پاکستان میں سٹارٹ اپ: کیا نوجوانوں کے لیے اس وقت سٹارٹ اپ شروع کرنا عقلمندانہ فیصلہ ہو گا؟

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
’میں پچھلے سات سال سے ایک سرکاری ہسپتال میں بطور ماہر نفسیات کام کر رہی تھی۔ وہاں کئی ایسے مریض آتے تھے جو نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے تھے لیکن ایک سیشن کے بعد یا تو دوبارہ آتے نہیں تھے یا پھر زیادہ تر مریض نفسیاتی مسائل کو بیماری ہی سمجھتے ہیں۔‘
ڈاکٹر رابعہ عثمان ماضی میں خود بھی ذہنی دباؤ کی شکار رہی ہیں۔
’میری بہت چھوٹی عمر میں شادی ہو گئی تھی، جس کے بعد بچے اور شادی کے بعد پیش آنے والے دیگر مسائل میں طویل عرصے تک الجھی رہی۔ پھر میرے بھائی کی موت واقع ہو گئی جس نے مجھے مزید ہلا کر رکھ دیا اور میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔
’اس وقت میں نے سوچا کہ مجھ جیسی اور کتنی خواتین ہوں گی جو ایسے مسائل سے دوچار ہوں گی جو ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ میں نے اس وقت ایک سٹارٹ اپ شروع کرنے کا سوچا۔ ایک ایسی ہیلپ لائن جو 24 گھنٹے لوگوں کے نفسیاتی مسائل حل کرنے کے لیے دستیاب ہو۔ اگر ڈپریشن کی بات کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ زیادہ تر ڈپریشن اٹیک رات کے اوقات میں ہوتے ہیں اور اس وقت مریض کے پاس کوئی ایسی طبی امداد موجود نہیں ہوتی کہ اس کے مسئلے کا حل نکل سکے۔‘
وہ کہتی ہیں ’اس کے لیے میں نے چند ایسے ماہر نفسیات ڈاکٹروں کو اپنے ساتھ ملایا جو ہر وقت مریض کی مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد میں نے ’لِسنر ڈاٹ پی کے‘ کے نام سے ایک کمپنی شروع کی۔
’آج اس کمپنی کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ ہم مارکیٹ ریٹ کے لحاظ سے مریضوں سے کم پیسے لیتے ہیں تاکہ وہ اپنا علاج کسی معاشی بوجھ کے بغیر کروا سکیں۔ اس وقت ہم ایک سیشن کے 800 روپے لیتے ہیں۔‘
رابعہ کے مطابق کوئی بھی سٹارٹ اپ شروع کرنے کے لیے پیسے درکار ہوتے ہیں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹارٹ اپ ہوتا کیا ہے؟
عام طور پر بزنس یا کاروبار ایک روایتی انداز میں مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے کسی بھی کام کا آغاز کرنے کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص روایتی انداز میں کپڑے کی دکان کھول لے تو اسے کاروبار کہا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب اگر کوئی ایسے کپڑے کی دکان کھولتا ہے جہاں وہ نئی قسم کا کپڑا متعارف کرواتا ہے اور اسے فروخت کرنے کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے تو اسے سٹارٹ اپ کہا جاتا ہے۔
سٹارٹ اپ ایک اچھوتے خیال کو کہا جاتا ہے جو مارکیٹ میں آنے کے بعد تبدیلی اور نئے آئیڈیا کو فروغ دیتا ہے۔ سٹارٹ اپ شروع ہوتے ہی تیزی سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے جبکہ عام کاروبار آہستہ آہستہ اپنی جگہ بناتا ہے۔
اگر سرمایہ کاری کی بات کی جائے تو سٹارٹ اپ میں زیادہ تو ’سِیڈ فنڈنگ‘ یا بنیادی سرمایہ کاری آتی ہے اور سرمایہ کار اس آئیڈیا میں سرمایہ لگانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
دوسری طرف ایک عام بزنس میں آپ خاندانی کاروبار کو لے کر چلتے ہیں یا خود کی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سٹارٹ اپ شروع کرنے کے لیے آپ کے پاس انتہائی اچھوتا آئیڈیا ہونا ضروری ہوتا ہے کیونکہ 10 میں سے ایک ہی ایسا سٹارٹ اپ ہوتا ہے جو کامیاب ہوتا ہے۔
کیا پاکستان میں اس وقت سٹارٹ اپ شروع کرنا عقلمندانہ فیصلہ ہے؟
گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سٹارٹ اپس کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ اس وقت پاکستان جنوبی ایشیاء میں دوسرے ایسا ملک ہے جہاں لوگ سٹارٹ اپ شروع کر رہے ہیں۔
اگر آپ بھی کوئی سٹارٹ اپ شروع کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ اس کے لیے سب سے بہترین شہر لاہور ہے اور اس کے بعد کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور پھر فیصل آباد ہیں، جبکہ اس سال میں پاکستان میں شروع ہونے والے سٹارٹ اپس میں لگ بھگ 30 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرنے والے زیادہ تر وہ نوجوان جو اس انڈسٹری کا حصہ ہیں، سمجھتے ہیں کہ نوکری کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی کے تابع ہیں۔ آپ کو ایک مخصوص لائن پر چلنا ہوتا ہے اور زیادہ تر آپ کے نئے آئیڈیا کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جبکہ دوسری جانب وہی پیسے جو کسی اور کی کمپنی کے لیے کما رہے ہوتے ہیں وہ آپ سٹارٹ اپ میں اپنے لیے کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرنے والے زیادہ تر افراد ایسے تھے جنھوں نے نوکری چھوڑ کر اپنا کام ایک انوکھے انداز میں کرنے کو اہمیت دی۔
ای کامرس ماہر بدر خوشنود کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی سٹارٹ اپ شروع کرنے کا یہ وقت اچھا ہے کیونکہ اب زیادہ تر لوگوں کی رسائی انٹرنیٹ تک ہے۔
تقریباً 10 کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں اس لیے اپنے پروڈکٹ کو بیچنا زیادہ آسان ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت پاکستان نے سٹارٹ اپس شروع کرنے والوں کے لیے تین سال تک ٹیکس کی چھوٹ بھی دے رکھی ہے۔
سٹارٹ اپ شروع کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
سٹارٹ اپ انڈسٹری کو سمجھنے والی مدیحہ پرویز کے مطابق اگر آپ کوئی سٹارٹ اپ شروع کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے پہلے آپ کو ایک بہترین آئیڈیا سوچنے کی ضرورت ہے۔
اس آئیڈیا کو لے کر ایک پروڈکٹ لانچ کرنے کے لیے آپ کو اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ آپ کے صارفین کے لیے یہ کتنا اہم ہے۔ کوئی بھی کمپنی شروع کرنے کے لیے آپ کو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے ایک بہترین ٹیم کو تشکیل دینا ضروری ہے جو اپنے کام میں ماہر ہوں۔
یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے پاس مارکیٹنگ ٹیم اچھی ہو۔ جب آپ یہ سب کر لیں تو پھر اپنا بزنس ماڈل ڈیزائن کریں یعنی کس طرح آپ کی پروڈکٹ صارفین تک پہنچے گی، اس کی قیمت کیا ہو گی وغیرہ وغیرہ۔

آخر میں آپ کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے آپ خود اپنا پیسہ بھی لگا سکتے ہیں اور اگر آپ کے پاس وہ نہیں ہے تو یاد رکھیے کہ بہترین آئیڈیا پر بہت سے لوگ سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
اگر آپ کے پاس اپنے سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے زیادہ پیسے نہیں ہیں تو اس کا حل بھی موجود ہے۔
پاکستان میں کئی ایسے دفاتر موجود ہیں جہاں آپ جیسے کئی اور لوگ موجود ہوتے ہیں جن کے پاس دفتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری نہیں ہے۔
لاہور میں موجود ایسے ہی دفتر، کولیبز کے سی ای او عمر شاہ کا کہنا ہے کہ ایسی جگہ بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ لوگ جو پڑھائی مکمل کر کے کچھ کرنا چاہتے ہیں یا ایسا کوئی شخص جو اپنا کام کرنا چاہتا ہے اس کو یہاں آرام سے 10 سے 15 ہزار میں بیٹھنے کی جگہ مل سکتی ہے، جہاں سے وہ اپنے کاروبار کو چلا سکتا ہے۔












