مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے سٹیٹ بینک کے بل کی حقیقت کیا ہے؟

سٹیٹ بینک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

گذشتہ روز پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے تیس سے زائد پاس ہونے والے بلوں میں سے ایک بل سٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق بھی تھا جس کو حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس بل کی منظوری سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس ایوان کو استعمال کر کے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے تابع لے جانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 'سٹیٹ بینک کو پارلیمان اور عدالت کو جوابدہ ہونا چاہیے اور آپ کی قانون سازی کی مطابق سٹیٹ بینک نہ تو ایوان کو جوابدہ ہو گا نہ ہی عدالت کو بلکہ ایوان سے بالاتر ہو گا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ آپ پارلیمان کے ہاتھ باندھ دیں۔ ہم اس کو بھی عدالت میں چیلنج کریں گے۔‘

پاکستان کی پارلیمان میں پاس ہونے والے بل کا ٹائٹل سٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروس کارپوریشن آرڈیننس 2001 ترمیمی بل ہے۔ اس بل کو حزب اختلاف سے لے کر میڈیا پر آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ترمیم شدہ بل قرار دیا گیا۔

پارلیمان سے منظور شدہ بل کیا ہے؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروس کارپوریشن آرڈیننس 2001 ترمیمی بل میں مرکزی بینک کے امور اور فرائض کے بارے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔

معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پارلیمان سے منظور ہونے والے بل کا اس بل سے کوئی تعلق نہیں جسے آئی ایم ایف سے جوڑا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مرکزی بینک کے امور اور کاموں سے متعلق بل سٹیٹ بینک 1956 ترمیمی بل ہے جو پارلیمان میں پیش ہی نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ میڈیا سے لے کر سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو اس بات کا پتا نہیں تھا کہ پارلیمان سے کون سا بل منظور ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اس بات کی تصدیق کی مشترکہ اجلاس سے منظور شدہ بل کا آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم والے بل سے کوئی تعلق نہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کی خودمختاری اور اس کے امور کو کسی قانونی کارروائی سے استثنیٰ دینے کا بل سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں ترمیم کا بل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس بل پر ابھی تک پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان تنازعہ ہے اور اسے تاحال پیش نہیں کیا جا سکا۔

سٹیٹ بینک کے سابق گورنر سلیم رضا نے اس سلسلے میں بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک ایکٹ ترمیمی بل کے کچھ حصے ہی سامنے آئے ہیں اور اس کا پورا بل ابھی تک فنانس منسٹری کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔

پارلیمان سے منظور شدہ سٹیٹ بینک بل کیا ہے اور اس کا کیا مقصد ہے؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروس کارپوریشن آرڈیننس 2001 ترمیمی بل کے تحت ان امور کو کسی بھی قانونی کارروائی سے استثنیٰ دیا گیا ہے جو ‘نیک نیتی‘ سے کیے گئے ہوں۔

یہ وہ واحد شق ہے جو پارلیمان سے منظور شدہ بل اور آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی زیرِ بحث تجاویز میں کسی حد تک یکساں ہے۔ یہ شق اس تاثر کو بھی جنم دینے والی شقوں میں سے ایک ہے کہ اگر سٹیٹ بینک کے اہلکار کسی تفتیشی ادارے جیسے نیب یا ایف آئی اے کو جوابدہ نہیں ہوں گے تو وہ پھر آئی ایم ایف کے زیادہ زیرِ اثر آ جائیں گے۔

سٹیٹ بینک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق گورنر سلیم رضا نے اس سلسلے میں کہا کہ قانونی کارروائی سے استثنیٰ کی یہ شق واضح نہیں ہے کیونکہ کون اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ بورڈ کے اراکین کا کوئی عمل نیک نیتی یا بد نیتی سے لیا گیا ہے۔

آئینی و قانونی امور کے ماہر وکیل ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں بتایا کہ اس شق کو صحیح طریقے سے اسٹرکچر نہیں کیا گیا کہ اگر بورڈ کے کسی ممبر کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہے تو نیک نیتی کا اندازہ کیسے لگایا جائے گا۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا اگرچہ یہ بل وہ نہیں ہے جو سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف شرائط کے تحت زیادہ خود مختاری دینے سے متعلق ہے تاہم یہاں بھی کسی حد تک استثنیٰ دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بورڈ کو اپنے امور میں کسی بیرونی ایجنسی جیسے کہ نیب، ایف آئی اے کی جانب سے کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگرچہ منظور شدہ بل میں کسی حد تک استثنیٰ دیا گیا ہے لیکن اس پر واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا کہ نیک نیتی اور بد نیتی پر مبنی امور کا فیصلہ کون کرے گا۔

مزید پڑھیے:

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مجوزہ بل اور منظور شدہ بل میں کیا فرق ہے؟

آئینی و قانونی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا آئی ایم ایف شرائط کے تحت تشکیل کیا جانے والا مجوزہ بل پارلیمان میں نہیں آیا تاہم اس کے منظر عام پر آنے والے متن کے مطابق سٹیٹ بینک کو مکمل طور پر خود مختاری اور اسے مکمل طور پر استثنیٰ دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بل میں کسی بیرونی ایجنسی جیسے نیب، ایف آئی اے اور کسی دوسرے صوبائی و وفاقی ادارے کو براہ راست کارروائی کا اختیار ختم کرنے کا کہا گیا ہے اور اسے مرکزی بینک کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔

اس وقت حکومت کو سٹیٹ بینک سے قرضے لینے کا حق ہے تاہم موجودہ قوانین میں ہر سہہ مائی کے بعد حکومت کو اس کو زیرو نیٹ قرضے پر لانا ہوتا ہے۔ مجوزہ قوانین میں حکومت سے یہ آپشن واپس لے لی جائی گی۔ اس کا اثر یہ پڑ سکتا ہے کہ جب سٹیٹ بینک سے قرضے لینے کی آپشن قانون میں موجود نہیں ہوگی تو جب بھی حکومت قرضے لینے کی کوشش کرے تو کمرشل بینک آپس میں مل کر حکومت کو مہنگے قرضے دیں۔

آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے کردار کا از سر نو تعین کیا گیا ہے جن میں داخلی طور پر مہنگائی اور مالیاتی نظام کو استحکام دینے کو اولین ترجیح دی گئی ہے جبکہ معاشی ترقی میں اس کی مدد کو فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ان ترامیم کے تحت سٹیٹ بینک حکومت کو ادھار تو نہیں دے گا لیکن اگر سٹیٹ بینک میں سرمائے اور ذخائر منفی سطح پر گر جاتے ہیں تو وفاقی حکومت کو اسے ضروری رقم فراہم کرنا پڑے گی۔

مجوزہ ترامیم کے تحت نیب، ایف آئی اے اور دوسرے وفاقی و صوبائی اداروں کو بینک کے ملازمین، ڈائریکٹرز، ڈپٹی گورنروں اور گورنر کو ان کے فرائض کی ادائیگی پر کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔

سٹیٹ بینک کے موجودہ قانون کے تحت ملک کی زری (مانیٹری) اور مالیاتی (فسکل) پالیسیوں کو مربوط رکھنے کے لیے ایک کوآررڈینیشن بورڈ ہوتا ہے تاہم ترامیم کے تحت اب گورنر سٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ باہمی رابطے سے یہ کام کریں گے۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ مجوزہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے بورڈ کا رکن نہیں ہو گا۔

گورنر سٹیٹ بینک کی مدت ملازمت تین سال کی بجائے پانچ سال ہو گی اور مجوزہ قانون میں تین برس کی توسییع کی بجائے پانچ سال توسیع کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ قانون میں صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ذمہ داریاں نہ نبھانے پر گورنر کو اس کے عہدے سے ہٹا سکتا ہے تاہم مجوزہ ترمیم کے تحت صدر بہت ہی سنگین غلطی پر، جس کا فیصلہ عدالت کر ے گی، گورنر کو ہٹا سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں سٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کر سکتا ہے کہ وہ ایسے شعبوں میں قرضے دیں جن شعبوں میں ترقی ملک کی ضرورت ہے (جیسے کہ برآمدات، مینیوفیکچرنگ، زراعت) تاہم اگر سٹیٹ بینک کے اہداف میں سے ملکی معیشت کی گروتھ کو قدرے کم اہمیت دی جائے گی تو پھر ممکن ہے کہ سٹیٹ بینک ایسا نہ کرے جس سے ملکی معیشت کی سمت طے کرنے میں مشکلات آ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں بتایا کہ پارلیمان سے منظور شدہ بل میں تھوڑا بہت استثنیٰ تو دیا گیا ہے لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کو ملنے والے بے تحاشا اختیارات اور مکمل استثنیٰ کے سامنے اس کی خاص حیثیت نہیں۔