تعمیراتی لاگت میں اضافہ: کیا عام آدمی کا ’اپنا مکان‘ بنانے کا خواب پورا ہو سکے گا؟

پاکستان سیمنٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

سینتالیس سالہ نیاز محمد نے کراچی کے مضافاتی علاقے میں ایک نئی رہائشی سکیم میں ڈیڑھ سال پہلے پلاٹ خریدا۔ نوے کی دہائی کے شروع میں کراچی روزگار کے سلسلے میں آنے والے نیاز محمد آج تک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔

نیاز، ان کی بیوی اور چھ بچوں پر مشتمل اس خاندان کا اپنے مکان کا خواب نئی رہائشی سکیم میں خریدا ہوا یہ پلاٹ ہے۔ نیاز محمد ایک بہت محدود پیمانے پر اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔

اس سال جنوری میں انھوں نے مکان کی تعمیر شروع کی۔ تاہم جیسے جیسے تعمیراتی کام آگے بڑھا مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ نیاز محمد کے مطابق انھوں نے مکان کا ڈھانچہ کھڑا کر کے پلستر کا کام تو ختم کر لیا ہے تاہم ان کے پاس موجود وہ ساری جمع پونچی مکان کا ڈھانچہ کھڑے کرنے اور پلستر میں خرچ ہو گئی۔

انھوں نے بتایا کہ فی الحال مکان پر تعمیراتی کام رکا ہوا ہے۔ نیاز محمد تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے کافی فکر مند ہیں کیونکہ ان کا برسوں پرانا ’اپنے گھر‘ کا خواب فی الحال پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

کراچی میں مقیم رزاق ابڑو جو میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور کرائے کے مکان میں گذشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے رہ رہے ہیں۔ انھوں نے بھی کچھ ماہ پہلے اپنے گھر کی تعیمر شروع کی۔

وہ بتاتے ہیں کہ مالی وسائل کی وجہ سے اپنے چار سو گز کے پلاٹ پر پوری تعمیر نہیں کر سکتے تھے اس لیے انھوں نے اس پلاٹ کے ایک چھوٹے سے حصے پر تعمیر شروع کی۔ چار دیواری بنانے اور آئرن گیٹ لگانے کی دیر تھی کہ اچانک سے تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

ان کا اندازہ تھا کہ وہ دس سے بارہ لاکھ میں ایک چھوٹا سا پورشن بنا کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس میں شفٹ ہو جائیں گے اور بعد میں مالی وسائل آنے پر باقی کے پلاٹ پر کام شروع کریں گے تاہم فی الحال انھوں نے کام روک دیا ہے۔

رزاق ابڑو نے تعیمراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے مکانوں کی تعمیراتی لاگت میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک امید تھی کہ ان کا اپنا مکان چاہے چھوٹا ہی سہی بن جائے گا تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اس میں منتقل ہو کر کرائے سے نجات حاصل کر لیں گے۔ تاہم تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ سے یہ امید دم توڑتی نظر آرہی ہے۔‘

پاکستان میں تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ سے عام افراد کے ساتھ تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے بلڈرز اور ڈویلپرز بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق جنوری کے مہینے سے لے کر آج تک اگر مجموعی طور پر کاروباری لاگت میں اضافے کو دیکھا جائے تو یہ 800 سے 1000 روپے فی مربع فٹ بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے نئے بننے والے مکانوں کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے۔

پاکستان میں اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد نئے مکانوں کی ضرورت ہے اور ملک میں موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان بھی کیا۔

رئیل اسٹیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سلسلے میں موجودہ حکومت نے نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کا بھی اجرا کیا تاکہ سستے گھروں کی تعمیر کی جا سکے۔ تاہم تعمیراتی لاگت میں اضافہ نجی شعبے کی طرح حکومتی سکیم کے لیے منفی اثرات کا حامل ہے۔

تعمیراتی شعبے کی لاگت میں کتنا اضافہ ہوا؟

موجودہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک اگر تعمیراتی شعبے میں بڑھنے والی لاگت کا جائزہ لیا جائے تو تعمیراتی کام میں سب سے اہم سریے اور سیمنٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اگر سٹیل کی قیمت کو لیا جائے تو جنوری میں ایک ٹن سریے کی قیمت میں 45000 سے 50000 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنوری میں 110000 سے لے کر 115000 تک دستیاب فی ٹن سریے کی قیمت اب 160000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

اسی طرح سیمنٹ کی قیمت میں بھی فی بوری سو روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنوری میں فی بوری کی قیمت ملک کے مختلف حصوں میں 540 سے 550 تک تھی جو اب 650 روپے فی بوری سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ٹائلوں کی قیمت میں اب تک 40 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح ایلومینیم اور رنگ کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے سابق چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عارف یوسف جیوا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت سب سے زیادہ پریشان صورت حال سریے اور سیمنٹ کی بڑھی ہوئی قیمت ہے جس میں جنوری سے لے کر آج تک مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انھوں نے کہا سٹیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے وصول کیا جانے والا ساڑھے سترہ فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ اس کی درآمد پر لگنے والی ریگولیٹری ڈیوٹی ہے۔ جس نے سٹیل کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح سیمنٹ کی قیمت میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔

جیوا نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں بڑھی ہوئی لاگت کا مجموعی طور پر تخمینہ لگایا جائے تو یہ 800 سے 1000 روپے فی مربع فٹ بڑھی ہے۔

تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ بڑھتی طلب یا کارٹیلائزیشن؟

موجودہ سال میں تعمیراتی شعبے میں لاگت میں اضافے کی وجہ کیا طلب میں بڑھتا رجحان ہے یا تعمیراتی سامان تیار کرنے والے شعبوں کی جانب سے کارٹیلائزیشن ہے جس کے ذریعے زیادہ منافع کمایا جا سکے؟

اس بارے میں عارف جیوا نے کہا کہ بلاشبہ جب تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تو اس کے ساتھ اس شعبے میں میں استعمال ہونے والے سامان کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم جس طرح سے قیمتیں بڑھائی گئیں اس کی وجہ صرف مانگ میں اضافہ نہیں ہے۔

عارف جیوا کہتے ہیں کہ جب چیزوں کی طلب بڑھی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے فروخت کا حجم بھی بڑھا اور ان کے منافع میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن یہاں فقط قیمتیں بڑھا کر زیادہ نفع کمایا جا رہا ہے۔

انھوں نے حکومتی ٹیکسوں کو بھی اس سلسلے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ’جب سٹیل کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور اس کے بعد سیلز ٹیکس لیا جائے گا تو قیمتیں تو بڑھنی ہی ہیں۔‘

جیوا نے تعمیراتی سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کی کارٹیلائزیشن کو بھی اس سلسلے میں ذمہ دار ٹھہرایا جو زیادہ منافع کمانے کے چکر میں قیمتوں میں اضافہ کیے جا رہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والے سب سے اہم میٹریل سیمنٹ کی قیمت میں اضافے کو اس کی پیداواری لاگت میں اضافہ قرار دیا ہے۔ سیمنٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اس میں کوئی کارٹیلائزیشن نہیں کہ جس کے ذریعے زیادہ منافع کمایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رئیل اسٹیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملک میں سیمنٹ تیار کرنے والے ایک بڑے ادارے لکی سیمنٹ کے چیف ایگزیکٹو محمد علی ٹبہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سیمنٹ کی قیمت میں اضافے کی وجہ اس کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔

انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ سیمنٹ کی قیمت میں حالیہ مہینوں میں سو روپے فی بوری اضافہ ہوا ہے لیکن اس کی وجہ کوئلے، فرنس آئل اور پیکجنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس نے سیمنٹ کے شبعے کو قیمت زیادہ کرنے پر مجبور کیا۔

علی ٹبہ کہتے ہیں ’جب سیمنٹ کے شعبے کی لاگت بڑھی ہے تو لازمی ہے کہ وہ بھی قیمت بڑھائیں گے کیونکہ کوئی بھی نقصان میں اپنی مصنوعات نہیں بیچ سکتا۔‘

بیرون ملک سیمنٹ برآمد کم کر کے کیا اندرون ملک سیمنٹ کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے اس کے بارے میں علی ٹبہ نے کہا کہ ملک میں سیمنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، قیمت میں اضافے کی وجہ سیمنٹ کی تیاری کی لاگت میں اضافہ ہے۔

تعمیراتی لاگت میں اضافہ نجی اور حکومتی شعبے میں مکانوں کی تعمیر کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ سے نجی اور حکومتی شعبوں میں چلنے والے ہاؤسنگ کے منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک جانب حکومت کی جانب سے سستے گھر تعمیر کرنے کے اعلانات اور ان پر تھوڑا بہت عمل درآمد تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے تو دوسری جانب نجی شعبہ بھی اس صورت حال پر فکرمند ہے۔

عارف جیوا نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’وزیر اعظم کی ’سستا گھر‘ سکیم میں جب نجی شعبے سے کہا گیا تو ہم نے 2018 میں ایک چھوٹے سائز کے مکان کی تعیمر کا تخمینہ 21 لاکھ روپے دیا تھا، بعدازاں جب تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا تو یہ تخمینہ 25 لاکھ روپے تک پہنچ گیا اور اب یہ 31 لاکھ تک جا پہنچا ہے جو تعمیراتی سامان کی لاگت میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ حکومت نے ابھی تک نجی شعبے کی جانب سے اس سکیم میں کسی منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے تو دوسری جانب حکومت کی اپنی جانب سے بھی صرف لاہور میں ایل ڈی اے کے ایک منصوبے کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم جس طرح تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے تو حکومتی سکیم کے تحت سستے گھر کی تعمیر ممکن نہیں ہو پائے گی۔

جیوا کہتے ہیں حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں بڑھانے کے لیے ایک ایمنسٹی سکیم کا اجرا کیا گیا تھا جس کے تحت اس میں ہونے والی سرمایہ کاری کے ذریعے کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا تھا اور جو 30 جون 2021 کو ختم ہو چکی ہے اور اب اس میں توسیع کے لیے حکومت سے کہا جا رہا ہے۔

عارف جیوا کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے تحت بھی جو سرمایہ کاری کی گئی وہ بھی تعمیراتی لاگت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس کے تحت بننے والے منصوبے بھی تعمیراتی سامان کی لاگت میں اضافے کی وجہ سے اپنے ابتدائی تخمینوں سے زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔