جام کمال خان: وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف ان کی اپنی پارٹی سمیت دیگر حکومتی اراکین کی تحریک عدم اعتماد

جام کمال
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف حکومتی اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے جس میں ان کی اپنی پارٹی سمیت اتحادی پارٹیوں کے اراکین شامل ہیں۔

پیر کے روز اسمبلی سیکریٹریٹ میں ان کے خلاف دوسری مرتبہ جو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے وہ وزیر اعلیٰ کے خلاف ناراض حکومتی اراکین کی جانب سے کرائی گئی ہے جس پر 14 اراکین کے دستخط ہیں۔

تحریک عدم اعتماد پر جن حکومتی اراکین کے دستخط ہیں ان میں ان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی جسے گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے بعض تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر واپس کیا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ناراض حکومتی اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ناراض اراکین کی جانب سے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد پر نہ صرف 14 اراکین کے دستخط ہیں بلکہ سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔ اس لحاظ سے اب تک ناراض اراکین کی اعلانیہ تعداد 15ہوگئی ہے۔

جبکہ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جنھوں نے پہلے ہی وزیر اعلیٰ جام کمال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ 65 اراکین کے ایوان میں ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 38 ہے جبکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 اراکین کی ضرورت ہے جس کے باعث وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔

تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر انوار کاکڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مستعفی نہیں ہوں گے بلکہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔

حکومتی اراکین کی تحریک عدم اعتماد میں کیا کہا گیا ہے؟

ناراض اراکین کی جانب سے جو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران وزیر اعلیٰ جام کمال کی ’خراب طرز حکمرانی‘ کی وجہ سے بلوچستان میں شدید مایوسی، بد امنی اور بے روزگاری ہے جبکہ اداروں کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے متن کے مطابق وزیر اعلیٰ کی خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے جام کمال نے اقتدار پر براجمان ہو کر اپنے آپ کو ’عقل کل‘ سمجھ کر تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلا رہا ہے جس سے بلوچستان کو ’ناقابل تلافی نقصان‘ پہنچا۔

متن میں کہا گیا ہے کہ 'اس بارے میں انھیں کابینہ اور اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتے رہے لیکن انھوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی'۔

تحریک عدم کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاق کے ساتھ بلوچستان کے آئینی اور بنیادی حقوق ہیں، ان پر بھی وزیر اعلیٰ نے ’غیر سنجیدگی‘ کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے بلوچستان میں گیس، بجلی اور پانی کے شدید بحران پیدا ہوئے۔

بلوچستان

اس میں کہا گیا ہے کہ 'اس وقت خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے بیوروکریٹس، ڈاکٹر، طلبہ (اور) زمیندار سراپا احتجاج ہیں۔‘

تحریک میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو ’خراب طرز حکمرانی‘ کے باعث قائد ایوان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ پر ایوان کے اکثریت کے حامل رکن کو وزیر اعلیٰ اور قائد ایوان منتخب کیا جائے۔

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے حکومتی اراکین کا تعلق کن جماعتوں سے ہے؟

تحریک عدم اعتماد پر جن ناراض حکومتی اراکین کے دستخط ہیں ان میں ان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

ان اراکین میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جبکہ دو کا تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور ایک کا تعلق تحریک انصاف سے تھا۔

جن اراکین کے تحریک عدم پر دستخط تھے انھوں نے شام کو تحریک عدم اعتماد اسمبلی کے سیکریٹری کے حوالے کی۔

اراکین نے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو انھوں نے ایک موقع دیا تاکہ وہ ’باعزت‘ طریقے سے مستعفی ہو جائیں لیکن انھوں نے ’ہماری بات کو اہمیت دینے کی بجائے یہ کہا کہ وہ 12 لوگوں کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ مستعفی نہیں ہوئے تو انھوں نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی جس پر زیادہ تر بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کے ہی دستخط ہیں۔

مگر تحریک عدم اعتماد لانے سے قبل ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کے لیے دو ہفتے کی مہلت کیوں دی تھی؟

اگرچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ان کی اپنی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین طویل عرصے سے ناراض تھے لیکن ستمبر کی وسط میں جب حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین کا ایک گروپ بھی سامنے آگیا۔

دنیا نیوز کے بیورو چیف عرفان سعید کے مطابق ناراض اراکین کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی پر ہی حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھی کیونکہ اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو منظور کرانا حزب اختلاف کے لیے ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض دیگر اراکین نے ناراض اراکین سے مذاکرات کیے لیکن وہ جام کمال کے ساتھ چلنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ ناراض اراکین کو دوبارہ جام کمال کی حمایت پر آمادہ نہیں کرایا جاسکا تاہم انھیں بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہیں کریں کیونکہ اس سے حزب اختلاف کو شے ملے گی اور انھیں ملک میں مسائل کھڑے کرنے کے لیے حوصلہ ملے گا۔‘

اگرچہ حزب اختلاف کی جانب سے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے لگائے جانے والے اعتراضات کے باعث پیش نہیں کی جاسکی تھی تاہم عرفان سعید کے مطابق ناراض اراکین نے حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کے لیے یہ شرط رکھ دی تھی کہ وزیر اعلیٰ پندرہ یوم تک خود مستعفی ہو جائیں۔

تاہم وزیر اعلیٰ اس مہلت کے دوران مستعفی تو نہیں ہوئے لیکن انھوں نے ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کرنے کے علاوہ اسلام آباد میں اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد میں گذشتہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے دوران جن اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں ان میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل تھے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے ضلع لسبیلہ کے علاقے حب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ فوج کے سربراہ کے ساتھ سیاسی معاملات پر ہی بات چیت ہوئی ہو۔

وزیر اعلیٰ کوئٹہ میں متعدد ناراض اراکین کے گھروں پر گئے اور ان سے ان کے تحفظات پر بات کی۔

ان ملاقاتوں کے بعد وزیر اعلیٰ نے جو ٹویٹ کی اس کے مطابق ان کے چھ ناراض اراکین سے بہت ’اچھے ماحول میں بات ہوئی اور انشا اللہ سب حل ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

عمران خان، جام کمال خان

،تصویر کا ذریعہReuters/Govt of Pakistan

،تصویر کا کیپشنجام کمال نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں کی ہیں

وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ ’کچھ افراد مزید اختلافات پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ ہم ایک دوسرے پر ردعمل ظاہر کریں۔ لیکن الحمد للَّه ہم سب نے ایک دوسرے کے لیے بڑی ذمہ داری اور احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

جب وزیر اعلیٰ کے خلاف حکومتی اتحاد میں شامل ناراض اراکین کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک عدم پر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر انوار کاکڑ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ جب تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش ہوگی تو تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے اور اس کو ناکام بنا دیں گے۔

بلوچستان اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد کتنی ہے؟

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 65 ہے جن میں سے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کی تعداد 41 ہے۔

پیپلز پارٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے نواز لیگ کے منحرف رکن اسمبلی نواب ثنا اللہ زہری کا وزیر اعلیٰ کے خلاف کسی تحریک کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے موقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل متحدہ حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جن میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے نواب محمد اسلم خان رئیسانی بھی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے لیے کتنے اراکین کی ضرورت ہے، تجزیہ کاروں کا کیا کہنا ہے؟

65 اراکین کے ایوان میں وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جس کی تعداد 33 بنتی ہے۔

دنیا ٹی وی کے بیورو چیف عرفان سعید کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جبکہ ناراض حکومتی اراکین کی جو تعداد سامنے آئی ہے وہ 15 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف نے پہلے ہی نہ صرف وزیر اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے بلکہ انھوں نے پہلے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین اور حزب اختلاف کی تعداد اسمبلی میں 38 بنتی ہے جوکہ سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔

سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ پہلے ناراض اراکین کو بعض حلقوں کی جانب سے سختی سے منع کیا گیا تھا کہ وہ پی ڈی ایم کی جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کا ساتھ نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب خود ناراض اراکین ہی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے جس کے باعث وہ ناراض اراکین یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ وہ خود وزیر اعلیٰ کو ہٹانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جو طاقتور حلقے جام صاحب کو وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اگر وہ ناراض اراکین میں سے بعض کو جام کمال کی حمایت پر مائل نہیں کرا سکے تو یہ صورتحال جام کمال کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔‘

سینیئر تجزیہ کار اور ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف رضا الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ناراض اراکین سے ملاقاتوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض ناراض اراکین کو منانے کا جو تاثر دیا جاتا رہا، ناراض اراکین نے سامنے آنے کے بعد اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔

'جام صاحب کو کہا جارہا تھا کہ وہ لوگوں کے گھر جائیں اور ان سے ملیں۔ وہ گئے بھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ ناراض اراکین کو منانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ناراض اراکین کھل کر میدان میں آگئے اور انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور آج تحریک عدم اعتماد جمع کر کے انھوں نے اپنی عددی طاقت کو بھی دکھا دیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ناراض (حکومتی) اراکین کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے جبکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان بھی ہے۔‘

رضا الرحمان کے مطابق ناراض اراکین نہ صرف اپنے موقف پر قائم اور ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ انھیں حزب اختلاف نے بھی حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جس کے باعث تحریک عدم اعتماد کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔