سردار ستنام سنگھ: پشاور میں معروف حکیم سردار ستنام سنگھ کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا

حکیم سردار ستنام سنگھ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sahib Singh

پشاور میں نامعلوم افراد نے معروف حکیم سردار ستنام سنگھ کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے دواخانے میں موجود تھے۔

پولیس کے مطابق جمعرات کی دوپہر پشاور کی چارسدہ روڈ پر واقع دواخانے میں نامعلوم افراد داخل ہوئے اور حکیم سردار ستنام سنگھ پر فائرنگ کر دی۔

تفتیشی ٹیم کی جانب سے جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے جبکہ واردات کے فوراً بعد تمام ناکہ بندیوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ذریعے مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ سے خالی خول سمیت دیگر اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

سردار ستنام سنگھ معروف حکیم تھے اور انھوں نے نیشنل کونسل فار طب سے حکمت کی تعلیم حاصل کی تھی۔

پشاور میں سکھ کمیونٹی کے ایک رہنما صاحب سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکیم سردار ستنام سنگھ ماہر طبیب تھے اور وہ ہفتے میں چار روز پشاور اور باقی دن حسن ابدال اور راولپنڈی میں مریضوں کا معائنہ کیا کرتے تھے اور انھوں نے طب کی تعلیم میں گولڈ میڈل حاصل کر رکھا تھا۔ سردار ستنام سنگھ نے لواحقین میں بیوہ، تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔

حکیم سردار ستنام سنگھ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sahib Singh

گذشتہ سال جنوری میں ایک نوجوان سکھ کی لاش ملی تھی جسے قتل کرکے پھینک دیا گیا تھا، تاہم تحقیقات میں یہ معلوم ہوا تھا کہ ان کے قتل میں ان کی منگیتر کو نامزد کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جب خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی عروج پر تھی ان دنوں متعدد افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا تھا۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سنہ 2007 کے بعد سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا اور تشدد کے یہ واقعات قبائلی علاقوں کے بعد شہری علاقوں میں بھی کیے گئے، ان میں ایک اقلیتی اراکین کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سال 2014 میں سکھ برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں تک یہ سلسلہ پھیل گیا تھا جس سے صوبہ بھر میں مقیم سکھ باشندے عدم تحفظ کا شکار ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور سے ملحقہ ضلع چارسدہ میں مارچ اور اپریل 2014 کے دوران دو سکھ حکیموں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ان میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سکھ حکیم بابا جی پرم جیت سنگھ بھی شامل ہیں۔

حکیم بابا جی کو شب قدر کے علاقے میں ان کی دکان کے اندر مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔ اس حملے میں ان کے ساتھ دکان میں کام کرنے والا ایک نوجوان بھی مارا گیا تھا۔

پشاور میں بڑی تعداد میں سکھ رہائش پذیر ہیں جن میں رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔ پشاور کا محلہ جوگان شاہ سکھوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں قیام پاکستان سے سکھ برادری کے اراکین رہائش پزیر ہیں۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گرودوارہ بھی واقع ہے۔