مزدوری چھڑا دی تھی۔

مشکلات سہتے ہوئے شفیع اللہ نے ڈرائیونگ سیکھ لی تھی۔ ڈرائیونگ سیکھنا انھیں کچھ موافق آیا تھا۔ محنتی اور ایماندار تھے جس بنا پر وہ عالمیگر خان کے والد دلاور خان کے پاس چار سال قبل ڈرائیور بھرتی ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کے کچھ حالات بہتر ہوئے تھے۔

’میرا جنازہ اپنے گھر سے نکلے۔۔ اب دیکھو تمھارا جنازہ کرائے کے گھر سے نکل رہا ہے‘

خود تو وہ مڈل کے بعد تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے مگر ان کی خواہش تھی کہ ان کے چھوٹے بھائی تعلیم حاصل کرلیں، جس کے لیے وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو ممکنہ سہولتیں فراہم کرتے رہے تھے۔

امیر نواز کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ان کی ایک اور خواہش اپنا گھر تعمیر کرنا۔

ایک پلاٹ تو انھوں نے حاصل کرلیا تھا۔ کچھ دن پہلے انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ نے کمیٹی ڈالی ہے۔ جب کمیٹی نکلے گی تو وہ اس سے اپنے گھر کی تعمیر شروع کریں گے۔ ایک دفعہ تعمیر شروع کی تو کبھی نہ کبھی تو پورا ہو ہی جائے گا۔

امیر نواز کہتے ہیں کہ ان کی بیوہ اور والدہ کی بری حالت ہے۔

بیوہ جنازے پر بار بار کہہ رہی تھی شفیع اللہ تم نے توکہا تھا کہ اپنا گھر بنانا ہے۔ کرایہ کے گھروں میں رہ رہ کر تنگ آ چکا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ میرا جنازہ اپنے گھر سے نکلے۔ اب دیکھو تمھارا جنازہ کرائے کے گھر سے نکل رہا ہے۔

والدہ کہہ رہی تھیں کہ تو خود بھی کم عمری میں یتیم ہوا ہے اب اپنے بچوں کو بھی کم عمری بھی یتیم کرگیا ہے۔

اتوار کے روز بچوں کو تفریح کروانا تھی

حاد ثے میں شیٹرنگ کے کام سے منسلک صوبہ خان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا آبائی ضلع جھنگ ہے جبکہ کراچی کی مزدور کالونی میں رہائش پزیر تھے۔ ان کے برادر نسبتی محمد عرفان بتاتے ہیں کہ صوبہ خان نے اپنے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خان کو چند دن قبل ہی کام ملا تھا۔

وہ اس پر بہت خوش تھے اور کہتے تھے کہ ان دنوں محنت مزدوری کم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کام کا ملنا غنیمت ہے۔ انھوں نے اپنے گھر والوں اور بچوں سے کہہ رکھا تھا کہ اتوار کے دن چھٹی والے روز وہ ان کو تفریح کے لیے لے کر جائیں گے۔ مگر افسوس کہ ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

’ابو اٹھو، ابو اٹھو‘ معذور بچے کی چیخیں سن کر ہر کوئی اشک بار ہو گیا

پچاس برس کے جنید زہری بینک میں کیشیئر تھے۔ ان کے سوگواروں میں بیوہ اور چار بچے ہیں، جن میں ایک بچہ معذور ہے۔ جنید زہری کے برادر نسبتی بابر زہری جو کہ ان کے چچا زاد بھی ہیں بتاتے ہیں کہ جنید زہری سب سے زیادہ اپنے معذور بچے کے ساتھ پیار کرتے تھے۔ بینک سے واپسی کے بعد ان کا سارا وقت اپنے اس معذور بچے کے ساتھ گزرتا تھا۔ بابر زہری بتاتے ہیں کہ جب ان کی لاش کو ہسپتال سے لایا گیا تھا تو ان کا معذور بچہ یہ صورتحال دیکھ کر ڈر گیا اور وہ چیخیں مار کر رونے لگا اس موقع پر وہ بار بار اپنے والد کو پکارتا رہا اور کہتا رہا کہ ابو اٹھو ابو اٹھو۔ معذور بچے کی یہ صورتحال دیکھ کر ہر کوئی اشک بار ہو گیا تھا۔ بابر زہری کا کہنا تھا کہ جیند زہری نے زہری قبیلے کی ایک جماعت بھی بنا رکھی تھی جس کے وہ خود خزانچی تھے جبکہ میں صدر تھا۔ وہ خزانچی اس لیے تھے کہ یہ ایک حساس کام تھا۔ اس میں وہ اپنے قبیلے کے غریب لوگوں کو تلاش کر کے مدد کیا کرتے تھے۔ اس واقعہ سے پہلے بھی جب ہماری بات چیت ہوئی تو ہم اس ہی موضوع پر بات کرتے رہے تھے کہ ہمیں کس طرح اپنے اس کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ بابر زہری کا کہنا تھا کہ وہ گھر کے واحد کفیل تھے۔ ابھی ان کے بچے چھوٹے ہیں جبکہ ایک معذور بچے کا علاج چل رہا ہے۔ اس صورتحال میں ان کا جدا ہونا ایک سانحہ سے کم نہیں ہے۔

سکیورٹی گارڈ محمد یونس کی کہانی: ’اپنی زندگی کو اپنے فرض پر قربان کردی تھی‘

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکے کے بعد بینک کے ایک محافظ لوگوں کو جہاں ایک طرف بینک کے پیسے لوٹنے سے منع کر رہے ہیں وہیں وہ ان کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں نظر آ رہے ہیں۔

ویڈیو میں نظر آنے والے یہ شخص بینک محافظ محمد یونس آفریدی تھے۔

دھماکے کے بعد وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ پیسے اور ایشیا ادھر ہی چھوڑو اور اپنی جانیں بچاؤ۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اسلحہ اور پیسے اکھٹا کررہے تھے جبکہ موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی مدد فراہم کررہے تھے۔

اس نجی بینک کے سکیورٹی انچارج بریگیڈر(ر) طارق محمود کے مطابق واقعہ کے بعد پہلا شخص یونس آفریدی تھا، جس نے سب کو اس واقعے کی اطلاع دی تھی۔

پولیس اور دیگر امدادی ایجنسیوں کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی اس نے بینک کے اثاثہ جات اور رقم کو محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے اس نے قریب ہی موجود پیٹرول پمپ کے عملے سے بھی مدد لی تھی۔ جو کہ شاید ان کے جاننے والے اور رشتہ دار تھے۔

طارق محمود کے مطابق یونس آفریدی نے نہ صرف زخمیوں کی جان بچانے کی کوشش بلکہ بینک کی حفاظت کا فریضہ بھی پوری طرح انجام دیا۔ وہ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑتا رہا۔ وہ ایک بہادراور فرض شناس شخص تھا، جس کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

محمد یونس آفریدی کے چچا زاد بھائی محمد آصف آفریدی جو کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارا خیال تھا کہ محمد یونس آفریدی دھماکے میں ہلاک ہوا ہے۔ مگر جب ہم لوگوں نے ویڈیو دیکھی تو حیران و پریشان رہ گئے کہ اس کے ساتھ ہوا کیا تھا۔

ان کے مطابق اس کے بعد ہم لوگوں نے بینک کے افسران اور سیکورٹی کمپنی کے افسران سے رابطہ کیا تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ محمد یونس آفریدی دھماکے میں محفوظ رہے تھے اور اس حملے کے بعد بھی وہ اپنے فرائض انتہائی جرات اور بہادری کے ساتھ ادا کرتے رہے تھے۔

محمد آصف کا کہنا تھا کہ انھیں بینک افسران اور سکیورٹی کمپنی کے افسران نے بتایا کہ جب وہ لوگ موقع پر پہنچے تو اس وقت محمد یونس آفریدی ہوش و حواس میں اپنے فرائض ادا کررہے تھا۔ ہمارے پہنچنے پر اس کے جسم سے خون نکلنا شروع ہوا تو اس کو سب سے آخر میں ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں ہسپتال پہنچ کر وہ دم توڑ گیا تھا۔

اب اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کہ اس کی ہلاکت کی وجہ کیا بنی تھی۔ ہمیں ہسپتال والوں نے بتایا ہے کہ اس کی ہلاکت کی وجہ دل کا دورہ تھا۔

کراچی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کے نیچے گزرنے والی سیوریج میں گیس کے اخراج کی وجہ سے موت واقع ہونا تحریر کیا گیا۔

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بلڈنگ کی سیوریج نالے کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیرات ہونے اور نالے کی گیس کے متواتر اخراج ہونے کی بنا پر واقع وقوع پزیر ہوا ہے۔ مذکورہ بلڈنگ سیوریج نالے پر ناجائز تعمیرات کر کے تعمیر کی گئی ہے۔

کراچی کے علاقے شیر شاہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غریب اور محنت کش لوگوں پر مشتمل تھی۔ ان کی اکثریت پاکستان کے دوسرے شہروں سے محنت مزدوری کرنے کراچی آئے تھے۔

اس میں صوبہ خیبر پختونخوا کے درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے ایک ہی قبیلے اور گاؤں کے تین افراد بھی شامل تھے۔

درہ آدم خیل کے گاؤں میں سوگ

محمد آصف آفریدی کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درہ آدم خیل کے ایک ہی گاؤں تورچھپر اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین افراد جن مین ان کے کزن محمد یونس آفریدی، محمد ذیشان آفریدی اور بینک کے کیشیئر سردار آفریدی ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب کی تدفین کراچی ہی میں کی گئی ہے۔ اس وقت عملاً ہمارے اپنے علاقے میں سوگ کا سماں ہے۔

محمد یونس آفریدی کراچی میں اورنگی ٹاون کے رہائشی تھے۔ وہ پاکستان فوج سے بحثیت سپاہی ریٹائر ہوئے تھے۔ انھوں نے سوگواروں میں چھ بچے، جس میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں، چھوڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چند دن قبل محمد یونس نے درہ آدم خیل سے چائے، قہوہ اور چپل کباب منگوا کر کھائے

محمد آصف آفریدی کہتے ہیں کہ چند دن قبل میں درہ آدم خیل گیا تو یونس نے مجھے وہاں کی چائے اور قہوہ اور وہاں کے مشہور زمانہ چپل کباب لانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ واپسی پر میں نے یہ سب اشیا ان کے حوالے کی تھیں۔ اس پر وہ بہت خوش تھے۔

محمد آصف آفریدی کہتے ہیں کہ محمد یونس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر افسر بنیں۔ وہ اپنے بچوں کو ہر وقت ترغیب دیتا تھا کہ وہ فوج میں افسر بننے کی تیاری کریں۔ اس کے لیے وہ ان کو ہر سہولت بھی فراہم کرتے تھے۔

وہ بڑا پر امید تھا کہ اس کے بیٹے فوج میں بھرتی ہوں گے مگراس کی طرح سپاہی نہیں ہوں گے بلکہ افسر بنیں گے۔ اب اگر وہ اپنے والد کی خواہش کو پورا بھی کردیں تو وہ یہ سب دیکھنے کے لیے موجود نہیں ہوں گے۔