پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال: ’ججز والد کے درجے کے برابر ہیں اس لیے مجھے معاف کر دیا جائے‘

سپریم کورٹ
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے شخص کی معافی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ان پر فرم جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل اس ضمن میں پراسیکیوٹر کا کردار ادا کریں گے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے میں نرمی دکھائی گئی تو مستقبل میں کوئی بھی شخص کسی معزز جج کے خلاف بلا خوف و خطر نازیبا زبان استعمال کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما مسعود الرحمن عباسی نے چیف جسٹس گلزار احمد کی طرف سے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران سندھ حکومت کے خلاف سخت ریمارکس دینے پر چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پر ’متحدہ قومی موومنٹ کا سیکٹر انچارج‘ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

مقامی میڈیا نے اگرچہ ان کی تقریر کو نشر تو نہیں کیا تاہم اس کا ذکر ضرور کیا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر ان کا بیان نشر ہونے پر عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے جمعے کو توہین عدالت کی کارروائی کی سماعت کی تو ایف آئی اے کے حکام ملزم مسعود الرحمان عباسی کو لے کر کمرہ عدالت میں پہنچے۔

ملزم نے تحریری معافی نامہ عدالت میں پیش کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ان کے دل میں اداروں کا انتہائی احترام ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کے دل میں اداروں کا کتنا احترام ہے۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں اور انھیں معاف کر دیا جائے جس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ بات ان کو معافی مانگنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھی۔

بیچ میں موجود ججز کے ساتھ مکالمے کے دوران ملزم نے کہا کہ وہ عدالت کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور اپنے آپ کو اتنا نیچا نہ لے کر جائیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ملزم سے استفسار کیا کہ جہاں انھوں نے تقریر کی تھی، وہاں کون کون موجود تھا جس پر ملزم مسعود الرحمان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ایک شادی ہال میں ہوئی تھی جس میں پارٹی کے ضلعی عہدیدار آئے تھے۔

بینچ کے سربراہ نے کراچی کی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر ملزم سے استفسار کیا کہ انھوں نے چیف جسٹس کو اس جماعت کا سیکٹر انچارج کہا اور یہ سب باتیں کرنے کے لیے کس نے انھیں اکسایا، جس پر ملزم نے جواب دیا کہ یہ باتیں کرنے کے لیے کسی نے انھیں ہدایت دی اور نہ اکسایا تھا اور سب باتیں انھوں نے خود کیں جس پر وہ شرمندہ ہیں اور عدالت سے معافی مانگتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ملزم کے ساتھ مکالمے میں پوچھا کہ کیا اس سے پہلے بھی انھوں نے عدالت کے خلاف اس قسم کی تقریر کی تھی جس پر مسعود الرحمان عباسی نے جواب دیا کہ اس سے پہلے انھوں نے ایسی تقریر کبھی نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ وہاں تقریب کے دوران لوگ کہہ رہے تھے کہ چیف جسٹس نے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کے خلاف بڑے سخت ریمارکس دیے ہیں اور اتنے سخت ریمارکس آج تک کسی چیف جسٹس نے نہیں دیے۔

بینچ میں موجود جسسٹس اعجاز الاحسن نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر عدالت بلائے تو وہ انھیں اوقات یاد دلا دیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’عدالت نے بلا لیا ہے اب ہمیں اوقات دکھائیں۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ انھوں نے چیف جسٹس پر حرام کی کمائی کا الزام کیسے عائد کیا؟ ملزم نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا اور یہ کہا کہ ان کی دو بیویاں اور سات بچے ہیں اور وہ اکیلا کمانے والے ہیں، جس پر عدالت کی طرف سے ریمارکس دیے گیے کہ دو شادیوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملزم کا کہنا تھا کہ ججز والد کے درجے کے برابر ہیں اس لیے انھیں معاف کر دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ جس طریقے سے عدالت حکم دے وہ معافی مانگنے کیلئے تیار ہیں۔ ملزم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ والدہ کی وفات اور گھریلو جھگڑوں سے پریشان ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ سب بڑی بڑی باتیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

مسعود الرحمن عباسی کا کہنا تھا کہ پریشانی کی وجہ سے انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا بول گئے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپکو ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کا تو بخوبی علم تھا۔‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس کا ایٹم بم اور میزائل سے کیا تعلق؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے اس لیے اب شواہد کی ضرورت نہیں اور عدالت فیصلہ سنا دے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین و قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہے۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ ان وجوہات کے بارے میں بتائے گی کہ ملزم مسعود الرحمان عباسی نے یہ تقریر کیوں کی۔

بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی نقوی نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو گفتگو انھوں نے کی وہ کس کو متاثر کرنے کے لیے تھی؟ انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کھوج لگائے کہ کس کے کہنے پر یہ تقریر کی گئی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر ایسی تقریر ممکن نہیں۔

ایف آئی اے حکام نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جو کوئی بھی اس کے پیچھے ہوا، اس کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔

پیمرا کے حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی تقریر کسی ٹی وی چینل پر نشر نہیں کی گئی جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کے حکام کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے شواہد اکھٹے ہونے کے بعد توہین آمیز مواد کو فیس بک سے ہٹا دیا جائے گا۔

سماعت کے بعد ملزم کو ایف آئی اے حکام سخت سکیورٹی میں واپس لے گئے۔ اس مقد مے کی اگلی سماعت بینچ میں موجود ججز کی دستیابی پر ہو گی۔

واضح رہے کہ 28 جون کو جب توہین عدالت کے اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی تو ملزم نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھوں نے یہ بیان کسی پارٹی عہدیدار کی ایما پر نہیں دیا اور نہ ہی اُنھیں گرفتار کیا گیا ہے، تاہم انھیں سخت سکیورٹی میں عدالت لایا گیا تھا اور واپسی پر انھیں سرکاری گاڑی پر لے جایا گیا تھا۔

ملزم کے اس دعوے کے برعکس آج سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم ایف آئی اے کی تحویل میں ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے تین سابق ارکان پارلیمنٹ نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز کے مقدمات کا بھی جائزہ لینے کا عندیہ دیا تاہم عدالت نے وجوہات کا ذکر نہیں کیا۔

یاد رہے کہ ان تینوں سابق ارکان پارلیمنٹ کو مختلف اوقات میں توہین عدالت کرنے پر پانچ پانچ سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے پر نا اہل قرار دیا گیا تھا۔