پینڈورا پیپرز: وفاقی کابینہ کے ارکان، سابق فوجی افسران اور میڈیا مالکان کے نام سامنے آنے کے بعد جواب طلبی کے لیے خصوصی سیل قائم

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا پیپرز میں پاکستانی سیاستدانوں، سابق فوجی افسران اور ان کے اہلِ خانہ سمیت درجنوں پاکستانیوں کی آف شور کمپنیز کی معلومات سامنے آنے کے بعد ان تمام افراد سے جواب طلبی کے لیے خصوصی سیل قائم کر دیا ہے۔
اس بات کا اعلان پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کیا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطح کا سیل قائم کیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔‘
فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ’بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کا نام پینڈورا لیکس میں شامل ہیں اور کئی ایک پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات اس ضمن میں شفاف تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے اور پیمرا کو جواب طلبی کے لیے کہا جا رہا ہے۔‘
صحافیوں کی تحقیقاتی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) اور ان کے ساتھی میڈیا اداروں کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق پینڈورا پیپرز میں جن افراد کے نام آئے ہیں ان میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم اتحادی سمیت کابینہ کے تین ارکان اور ان کے اہل خانہ، پاکستان کی فضائیہ کے سابق سربراہ کے اہل خانہ سمیت پاکستانی بری فوج کے اہم عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پینڈورا پیپرز دراصل چودہ آف شور کمپنیوں کی آئی سی آئی جے کو لیک ہونے والی تقریباً بارہ ملین خفیہ فائلوں پر مشتمل ہے جو دنیا بھر میں میڈیا کے ان کے ساتھی اداروں سے بھی شیئر کی گئیں۔
اتوار کو پنڈورا پیپرز کے اجرا خیر مقدم کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ تحقیقات کے نتیجے میں اگر کچھ غلط ثابت ہوتا ہے تو ان افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار پیغام میں انھوں نے لکھا: 'ہم ٹیکس چوری اور بدعنوانی سےجمع کرکے منی لانڈرنگ کےسہارے بیرونِ ملک ٹھکانے لگائی جانےوالی اشرافیہ کی ناجائز دولت بے نقاب کرنےوالے پنڈورا پیپرز کا خیرمقدم کرتے۔۔۔۔میری حکومت اپنے ان تمام شہریوں کی پڑتال کرے گی جن کے نام پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں اور اگر کچھ غلط ثابت ہوا تو ہم مناسب کارروائی عمل میں لائیں گے۔'
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق اس سلسلے میں پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس ہو گا جس میں تحقیقات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اتوار کی شام سامنے آنے والے پنڈورا پیپرز میں سامنے آنے والی دستاویزات میں متعدد ایسی آف شور کمپنیوں اور کئی ملین ڈالر مالیت کے ٹرسٹ کے بارے میں معلوم ہوا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کی ملکیت ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
آئی سی آئی جے کی تحقیق میں ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ناموں میں وفاقی کابینہ کے ارکان شوکت ترین اور مونس الٰہی سمیت حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اہم ارکان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اسحاق ڈار کے بیٹے کا نام بھی ہے۔

شوکت ترین
ان دستاویزات کے مطابق عمران خان کے وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے اہل خانہ چار آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔
مالیاتی مشیر طارق فواد ملک جنھوں نے ان کمپنیوں سے متعلق کاغذی کارروائی کی تھی آئی سی آئی جے کو بتایا کہ یہ کمپنیاں ترین خاندان کی طرف سے ایک بنک میں سرمایہ کاری کے ارادے سے بنائی گئی تھیں جس کے سعودی کاروباری رابطے تھے۔ 'لیکن یہ ڈیل مکمل نہیں ہوئی۔' شوکت ترین ماضی میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے پاکستان کے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کو ایک بیان میں کہا ہےکہ پنڈورا پیپرز میں نامزد ان کی آف شور کمپنیاں اس وقت قائم کی گئی جب طارق فواد ملک، یو اے ای کی ایک کمپنی کے لیےکام کرتے تھے، انھوں نے سرمایہ کاری کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شوکت ترین کا کہنا ہےکہ کمپنیوں کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلا اور نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی، بعد میں جب ان کا ارادہ بدل گیا تو پھر کمپنیاں 2014 اور 2015 کے درمیان بند ہوگئی تھیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ طارق بن لادن بڑے سعودی سرمایہ کار ہیں اور طارق فواد ملک یو اے ای کی طارق بن لادن کی کمپنی میں کام کرتے تھے۔
اس حوالے سے براڈ شیٹ کیس کے اہم کردار طارق فواد ملک کا کہنا ہےکہ 2014 میں وہ مشرق وسطیٰ کی ایک کمپنی سے منسلک تھے جو شوکت ترین کے بینک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی، اس سرمایہ کاری کی اجازت کے لیے ان کی کمپنی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مذاکرات کیے تھے۔
مونس الہی
آئی سی آئی جے کا دعویٰ ہے کہ انھیں پنڈورا پیپرز میں شواہد ملے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی ایک متنازعہ کاروباری سودے سے حاصل ہونے والے رقم سے ایک خفیہ آف شور ٹرسٹ میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق مونس الہی سن 2007 میں اپنے خاندان کی پھالیہ شوگر ملز کی زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے۔
الہی خاندان کے ترجمان نے آئی سی آئی جے کے میڈیا پارٹنر کو بتایا کہ ’سیاسی انتقام اور ڈیٹا کی غلط تشریح بری نیت سے دستاویزات میں پھیلائی گئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے اثاثے قانون کے مطابق ڈکلیئر کیے گئے ہیں۔
بی بی سی نے مونس الہی کا رد عمل جاننے کے لیے ایک سے زیادہ بار ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان کے سٹاف نے کہا کہ وہ مصروف ہیں۔ تاہم مقامی میڈیا پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چوہدری خاندان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اثاثے ڈکلیئر کیے گئے ہیں اور انھوں نے کہا کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فیصل واوڈا

آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی جماعت کے سینیٹر اور آبی وسائل کے سابق وزیر فیصل واوڈا نے سن 2012 میں برطانیہ کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے ایک آف شور کمپنی بنائی تھی۔
پنڈورا پیپرز کے بارے میں آئی سی آئی جے سے اپنے رد عمل میں فیصل واوڈا نے کہا کہ انھوں نے اپنے نام تمام اثاثے پاکستان ٹیکس حکام کے سامنے ڈکلیئر کیے ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل نے آئی سی آئی جے کو بتایا کہ عمران حان نے اپنی کابینہ کے تمام غیر منتخب ارکان کے لیے اپنے تمام اثاثے ڈکلیئر کرنا لازمی قرار دیا ہے اور یہ ہدایات پاکستان قوانین میں ارکان قومی اسمبلی کے لیے درج تقاضوں کے علاوہ ہیں۔
بی بی سی نے فیصل واوڈا سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔
خسرو بختیار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کے ایک وزیر مخدوم خسرو بختیار کے بھائی اور بزنس پارٹنر نے ایک آف شور کمپنی کے ذریعے سنہ 2018 میں لندن کے علاقے چیلسی میں ایک ملین ڈالر کی ایک پراپرٹی اپنی ضعیف والدہ کے نام منتقل کی۔
بی بی سی نے خسرو بختیار سے ان کے رد عمل کے لیے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر بتایا کہ خسرو بختیار سے ان کی بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بھائی کی آف شور کمپنی ہے تو وہ ڈیکلیئرڈ ہو گی۔
اس سے پہلے آئی سی آئی جے کو اپنے رد عمل میں انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف ملکی اداروں نے جو تحقیق کی تھی وہ بے بنیاد الزامات پر مبنی تھی اور نہ ہی کسی باقاعدہ شکایت میں تبدیل ہو سکی تھی۔
وقار مسعود خان
آئی سی آئی جے کے مطابق عمران خان کے سابق مشیر برائے خزانہ اور ریوینیو وقار مسعود کا بیٹا بی وی آئی میں ایک آف شور کمپنی میں حصہ دار ہے۔ وقار مسعود نے اگست سنہ 2021 میں پالیسی اختلافات کی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔
وقار مسعود خان نے آئی سی آئی جے کو اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ انھیں اپنے بیٹے کی کمپنی کے بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ وہ کیا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا سادہ زندگی گزراتا ہے اور مالی طور پر خودمختار ہے۔ بی بی سی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔
عبدالعلیم خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@aleemkhan_pti
پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے کہ انھوں نے برٹش ورجن آئی لینڈ میں کمپنی قائم کی۔
عبدالعلیم خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں اور مذکورہ کمپنی 15 برس سے ان اعلان شدہ اثاثوں کا حصہ ہے جو ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کو فراہم کیے گئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
راجہ نادر پرویز
آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز میں انھوں نے دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن ماضی میں مسلم نواز کے ساتھ وابستگی رکھنے والے میجر (ریٹائرڈ) راجہ نادر پرویز انٹرنیشنل فائنانس اینڈ اکویپمنٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کے مالک ہیں جو کہ ایک بی وی آئی رجسٹرڈ کمپنی ہے۔
آئی سی آئی جے کے مطابق انھوں نے جو ریکارڈ دیکھے ان کے مطابق راجہ نادر پرویز نے سنہ 2003 میں کمپنی میں اپنے شیئر ایک ٹرسٹ کو منتقل کر دیے جو کئی آف شور کمپنیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
بی بی سی نے راجہ نادر پرویز سے ان کے رد عمل کے لیے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی اور ان کے فون پر بتایا گیا کہ وہ ملک سے باہر ہیں۔
علی ڈار
تحریکِ انصاف کی حکومت سے متعلق افراد کے علاوہ ان دستاویزات میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
علی ڈار پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد بھی ہیں۔
اس سلسلے میں علی ڈار نے سوشل میڈیا پر آئی سی آئی جے کو لکھے گئے جوابی خط کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’کمپنیز بالکل قانونی تھیں اور قانونی مقاصد ہی کے لیے بنی تھیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ گریجویشن کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور وہیں کاروبار کر رہے ہیں۔
سیاسی شخصیات کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کے سابق اعلیٰ افسران اور ان کے اہلخانہ کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آئے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل(ر) شفاعت اللہ شاہ
آئی سی آئی جے کا کہنا ہے کہ انھیں پینڈورا پیپرز سے معلوم ہوا کہ سن 2007 میں پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قریب سمجھنے جانے والے لیفٹننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ کی اہلیہ نے ایک آف شور سودے کے ذریعے لندن میں ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ حاصل کیا۔
آئی سی آئی جے کی رپورٹ میں الزامات کے مطابق یہ ڈیل انڈین فلم انڈسٹری سے وابستہ اکبر آصف نام ایک شخص کے ذریعے ہوئے۔ شفاعت شاہ نے پیر کے روز ٹویٹ کرتے ہوئے اپنا موقف بتایا اور کہا کہ 'میں نے لاہور میں اپنا فلیٹ آف شور کے ٹائیٹل کے ساتھ بیچ کر لندن میں فلیٹ خریدا تھا۔ کوئی اور بزنس نہیں۔ یہ برطانیہ کے قوانین کے مطابق تھا۔ ملٹری حکام کو اس کے بارے میں بتایا گیا تھا اور ٹیکس ریٹرن میں بھی شامل تھا۔ اس کا آصف اکبر سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی قیمت جو بتائی جا رہی اس سے آدھی تھی۔'
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں یہ الزام بھی لگایا کہ 'تفتیش میں شامل ایک صحافی،میل پولٹزر، حال ہی میں دو برس کے لیے انڈیا میں تھے اور یہ را کا پاکستانی فوج کے افسران کو بدنام کرنے کا طریقہ ہے کہ انھیں مجرموں کے ساتھ جوڑ دو۔ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا۔ فلیٹ کے بارے میں رپورٹ کیا تھا اور یہ برطانیہ کے قانون کے مطابق تھا۔ میرے پاس ثبوت ہیں۔ پیریئڈ' آئی سی آئی جے کے مطابق جنرل شاہ نے پراپرٹی کے بارے میں ان کے سوالات کے جواب میں کو بتایا کہ لندن کی پراپرٹی آصف کے ساتھ کسی ذاتی تعلق کے ذریعے نہیں بلکہ ایک سابق فوجی کولیگ کے ذریعے خریدی گئی تھی جو اس وقت لندن میں ریئل اسٹیٹ فرموں کے لیے کنسلٹنٹ کا کام کر رہے تھے۔
آئی سی آئی جے نے بتایا کہ جنرل شاہ نے کہا کہ 'ان کے نام پہلے ہی پراپرٹیاں تھیں اس لیے انھوں نے وہ پراپرٹی اپنی اہلیہ کے نام کی تھی اور ٹیکس کی کٹوتی کو بیلنس کرنے کے لیے بھی۔' آئی سی آئی جے کے مطابق جنرل شاہ نے اپنے جواب میں کہا کہ ان کی اہلیہ کی کبھی آصف سے ملاقات نہیں ہوئی اور ان کی اپنی ان سے صرف ایک ملاقات لندن کے ڈورچسٹر ہوٹل میں ہوئی تھی جب وہ جنرل مشرف کے معاون تھے اور آصف نے، جو صدر مشرف کی اہلیہ کی ہیئر سٹائلسٹ کے ساتھ آئے تھے، مختصراً اپنے والد کی فلم کے لیے لابی کیا۔
میجر جنرل (ریٹائرڈ) نصرت نعیم
آئی سی آئی جے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک سابق سینیئر فوجی عہدیدار میجر جنرل (ریٹائرڈ) نصرت نعیم، جو ایک وقت میں آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلجنس بھی تھے، ایک بی وی آئی کمپنی افغان آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کے مالک تھے جو ان کی ریٹائرمنٹ کے کچھ ہی عرصے بعد سنہ 2009 میں رجسٹر ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق دیکھی گئی فائلوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کمپنی کرتی کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیں نے ایک موقع پر نصرت نعیم کے خلاف سترہ لاکھ ڈالر سے ایک سٹیل مل خریدنے کی کوشش سے وابستہ مبینہ فراڈ کا کیس شروع کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ یہ کیس ختم کر دیا گیا تھا۔
نصرت نعیم نے بی بی سی کو رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 2009 میں انھوں نے ایک افغان آئل اینڈ گیس کمپنی نامی آف شور کمپنی الٹرا ونٹرائزڈ ڈیزل بیچنے کے لیے قائم کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمپنی کے ذریعے انھوں نے مزید کوئی کام نہیں کیا۔ اور اس کمپنی کو اسی برس بند کر دیا۔
انھوں نےاس حوالے سے مزید بتایا کہ یہ کمپنی انھوں نے افغانستان میں الٹر ونٹرائزڈ ڈیزل کی پہلی کھیپ بھجوانے کے بعد قائم کی تھی کیونکہ افغانستان میں موجود کمپنی نے ان سے مستقبل میں مزید کاروبار کرنے کا کہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کاروبار میں صرف چار ٹینکر افغانستان بھجوائے تھے جس سے صرف تین لاکھ روپے کمائے اور تمام اخراجات کے بعد ان کے پاس صرف 80 ہزار روپے منافع آیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور تھا جب افعانستان میں سکیورٹی صورتحال شدید خراب تھی اور ٹینکروں کی سکیورٹی اور بروقت پہنچنے میں مشکلات تھیں جس کے باعث انھوں نے مزید اس کمپنی کے ذریعے یہ کام کرنے کا فیصلہ ترک کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی آف شور کمپنی کو رجسٹر کرنے کے بعد فعال کرنے کے لیے وکیل کے ذریعے فیس کی مد میں کچھ ادائیگی درکار ہوتی ہے تاہم اس کی کوئی ادائیگی بھی نہیں کی گئی اور اس کمپنی کے ذریعے کوئی ٹرانزیکشن نہیں کی گئی۔
ان سے جب پنڈورا پیپرز میں 1.7 ملین ڈالر کی سٹیل مل خریدنے کے الزام اور بعدازاں اس کیس کے ڈراپ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے عدالت میں ہوتے ہیں۔ انھوں نے اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
میجر جنرل نصرت نعیم نے آئی سی آئی جے کو اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ 'یہ ایک مختصر اور بہت برا تجربہ تھا۔ میں افغان آئل اینڈ گیس کو 345000 لیٹر 'الٹرا ونٹرائزذ ڈیزل' فراہم کر کے الگ ہو گیا تھا۔ یہ بہت رسکی تھا سن 2009 میں جس میں کوالٹی پر جھگڑے تھے اور راستے میں دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے تاخیر ہو رہی تھی۔
احد خٹک اور عمر خٹک
آئی سی آئی جے کی تفتیش کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی فضائیہ کے سابق سربراہ عباس خٹک کے بیٹوں احد خٹک اور عمر خٹک نے دستاویزات کے مطابق سن 2010 میں برٹش ورجن جزائر(بی وی آئی) میں یہ کہہ کر ایک کمپنی رجسٹر کی تھی کہ وہ اپنی 'خاندانی کاروبار کی کمائی' سے سٹاک، بانڈز، میوچویل فنڈ اور ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
آئی سی آئی جے نے ان سے رد عمل کے لیے رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔
کیا آف شور کمپنیوں میں دولت رکھنا غیر قانونی ہے؟
کئی بار قانون میں کمزوریاں لوگوں کو بغیر کسی خلاف ورزی کے ٹیکس بچانے کے راستے فراہم کرتی ہیں اور وہ ایسے مقامات پر اپنا پیسہ رکھتے ہیں اور کمپنیاں بناتے ہیں جہاں ٹیکسوں پر چھوٹ ہے۔ غیر قانونی نہیں لیکن اس عمل کو غیر اخلاقی ضرور سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس طرح ٹیکس بچانا قانون کے دائرے میں تو ہے لیکن قانون کی روح کے مطابق نہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کئی لوگوں کے پاس ایسی جگہوں پر اپنی دولت رکھنے کی جائز وجوہات بھی ہوتی ہیں جن میں غیر مستحکم سیاسی حالات اور مجرمانہ حملوں سے اپنے آپ کو بچانا۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خفیہ کمپنیوں میں پیسہ رکھنا اور اسے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا غیر قانونی دولت چھپانے کا بھی بہترین طریقہ ہے۔
حکومتوں سے ٹیکس میں چھوٹ اور دولت چھپانے کے راستے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ پاناما پیپرز کے سکینڈل کے بعد اس مطالبے نے زور پکڑا ہے۔













