پاناما کیس: الزامات اور ان کے جوابات

نواز شریف اور عمران خان
    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گذشتہ سال پاناما پیپرز کے نام سے شائع ہونے والی دستاویز میں پاکستانی وزیراعظم کے اہل خانہ کا نام سامنے آتے ہی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شریف خاندان پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے انھیں اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا۔

اسی سلسلے میں انھوں نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر دی۔ 26 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں سمیت کل دس لوگوں کو مدعاعلیہان قرار دیا گیا تھا۔

یہ درخواست 29 پیراگرافس پر مشتمل تھی جن میں مدعی نے معاملے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مدعاعلیہان پر الزامات عائد کیے اور عدالت سے التجا کی کہ میاں نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور رکن قومی اسمبلی اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن صفدر کو آئین کی شق 62 کی خلاف ورزی کرنے پر اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔

عمران خان کے الزامات پر وزیراعظم نواز شریف نے تو کوئی جواب داخل نہیں کرایا البتہ ان کے تینوں بچوں، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے جوابات ان کے وکیل سید رفاقت حسین شاہ کے توسط سے عدالت میں جمع کرائے گئے۔

چھ پیراگرافس اور کئی ذیلی شقوں پر محیط ان جوابات میں سب سے پہلے یہ بات دہرائی گئی کہ ان تینوں مدعاعلیہان کا نواز شریف پر کوئی انحصار نہیں ہے اور نہ ہی ان تینوں نے آج تک کسی سرکاری عہدے پر فرائض انجام دیے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا اپنے تینوں بچوں کے کاروبار اور جائیداد سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAFP

الزامات اور ان کے جوابات

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہReuters

سراج الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سراج الحق کے الزامات اور نواز شریف کے جوابات

پاناما پیپرز سے متعلق کیس میں جہاں پاکستان تحریک انصاف اور ان کے چئیرمین عمران خان کی درخواست کا سب سے زیادہ چرچا تھا، وہاں دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف درخواست دائر کی۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے درخواست میں سات پیراگرافس پر مبنی الزامات لگائے اور سوالات کیے گئے تھے۔ وزیر اعظم نے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست کا تو کوئی جواب نہیں دیا وہیں سراج الحق کی درخواست میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی بھرپور تردید کی اور اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔