ملالہ یوسفزئی، عصر ملک کا نکاح: سوشل میڈیا پر خواتین کی چوائس اور آزادی پر بحث

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Malala
’میں حیران رہ گئی جب مجھے پتہ چلا کہ ملالہ نے پاکستانی بندے سے شادی کی ہے۔ وہ فقط 24 سال کی ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ آکسفورڈ میں پڑھنے گئی وہ کسی ترقی پسند ہینڈسم کی محبت میں گرفتار ہو گی۔۔۔۔ لوگو! یہ سب کچھ اب تھوڑا سا عجیب ہو رہا ہے۔ اسے اور اس کے ساتھی کو امن اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دیں۔‘
گذشتہ دنوں جب ملالہ نے اپنے نکاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں تو بہت سے لوگوں نے اس خبر پر اپنی خوشی اور خوشگوار حیرت کا اظہار اس نوعیت کے سوالات پوچھتے ہوئے کیا کہ ملالہ کے شوہر کون ہیں اور کیا کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اس شادی میں روایتی طور پر دلہن کے نکاح کے جوڑے اور میک اپ میں دلچسپی لینے سے زیادہ بہت سے لوگوں نے ایسے تبصرے کیے جو ظاہر کرتے ہیں جیسے ملالہ کی شادی ان کے لیے اچھنبے کی بات ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں نے بات ملالہ کے شادی سے متعلق خیالات پر بھی کی اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن یہ بحث اب ایک نیا رُخ اختیار کرتی نظر آ رہی ہے جہاں بات کسی بھی عام لڑکی کے شادی کے فیصلے میں اس کی مرضی اور وقت کے چناؤ تک پہنچ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Malala
تو پہلے مختصراً بات کرتے ہیں ملالہ کے انٹرویو کی جس میں انھوں نے کہا تو فقط یہ تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی انسان کو شادی کیوں کرنی ہوتی ہے۔‘ اس وقت تو ان پر سوال اٹھایا ہی گیا تھا کہ وہ ایسی بات کیوں کر رہی ہیں لیکن اب جبکہ انھوں نے شادی کر لی تو پھر اس فیصلے کو سابقہ بیان سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔
صارف تسلیمہ نسرین نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’میں حیران رہ گئی جب مجھے پتہ چلا کہ ملالہ نے پاکستانی بندے سے شادی کی ہے۔ وہ فقط 24 سال کی ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ آکسفورڈ میں پڑھنے گئی وہ کسی ترقی پسند ہینڈسم کی محبت میں گرفتار ہو گی۔ شادی کے بارے میں 30 سال کی عمر سے پہلے نہیں سوچے گی لیکن۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
صارف ماہا خالد نے تسنیم سے سوال کیا کہ کیا یہ آپ کے اپنے خیالات ہیں یا آپ مذاق کرنے کی کوشش کر رہی ہیں؟ اگر مذاق ہے تو ہا ہا لیکن اگر نہیں تو اس کی زندگی اس کی مرضی۔۔۔ کسی کو بھی عوام کو اپنی ذاتی زندگی کی چوائسز کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہMahakhalid/twitter
عمار رشید نے لکھا کہ ’ملالہ آپ کے لیے کوئی ایسا کینوس نہیں ہے جہاں آپ اپنے تمام عجیب و غریب نظریاتی تصورات پیش کر سکیں۔ یہ سب کچھ اب تھوڑا سا عجیب ہو رہا ہے۔ اسے اور اس کے پارٹنر کو امن اور ان کی مرضی کے ساتھ زندگی گزارنے دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
لیکن اس کے بعد تسنیمہ کی اگلی ٹوئٹ تھی کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار ہونے سے قبل شادی نہیں کرنی چاہیے۔
راجیو وگہیچرولا نے لکھا کہ یہ بہت حتمی انداز کا جملہ ہے میرے خیال سے شادی کرنے کے لیے محبت اور اعتبار ضروری ہے اور اگر ایک جوڑا اچھا کما رہا ہے تو مسئلہ کیا ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا شادی واقعی عورت کی اپنی چوائس ہوتی ہے۔
ندا کرمانی نے لکھا لیکن شادی کوئی کامیابی نہیں، یہ زندگی کی چوائس ہے۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی خواتین دیکھی ہیں جنھیں اس ہر لحاظ سے رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سوسائٹی کے پریشر کی وجہ سے ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اگرچہ انھوں نے اپنی ٹویٹس میں اسے واضح کیا کہ وہ ملالہ کی شادی کے فیصلے سے اس بحث کو نتھی نہیں کر رہیں لیکن بہت سی ٹوئٹس میں انھیں منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاخر انھوں نے اس بحث کو یہ کہہ کر سمیٹا کہ ’بہت سی فیمنیسٹ اور دیگر خواتین شادی کرتی ہیں میں ان کو اس پر نہیں پرکھتی میں سسٹم کو پرکھتی ہوں جو تمام ممکنات کی اجازت نہیں دیتا۔‘
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن نایاب گوہر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ جہاں تک ملالہ کی شادی ہے یا کسی عوامی شخصیت کی، تو اس پر بات تو ہوتی ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کسی کی زندگی کے ایسے مواقع کو اپنے نظریات کے پرچار کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ یہ درست ہے شادی میں پریشرز بھی ہوتے ہیں، یہ ایک نظام ہے جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہر عورت پر ایسا پریشر ہو خاص طور پر ایسی خواتین جنھوں نے زندگی میں نمایاں کام کیا جیسا ملالہ نے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتی ہیں کہ ہر چوائس کے لیے عورت کو پرکھنا/ جج نہیں کرنا چاہیے۔
عورت کے معاشی طور پر خودمختار ہونے کے معاملے پر کی جانے والی بات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو معاشی طور پر خود مختار ہونے کے لیے اکثر اوقات زور نہیں دیا جاتا بلکہ اس خودمختاری کے لیے اس کی شادی کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کا حل تو یہی ہے کہ خواتین کی شادی سے پہلے اور بعد دونوں میں خواتین کی پڑھائی اور خودمختاری کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
نایاب گوہر سمجھتی ہیں کہ اس حوالے سے معاشرے کے رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔











