آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوادر میں چینی ٹرالرز کی تحویل: ’پاکستان کی سمندری حدود میں بغیر اجازت کوئی بھی داخل ہو گا تو اسے روکا جائے گا‘
- مصنف, ریاض سہیل، محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حکومت پاکستان نے چین کے تقریباً پانچ فشنگ ٹرالرز کو عملے سمیت تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ ٹرالرز گزشتہ ہفتے بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر کے قریب دیکھے گئے تھے۔
پاکستان کے وزیر جہاز رانی علی حیدر زیدی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان فشنگ ٹرالرز کو گوادر بندرگاہ پر روک دیا گیا ہے اور ان کی وزرات اس معاملے کی مزید چھان بین کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سمندری حدود میں بغیر اجازت کوئی بھی داخل ہو گا تو اسے روکا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا: ’چین کے سفارتخانے نے ہمیں لیٹر بھیجا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور موسم کی خرابی کی وجہ سے یہ ٹرالر یہاں آ گئے تھے۔‘
اس سے قبل جمعہ کے روز وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ پاکستان کی آبی حدود کے اندر ٹرالنگ پر پابندی ہے اور پاکستان میرین سکیورٹی ایجنسی ہر قسم کی ٹرالنگ پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’گوادر کے قریب چند کشتیاں دیکھی گئی ہیں جن کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے گی۔ مقامی ماہی گیروں کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔‘
واضح رہے کہ گوادر کے ماہی گیروں نے مچھلی کے شکار کے دوران ان چینی ٹرالرز کو دیکھا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی، جس کے بعد یہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیل گئی۔
گوادر ماہی گیر اتحاد کے صدر خدائیداد عرف واجو نے بی بی سی کو بتایا کہ پسنی میں استولا(ہفت تلار) کے علاقے میں ماہی گیروں نے تین چار چینی ٹرالروں کو شکار کرتے ہوئے دیکھا اور اس کے بعد دس پندرہ دن سے گوادر میں پہاڑ کے پیچھے چار پانچ چینی ٹرالر لنگر انداز ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ جب فشریز ڈیپارٹمنٹ کے لوگ گئے تو ان ٹرالروں میں ایسی مچھلیوں کو دیکھا گیا جو بلوچستان کی سمندری حدود میں شکار کی جاتی ہیں۔
خدائیداد کے مطابق تمام حکومتی اداروں کے لوگوں نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ انھوں نے کسی چینی یا باہر کے ٹرالر کو اجازت نہیں دی۔
’لیکن یہ جنگل تو نہیں کہ کوئی خود سے یہاں آ جائے۔ جب یہ بلوچستان کی سمندری حدود میں آئے ہیں تو ان کو آخر کسی نے تو اجازت دی ہے تبھی تو وہ یہاں آئے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
گوادر بلوچستان کے ماہی گیروں کی سب سے بڑی اور قدیم بستی ہے، جہاں لوگوں کی اکثریت کا دارومدار ماہی گیری سے واسبتہ ہے۔
خدائیداد کے مطابق یہاں روزگار اور معاش کے دیگر ذرائع نہیں اور اگر ان ٹرالرز کی تعداد بڑھ گئی تو مچھلی ختم ہو جائے گی۔
انھوں نے کہا ’یہ ہمارے ذریعہ معاش کو تباہ کریں گے تو یہ ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہو گی۔‘
خدائیداد بلوچ کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں نے اپنی بہترین جگہ کو پورٹ کے لیے یہی سوچ کر چھوڑ دیا تھا کہ اس سے انھیں خوشحالی ملے گی لیکن اب ہمارے ذرائع معاش کو چھینا جا رہا ہے۔
’جو حکومتی ادارے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ہمارے حقوق کا تحفظ کریں لیکن وہ مبینہ طور پر ہمارے ذرائع معاش کو چین کے حوالے کر رہے ہیں جس کے خلاف ہم احتجاج کررہے ہیں۔‘
محکمہ ماہی گیری بلوچستان کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میرین ٹائمز سکیورٹی ایجنسی نے پیر کی شب یہ اطلاع دی کہ انھوں نے پانچ چینی فشنگ جہازوں کو تحویل میں لیا ہے اور ان میں مچھلی تھی۔
اہلکار کے مطابق محکمہ فشریز کو بتایا گیا کہ ان چینی ٹرالروں کے پاس انڈین اوشن میں فشنگ کا لائسنس تھا لیکن حالیہ طوفان اور بعد میں مون سون بارشوں کے باعث خراب موسمی حالات کی وجہ سے ان کے عملے کو بلوچستان کی سمندری حدود میں پناہ لینا پڑی تھی۔
دریں اثنا اتوار کو نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام گوادر شہر میں ایک احتجاج بھی کیا گیا اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی میر حمل کلمتی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی اس معاملے کو اٹھایا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میر حمل کملتی کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر تین بڑے چینی ٹرالر آئے تھے۔ ان کے پاس ماہی گیری کا جدید نظام ہے جس سے وہ یہ پتہ لگاتے ہیں کہ کس سائز کی مچھلیاں سمندر کے کس علاقے میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ٹرالروں کے پاس وہ جال ہوتے ہیں جو بلوچستان حکومت کے قوانین کے مطابق غیر قانونی ہیں کیونکہ وہ اگر ساحل پر ماہی گیری شروع کریں گے تو یہ مچھلیوں کی نسل کشی ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا ’یہ ٹرالر بغیر اجازت نامے کے نہیں آتے ہیں۔ حکومتی ادارے جب باہر سے آنے والے ٹرالروں کو غیر قانونی فشنگ کی اجازت دیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کو خود احتجاج کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ جب آپ لوگوں کو روزگار دینے کی بجائے ان کا روزگار چھین لیں گے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔‘
دوسری جانب گوادر بندرگاہ کے ذرائع کے مطابق ان فشٹنگ ٹرالرز میں موجود مچھلی کو چین بھیجنے کے لیے چینی سفارتخانے نے حکومت پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے۔