لاہور: ’مفت برگر نہ دینے پر‘ سٹاف کو حراست میں لینے والے پولیس اہلکار معطل

Burgers in packaging

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریستوران کا کہنا ہے کہ سٹاف کو کچھ بند کرنے نہیں دیا گیا

پاکستان کے شہر لاہور میں گزشتہ ہفتے پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر مفت برگر دینے سے انکار کرنے پر ایک فاسٹ فوڈ ریستوران کے عملے کے 19 افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

جونی اینڈ جگنو نامی ریستوران میں سنیچر کے روز رات ایک بجے پولیس نے عملے کو گرفتار کر کے رات بھر انھیں اپنی تحویل میں رکھا۔

جونی اینڈ جگنو نے، جن کی متعدد برانچز ہیں، ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کے کسی ریستوران پر ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔

اس واقعے میں شامل نو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں آئی جی پنجاب انعام غنی کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی، ہر ایک کو سزا دی جائے گی‘۔

یہ بھی پڑھیے

جونی اینڈ جگنو نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ اس واقعے سے دو دن قبل پولیس اہلکاروں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر ان کے ریستوران جا کر مفت برگروں کا مطالبہ کیا تھا۔

'جب ہم نے ان کی مفت برگروں کی درخواست، جو کہ ان کے لیے بہت عام ہے، کو مسترد کیا تو انھوں نے ہمارے عملے کو دھمکایا اور چلے گئے۔ لیکن اس کے اگلے دن وہ واپس آئے اور ہمارے عملے کو ہراساں کیا اور انھیں بے تکی دلیلیں دے کر ان پر دباؤ ڈالا۔ 11 جون کو کچھ پولیس اہلکاروں نے آکر بغیر کوئی وجہ بتائے مینیجر کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے ہمارے تمام عملے کو بھی گرفتار کیا جس میں کچن سٹاف اور دیگر مینیجر شامل تھے۔‘

ریستوران نے یہ بھی بتایا کہ ان کے عملے کو کچن بند کرنے تک کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ’فرائر کھلے رہ گئے اور کسٹمر اپنے آرڈروں کا انتطار کرتے رہے۔ ‘

یہ بھی پڑھیے

ریستوران کے مطابق عملے کو سات گھنٹے تک تحویل میں رکھا گیا اور پولیس نے انھیں ’دھکے دیے اور ہراساں کیا صرف فری برگر نہ دینے کی وجہ سے‘۔

یاد رہے کہ ماضی میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان پنجاب پولیس فورس میں اصلاحات پر زور دیتے رہے ہیں۔