کراچی: شیر شاہ کے علاقے میں دھماکے سے کم از کم 14 افراد ہلاک

کراچی میں شیر شاہ کے علاقے میں ایک نجی بینک کی برانچ میں دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کے مطابق دھماکہ بظاہر بینک کے نیچے سے گزرنے والے نالے میں گیس بھر جانے کے باعث ہوا ہے تاہم اُنھوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ ہی اس کی حقیقی وجہ کا تعین کر سکے گا۔

صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کے مطابق اس واقعے میں اب تک 14 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا سانحہ ہوا ہے۔

ہلاک شدگان اور زخمیوں کو کراچی کے سول ہسپتال میں ٹراما سینٹر اور جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایت پر ٹراما سینٹر اور جناح ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

وزیر صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 افراد کی لاشیں ٹراما سینٹر میں آئی ہیں، 2 لاشیں راستے میں ہیں اور 11 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے۔

دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سے ایک وینٹیلیٹر پر ہے اورایک آئی سی یو میں ہے۔

شیر شاہ دھماکے میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزیرِ بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس وقت ریسکیو پر توجہ دے رہے ہیں تاہم ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔