آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سونا: پاکستان میں قرض کے لیے بینک میں گروی رکھا سونا کتنا محفوظ ہے؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
ندیم احمد کو جب مالی مشکلات اور قرضے کی ادائیگی کے لیے فوری رقم کی ضرورت پڑی تو اس نے ایک مقامی بینک سے قرضے کے حصول کے لیے رابطہ کیا۔
مقامی بینک کے عملے نے 37 سالہ ندیم احمد کو بتایا کو اگر اسے فوری قرضہ چاہیے تو سونا گروی رکھ کر وہ قرضہ حاصل کر سکتا ہے۔ گھر میں موجود سونا گروی رکھ کر قرضے کی ادائیگی کے لیے فوری رقم حاصل ہو سکتی تھی اس لیے ندیم احمد نے گھر میں موجود سونے کے بدلے قرضے کے لیے مقامی بینک سے حکام سے درخواست کی تو انھوں نے بتایا کہ بینک کی ہر برانچ یہ قرضہ نہیں دیتی بلکہ ہر بینک کی مخصوص برانچوں پر یہ سہولت میسر ہے۔
ایک مخصوص دن طے ہونے پر ندیم احمد بینک کے عملے کے ساتھ سونا گروی رکھ کر قرضہ دینے والی برانچ پر پہنچا تو وہاں بینک کے عملے کے ساتھ ایک سنار بھی موجود تھا جس نے ندیم احمد کے پاس موجود سونے کو پہلے کچھ دھاتوں اور آلات سے چیک کیا اور پھر اس کا وزن کر کے اس کی مالیت ندیم احمد کو بتائی۔
سونے کی مالیت ہونے پر بینک کے عملے نے بتایا کہ سونے کی مالیت کے برابر قرض نہیں ملے گا بلکہ اس مالیت کے ستر فیصد حصے کے برابر رقم ملے گی۔
ندیم احمد نے ستر فیصد مالیت کے برابر رقم کے لیے حامی بھرتے ہوئے پوچھا کہ کتنے دنوں میں رقم ان کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہو جائے گی تو بینک کے عملے نے بتایا کہ تین سے چار روز میں یہ رقم آپ کے اکاونٹ میں منتقل ہو جائے گی۔
ندیم احمد کے سونے کو پیک کر کے اس پر ایک سیل لگا دی گئی اور اس میں موجود سونے کے زیورات کی تفصیلات ایک سلپ پر لکھ کر ندیم آحمد کے حوالے کر دی گئی جس پر بینک کی مہر اور وہاں کے مجاز افسر کے دستخط ثبت تھے
ندیم احمد نے آٹھ مہینے پہلے یہ قرضہ حاصل کیا تھا اور اس کی قسطیں باقاعدگی سے بینک کو ادا کر رہا ہے۔ سونا گروی رکھ کر بینک سے قرض حاصل کرنے والے ندیم احمد اکیلے فرد نہیں۔
تاہم بینکوں میں گروی رکھے گئے اس سونے کے بارے میں ندیم احمد اور ان جیسے افراد کے لیے یہ خبر تشویشناک ہے کہ ایک مقامی بینک کی کراچی میں واقع دو برانچوں میں سے ایک کے لاکرز میں رکھا ہوا سونا چوری کر لیا گیا تو دوسرے کیس میں بینک میں رکھے ہوئے سونے کے زیورات کو نکال کر اس کے بدلے میں مصنوعی جیولری رکھ دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بینک کے عملے کو اس سلسلے میں گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سونے کے بدلے قرض کی پالیسی کیا ہے؟
سونا گروی رکھ کر قرض دینے کی پالیسی کے بارے میں پاکستان میں مالیاتی شعبے کے ریگولیٹر سٹیٹ بینک کے مطابق اس کی مکمل اجازت ہے۔
بینک اس سلسلے میں سونے کے بدلے میں ذاتی و کاروباری قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بینکاری کے شعبے میں مختلف بینکوں کی جانب سے سونے کے بدلے میں قرض کے لیے اشتہاری مہم بھی چلائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں سرکاری شعبے کے واحد بینک نیشنل بینک نے اپنی ویب سائٹ پر سونے کے بدلے میں قرضہ کے لیے تفصیلات جاری کر رکھی ہیں تو اسی طرح نجی شعبے میں کام کرنے والے کئی بینکوں نے بھی اپنی ویب سائٹوں پر سونے کے بدلے قرض کے حصول کے لیے سکیموں کا اعلان کر رکھا ہے۔
سٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق بینکوں کو صرف ان برانچوں میں سونے کے بدلے قرضہ دینے کا اختیار ہے جہاں اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت اور حفاظتی انتظامات موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
بینکوں کو یہ بھی ہدایات ہے کہ وہ سٹیٹ بینک کو ہر سہ ماہی کے اختتام پر سونے کے بدلے قرض دینے والی برانچوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہے۔
بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سونے کے بدلے قرض دینے کےلیے ایسے ماہر افراد کی خدمات حاصل کریں جو سونے کے کاروبارمیں مہارت رکھتے ہوں اور اس کے لیے سٹیٹ بینک نے کچھ خاص ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تجارتی بینکوں نے دسمبر 2020 کے اختتام تک تقریباً 58 ارب روپے کے ایسے قرضے جاری کیے ہیں جو سونے، اس کے زیورات اور چاندی گروی رکھ کر جاری کیے گئے ہیں۔
سونے کے بدلے قرض دینے کی پالیسی صحیح ہے؟
سونے کے بدلے قرضے کے بارے میں سٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق یہ قرضے زراعت، لائیو اسٹاک، چھوٹے کاروبار، زراعت و کاروبار کے لیے خریدے جانے والے اثاثے، گھر کی خریداری، ذاتی قرضے یا کسی اور ضرورت کے لیے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
سونا گروی رکھ کر قرض دینے کے پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر مالیاتی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ اس کی پاکستان میں اجازت ہے لیکن سونا گروی رکھ کر اس کے بدلے میں قرض لینے کی پالیسی ترقی یافتہ دنیا میں موجود نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مضبوط مالیاتی نظام کے حامی ملکوں میں قرضہ ہمیشہ ایک انکم جنریٹنگ ایسٹ یعنی کمائی کر کے دینے والے اثاثے کے بدلے میں دیا جاتا ہے لیکن سونا کوئی ایسا اثاثہ نہیں کہ وہ انکم پیدا کر رہا ہو۔‘
ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ ’یورپ اور امریکہ میں سونے کے بدلے قرضہ نہیں دیا جاتا ہے تاہم ترقی پذیر ملکوں کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں کیا صورت حال ہے تاہم پاکستان میں ایسا ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سونا گروی رکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ڈیفالٹ کرنے کی صورت میں یہ سونا بینک اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور ویسے بھی قرض دار کو سونے کی مالیت سے کم ہی قرض دیا جاتا ہے۔‘
مالیاتی شعبے کے کیسوں کی پیروی کرنے والے بیرسٹر تیمور علی مرزا نے اس سلسلے میں کہا کہ ’برصغیر میں سونے کی ایک خاص اہمیت ہے اور تقریباً ہر گھر میں سونا تھوڑی بہت تعداد میں موجود ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ صحیح ہے کہ امریکہ اور یورپ میں سونا گروی رکھ کا قرض نہیں دیا جاتا تاہم پاکستان اور انڈیا میں سونے کی ایک خاص اہمیت ہے اور خاندانوں کے پاس سونا موجود ہوتا ہے جسے وہ مالی مشکلات کی صورت میں گروی رکھ کا قرض لیتے ہیں۔
بینکوں میں گروی رکھا سونا کتنا محفوظ ہے؟
قرض کے لیے سونا گروی رکھنا اور یہ کتنا بینک کے لاکرز میں محففوظ ہے اس سلسلے میں کراچی میں ایک بینک کے لاکر سے سونا غائب اور دوسرے بینک کے لاکر میں اصلی کی بجائے مصنوعی زیورات رکھنے کے واقع نے اس کے تحفظ کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط بینک اور صارف کے تعلق اور اس سے جڑے امور سے متعلق ہوتے ہیں تاہم اگر بینک کے لاکر سے سونا چوری ہوتا ہے یا اصلی کی بجائے نقلی زیورات رکھ دیے جاتے ہیں تو اس میں بینک کے عملہ ملوث ہوتا ہے اور ان کی ملی بھگت سے یہ کام ہوتا ہے۔
بیرسٹر تیمور علی مرزا نے اس سلسلے میں بتایا کہ لاکروں میں رکھا ہوا یہ سونا کتنا محفوظ ہے اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آئے دن لاکر توڑنے کی خبریں آتی ہیں تو اس سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ سونا کتنا محفوظ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ملک میں ہر دوسری جگہ کی طرح بینکوں میں بھی فراڈ ہوتے ہیں اور جب اس میں بینک کا عملہ ملوث ہو تو اسے فوجداری قانون کے تحت دیکھا جاتا ہے اور اس میں ایف آئی اے بینکنگ سرکل کارووائی کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ لاکرز توڑ کر سونا چوری کرنا یا گروی رکھے ہوئے سونے کے زیورات کے بدلے میں نقلی زیورات رکھنا ایک جرم ہے اور اس کا ارتکاب بھی ہوتا ہے تاہم پھر بھی ان کی نظر میں گھر میں رکھے ہوئے سونے کی نسبت بینک میں رکھا ہوا سونا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہر دوسری جگہ پر چوری کی وارداتوں کی طرح بینک میں بھی یہ کام ہو سکتا ہے۔‘
سٹیٹ بینک کی پالیسی کے بارے میں جب اس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے سٹیٹ بینک کے تین نوٹیفکیشن واٹس اپ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں تمام امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بینکوں میں گروی رکھے سونے کو محفوظ بنانے کے لیے رسک مینجمنٹ کا وہی طریقہ کار ہے جس میں دوسرے شعبوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔
گروی رکھے سونے کی چوری کی صورت میں بینک اسے کیسے لوٹائے گا؟
قرض کے لیے گروی رکھے گئے سونے کی چوری کی صورت میں بینک کیا قدم اٹھائے گا اور قرض لینے والے کو یہ سونا کیسے لوٹائے گا اس کے بارے میں سٹیٹ بینک نے ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ گروی رکھے ہوئے سونے کی چوری، آتشزدگی اور دوسرے خطرات کے پیش نظر انشورنس ہونی چاہیے تاکہ سونے کی چوری یا کسی اور وجہ سے اگر سونا ناقابل واپسی ہو تو قرض لینے والے کو قرضے کی ادائیگی پر اس کا اثاثہ واپس مل سکے۔