ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنر سٹیٹ بینک تعیناتی اہم کیوں؟

،تصویر کا ذریعہThe British University in Egypt
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سابق عہدے دار رضا باقر کو وفاقی حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدرِ پاکستان نے ڈاکٹر رضا باقر کو تین سال کی مدت کے لیے گورنر سٹیٹ بینک تعینات کیا ہے اور ان کی مدتِ ملازمت اس وقت سے شروع ہو گی جس تاریخ کو وہ عہدہ سنبھالیں گے۔
جمعے کو سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جہانزیب خان کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا گیا تھا، جبکہ گذشتہ روز ڈاکٹر رضا باقر کو گورنر سٹیٹ بینک جبکہ کسٹمز سروسز گروپ سے تعلق رکھنے والے گریڈ 21 کے افسر احمد مجتبیٰ میمن کو ایف بی آر کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہFinance Division GOP
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر رضا باقر کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہBritish University in Egypt
ڈاکٹر رضا باقر سنہ 2000 سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے اور اِس وقت مصر میں بطور سینئر ریزیڈنٹ ریپریزینٹیٹو خدمات انجام دے رہے تھے۔
انھوں نے امریکی یونیورسٹی برکلے سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی سے بھی اکنامکس کی تعلیم حاصل کی ہے۔
ڈاکٹر رضا باقر نے سنہ 2005-2008 میں فلپائن میں بھی بطور سینئر ریزیڈنٹ ریپریزینٹیٹو خدمات سرانجام دی ہیں جہاں انھیں فلپائن کے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انھوں نے آئی ایم ایف مشن چیف کی حیثیت سے بلغاریہ اور رومانیہ میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔
سنہ 2012-2016 تک عالمی مالیاتی ادارے کے ڈیبٹ پالیسی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ وہ آئی ایم ایف کے نمائندے کے طور پر قبرص، گھانا، یونان، جمیکا، پرتگال، تھائی لینڈ اور یوکرین میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ورلڈ بینک سمیت ایم آئی ٹی یونیورسٹی اور یونین بینک آف سوئزرلینڈ میں بھی کام کیا ہے۔
سابق چیئرمین سینیٹ کی تنقید
سینٹ کے سابق چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئی ایم آیف کے موجودہ ملازم کی سٹیٹ بینک میں بطور گورنر تقرری افسوسناک ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک کا آئی ایم ایف کا ملازم ہونا جو پاکستان کو بیل آؤٹ پیکچ دینے جا رہا ہے مفادات کا تصادم ہے، یہ واضح ہے کہ ان کی وفاداری پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گی۔
یہ شرمندگی کی بات ہے کہ صوبوں کے وزراء خزانہ کو آئی ایم ایف کے درمیانے درجے کےافسر کے سامنے پیش کیا گیا اور اچھے رویے کے وعدے کروائے گئے
آئی ایم ایف ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے اور ان کے نمائندے مشیرِ خزانہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدوں پر براجمان ہیں۔ پرانے ادوار میں ملک آئی ایم ایف کے مکمل شکنجے میں نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور قومی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنر سٹیٹ بینک تعیناتی کیوں اہم؟
پاکستان کے مشیرِ خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کے موجودہ معاشی حالات میں بہتری لانے کے لیے بہترین ٹیم بنانا چاہتے ہیں اور ان کے اس وژن کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنر سٹیٹ بینک تقرری ایک اہم قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت معاشی صورتحال کے متعلق ایک جامع اقتصادی پلان اور حکمت عملی اپنانا چاہتی ہے اور اس کے لیے ڈاکٹر رضا باقر جیسے قابل شخص کی سٹیٹ بینک میں تعیناتی بہت اہم ہے جنھیں بین الاقوامی سطح پر بڑے اداروں میں معاشی معاملات کی بہت بہتر سمجھ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر رضا باقر ملک کی خدمت کے لیے آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی ادارے کی نوکری کو چھوڑ کر آ رہے ہیں ہمیں ان کے اس جذبے کو سرہانا چاہیے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین عالمی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کو ہٹائے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا ’ملکی مفاد میں کوئی بھی حکومت کبھی بھی کسی کو بھی ہٹا سکتی ہے۔`
یہ بھی پڑھیے!
اقتصادی ماہرین کی رائے
ماہر معاشیات سید شبر زیدی کا ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنر سٹیٹ بینک تقرری پر کہنا تھا کہ بنیادی طور پر گورنر سٹیٹ بینک کا عہدہ اقتصادی ماہر اور ڈویلپمنٹ اکنامسٹ کا ہے اور اگر ہمیں ایسی معاشی پالسیاں بنانی ہیں جو طویل مدتی ہوں اور پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو یہ فیصلہ بہت خوش آئند ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا ’پاکستان کے معاشی نظام کو سرجری کی ضرورت ہے اور اس جانب یہ پہلا قدم اٹھایا گیا ہے۔‘
سید شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ایک ڈویلپمنٹ اکنامسٹ ہی پاکستان کو بہتر معاشی و اقتصادی سطح پر لا سکتا ہے۔ اگر ایک آدمی جس کا بین الاقوامی سطح ہر عالمی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے تو وہ شائد ہمارے نظام میں بہتر تبدیلیاں لا سکے۔
سید شبر زیدی کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر کی تعینانی پاکستان کا ایک طویل المدت معاشی وژن ہے جس کے ثمرات 2020 کے پاکستان پر نہیں بلکہ 2030 کے پاکستان پر ظاہر ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سنہ 1970 کے بعد سے کوئی اکنامک پلاننگ کمیشن نہیں بنایا گیا اور ہماری حکومتیں ایڈہاک بنیادوں پر معاشی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کرتی رہی ہیں۔ ہمیں پاکستان کو اگلے تیس سے پچاس برس کا معاشی پلان بنانا ہوگا اور اس کے لیے ہمیں رضا باقر جیسے ذہنوں کی ضرورت پڑے گی جو اگلے پچاس سال کا سوچ سکتے ہوں۔
جبکہ اقصادی امور کے ماہر اور سنئیر صحافی شہاز رانا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنر سٹیٹ بینک تعیناتی غیر متوقع نہں تھی کیونکہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو جب ہٹایا گیا تو اس وقت ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر رضا باقر نئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے پرانے ساتھی ہیں اور دونوں نے ورلڈ بینک میں ایک ساتھ کام کیا ہے۔
شہباز رانا کا کہنا تھا کہ رضا باقر صاحب اس سے پہلے بھی پاکستان آتے رہے ہیں اور گذشتہ چند ماہ میں جب سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے خلاف لابنگ ہوئی اور حکومتی اجلاسوں میں ان کی چند معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو ڈاکٹر رضا باقر بھی ان اجلاسوں میں شامل تھے اگرچہ وہ اس وقت آئی ایم ایف میں ملازمت کر رہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹر رضا باقر کی گورنر سٹیٹ بینک کی تقرری سے تحریک انصاف کے نئے پاکستان کا ایجنڈا ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا ہے۔ اب جو ملک میں معاشی پالیسیاں بنیں گی وہ ان افراد کے ہاتھوں میں چلی گئ ہیں جن کی پی ٹی آئی سے کوئی وابستگی نہیں ہے یا جن کا تعلق بین الاقوامی اداروں سے ہے۔
رضا باقر کی اس وقت تعیناتی پر رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات طے ہوتے ہیں تو وقتی طور پر حکومت اس کو اپنی کامیابی قرار دے سکتی ہے مگر آئی ایم ایف کی جانب سے حالیہ پروگرام میں ٹیکس نظام اور بجلی کی قیمتوں سمیت سخت شرائط کے بارے میں عوامی ردعمل سے حکومت کو مسائل ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کو عہدے سے ہٹانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے خلاف حکومتی سطح پر ایک لابی متحرک تھی اور ان پر مسلم لیگ ن کے بہت قریب ہونے کا الزام تھا۔
صحافی شہباز رانا کے مطابق طارق باجوہ سابق دورِ حکومت میں بھی مانیٹری پالیسی اور دیگر امور پر اپنی ایک واضح پوزیشن لیتے رہے ہیں لہذا حکومتی حلقوں کی جانب سے اس الزام کو درست نہیں کہا جا سکتا۔











