کراچی کی کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی: کم از کم 16 افراد ہلاک، حکومت کا تحقیقات کا اعلان

،تصویر کا ذریعہMughaira Ibrahim
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک کیمیکل فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مزید مزدوروں کے فیکٹری میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتشزدگی کا سنگین واقعہ ہے جس میں آگ نے فیکٹری کے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ 15 فائر ٹینڈرز نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا اور اب عمارت کی کولنگ کا عمل جاری ہے۔
ایس ایس پی کورنگی شاہ جہان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت تک 16 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری کی عمارت کو گرل لگی ہوئی ہے راستہ نہیں تھا آگ اوپر کی منزل پر لگی ہوئی تھی اس کی کھڑکیوں کو توڑ کر رسیکیو آپریشن کیا گیا جس وجہ سے تھوڑا وقت لگا تاہم تمام ادارے پہنچ گئےتھے۔

،تصویر کا ذریعہMughaira Ibrahim
حکام کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چل سکا۔
فائربریگیڈ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دو منزلہ عمارت چاروں اطراف سے بند ہے، اسی لیے شاول کے ذریعے کھڑکیاں توڑ کر لاشوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ مزدروں کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد بھی فیکٹری کے سامنے موجود ہے۔
فائربریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی اطلاع ملنے کے بعد 10 بج کر 10 منٹ پر اُن کی پہلی گاڑی فیکٹری کی جانب روانہ کی گئی تھی۔
دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر افراد دم گھنٹے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہFaiz Ullah
مرتضیٰ وہاب کے مطابق پہلے فلور پر 21 کے قریب مزدور کام کر رہے تھے اور فیکٹری سے فوری طور پر باہر نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ حکام آگ کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امدادی تنظیم چھپا نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا ہے کہ ابھی تک فیکڑی سے 15 لاشوں کو جناح ہسپتال کراچی پہنچایا گیا ہے۔
چھپا کے مطابق تمام لاشیں بری طرح جھلسی ہوئی ہیں جبکہ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اور کتنے لوگ فیکٹری میں موجود ہوں گے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہMughaira Ibrahim
جناح ہسپتال کراچی کی ترجمان ڈاکٹر صائمہ مشتاق کے مطابق ان کے پاس ابھی تک 14 لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ ایک اور لاش کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ وہ بھی پہنچائی جارہی ہے۔
ڈاکٹر صائمہ مشتاق کے مطابق ’تمام لاشیں جلی ہوئی ہیں۔ جن کو مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ دو زخمی امدادی کارکن بھی لائے گئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔‘
ڈاکٹر صائمہ مشتاق کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم لاشوں کی شناخت کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔
’میں نے اپنے بیٹوں کو جل کر مرنے کے لیے نہیں بلکہ مزدوری کے لیے بھیجا تھا‘
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بھی لاش کی شناخت نہیں ہوئی جبکہ اس واقعے میں دو بھائیوں کی مبینہ طور پر ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ جناح ہسپتال میں ان بھائیوں کے لواحقین اور والدہ موجود ہیں۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے ایک نظر لاشوں کو دیکھا ہے، مجھے کچھ نہیں پتا چل رہا کہ میرے بیٹوں کی لاشیں کون سی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’میں نے تو اپنے بیٹوں کو مزدوری کے لیے بھیجا تھا۔ ان کو جل کر مرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا۔‘
ایک اور مزدور کے بھائی راشد کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ لاشیں جلی ہوئی ہیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں۔
’ہم نے ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ ڈی این اے کر لیں، کچھ کر لیں۔ ہمارے لوگ تو مر چکے ہیں۔ اب ہمیں لاشیں دے دیں کہ ہم ان کی تدفین کر سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ وہ آگ والی جگہ سے گزر کر گئے اور سامنے چائے پی رہے تھے کہ پیچھے سے لڑکوں نے آواز لگائی کہ آگ لگ گئی ہے جس کے بعد وہ اٹھ کر بھاگے۔
’چھوٹی آگ تھی، آگ بجھانے والے آلے سے بجھانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بجھی نہیں۔‘
عینی شاہد کے مطابق فیکٹری میں چالیس سے پینتالیس افراد کام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائیز فیکٹری میں آتشزدگی میں ڈھائی سو سے زائد مزدو ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہZaigham Mughira
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں واقع فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹس طلب کر لی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے خاندان کی بھرپور مدد کرنے کی ہدایت اور زخمیوں کا حکومتی خرچ پر علاج کروانے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق وہ اس وقت امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور ایف آئی آر کے لیے تحقیقات اور شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔










