آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پرزے‘: ادب کے نوبیل کی ٹیس

اڑیں گے پرزے
    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

ادب کے نوبیل انعام کا اعلان ہوا اور وہی ٹیس جو ہر برس اس اعلان کے بعد اٹھتی ہے پھر سے اٹھی۔ سب ’سی‘ کر کے رہ گئے کہ واویلے میں بدنامی ہے۔

ادب کے پچھلے نوبیل کے موقعے پہ ایک سیر حاصل بحث کی تھی، جس کا نتیجہ ظاہر ہے اتنی جلد تو برآمد ہو نہیں سکتا لیکن بات بہرحال چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

اس بار کا نوبیل انگریزی زبان کے ادیب ہی کو ملا۔ عبدالرزاق گرناہ انگریزی میں لکھتے ہیں۔ حسب معمول ہمارے ہاں پڑھنے والوں کی اکثریت انھیں نہیں جانتی تھی۔ ہاں ان کے ایک ناول کا اردو ترجمہ ’یاد مفارقت‘ کے نام سے ہو چکا ہے۔

یہ درد صرف سرحد کے اس پار ہی نہیں اٹھا، اس پار بھی یہ ہی تکلیف ہے۔ ٹیگور کے نوبیل کے ساتھ بھی مسئلہ یہ ہی ہے کہ یہ کسی مقامی زبان کی بجائے ٹیگور کے انگریزی ترجمے کی بدولت ہی ملا۔

وہاں اس مسئلے کو کسی اور تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ وہ عام طور پہ اسے ’سیاست، ذات پات، مذہب کی بنیاد پہ تقسیم اور ہند کے جاگیر دارانہ نظام‘ کے سر باندھتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی وجوہات کم و بیش ایسی ہی ہیں۔ میں اردو ادب کے انگریزی میں ترجمہ نہ ہونے کو اس کی وجہ سمجھتی ہوں اور ایک دوست کے نزدیک اس کی وجہ قاری کا ناپید ہونا ہے۔

عبدالرزاق گرناہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعبدالرزاق گرناہ

وجہ جو بھی ہو یہ امر ایک حقیقت ہے کہ دو ایک نوبیل (چاہے کسی بھی شعبے میں) ملنے کے بعد ہماری نسل کے ادیبوں کے دلوں میں ٹمٹماتی ہی سہی مگر امید کی ایک شمع روشن تو ہوتی ہے۔ خاص کر ان ادیبوں کے دلوں میں جنھوں نے انگریزی میں لکھا۔

اردو لکھنے والوں نے تو جب اس وادی پرخار میں قدم رکھا تھا تو عقل دور تک سمجھانے آئی تھی لیکن یہ معاملہ عشق کا ہے۔

اردو کے نثر نگار، خاص کر ہمارے ہم عصر ناول نگار، باقی دنیا کی طرح نہیں لکھتے۔ ہم ناول ایسے لکھتے ہیں جیسے مزاروں پہ مست لوگ قوالی کی دھن پہ حال کھیلتے ہیں۔

نثر نگار ہی کیا شاعر بھی عجیب نیم دیوانے سے ہو کر لکھتے ہیں۔ ہمارا ادب تخلیق کرنے کا معاملہ خاصا مابعد الطبیعیاتی سا ہے۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اکثر لکھنے والے دو متوازی دنیاؤں کی باتیں کرتے پائے جاتے ہیں۔ ایسی باتیں سن کے پہلے پہل تو بہت ہنسی آتی تھی مگر اب خود بھی ایسی باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے۔

ادیب کی جو گت ہمارے ہاں بنتی ہے اس سے سب خوب ہی واقف ہیں۔ اس لیے کوئی کل وقتی ادیب شاید ہی نظر آئے۔

یہ سب مسائل اگلے برس تک بھی حل نہیں ہوں گے اس لیے ہم اگلے برس بھی ایسی بہکی بہکی باتیں کرکے ایک دو روز گزاریں گے اور اس سے اگلے برس تک ہمیں یاد بھی نہ آئے گا کہ پچھلے برس کا انعام کس کو ملا تھا۔

نوبیل کمیٹی پہ لابی وغیرہ کے الزام دھرنے کے بعد ذرا اپنے ملک میں موجود دو ایک ادبی انعامات کی طرف بھی دیکھ لیجیے گا۔ وہاں انعام دینے کے طریقہ کار کو دیکھ کے پھر سے نوبیل کا نتیجہ دیکھیے خاصا افاقہ ہو گا۔