گھوٹکی کے قریب سرسید اور ملت ایکسپریس میں تصادم: ’ریسکیو آپریشن مکمل، ہلاکتوں کی تعداد 62 ہو گئی‘

،تصویر کا ذریعہiSPR
پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیر کے روز گھوٹکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے بعد ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اس وقت ٹرین کی متاثرہ پٹری کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ دوسری جانب ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور احمد نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 55 ہے جن میں سے 48 میتیں ہسپتال لائی گئی ہیں جبکہ چند میتیں لواحقین اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔
ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ جیسے ہی پٹری کا کام مکمل ہو جائے گا تو ٹرینوں کی آمد و رفت کو بحال کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اُتر کر ڈاؤن ٹریک پر جا گریں اور راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس اُن سے ٹکرا گئی۔
ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا تھا کہ حادثے کے نتیجے میں ملت ایکسپریس کی بوگی نمبر پانچ اور چھ سرسید ایکسپریس کے انجن کی زد میں آئی تھی۔
جائے حادثہ پر امدادی کام
ڈی ایچ او گھوٹکی ڈاکٹر منظور احمد نے بتایا تھا کہ اس حادثے میں 100 سے زیادہ زخمیوں میں سے 50 مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ ایسے مریضوں کو طبی امداد دے کر فارغ دیا گیا ہے جنھیں ممعولی چوٹیں آئیں تھیں۔
ڈی ایچ او کے مطابق چونکہ جائے حادثہ مرکزی شہر سے کافی دور تھا اس لیے امدادی گاڑیوں کو وہاں تک پہنچنے میں دشواری ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیشتر زخمیوں کو ڈی ایچ کیو میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا ہے اور جن کی حالت تشویشناک ہے انھیں رحیم یار خان منتقل کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فوج اور رینجرز کے دستوں نے بھی جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں مدد دی۔
بیان کے مطابق پنوں عاقل سے ایمبولینس کے ساتھ فوجی ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی حادثے کی جگہ پر پہنچے ہیں جبکہ فوری امدادی اقدامات کے لیے ملتان سے ہیلی کاپٹر بھی بھیجے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانوی وزیر اعظم کا حادثے پر اظہار افسوس
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے صوبہ سندھ میں گھوٹکی کے مقام پر ٹرین حادثے میں قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اس کے علاوہ دونوں وزرائے اعظم نے خطے میں افغانستان کی صورتحال اور اس کے دیر پا امن اور استحکام کی ضرورت، ماحولیاتی آلودگی اور کورونا کی وبا کے خلاف اقدامات سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو اس ضمن میں اپنی مدد کی یقین دہانی بھی کروائی۔
’ڈرائیور نے ٹرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ٹکرا گئی‘
عبدالرحمان فیصل آباد سے رات کو آٹھ بجے سرسید احمد ایکسپریس میں سوار ہوئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ ٹرین سو سے زیادہ سپیڈ میں جا رہی تھی اور وہ جاگ رہے تھے، تقریباً تین بج کر چالیس منٹ پر زودار جھٹکے لگے ڈرائیور نے ٹرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ٹکرا گئی۔
انھوں نے بتایا کہ ملت ایکسپریس کی کچھ بوگیاں ٹریک سے اتر کر دوسرے ٹریک پر آ گئیں تھیں جبکہ ٹرین خود آگے چلی گئی تھی۔
مقامی صحافی الھورایو بزدار کے مطابق ایک خاتون نے دبی ہوئی بوگی سے اپنے رشتے داروں سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ بوگی نمبر چھ کی نشست نمبر 13 پر موجود ہیں اور ان کی حالت خراب ہے۔
ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ وہ جائے حادثہ سے تھوڑی دور ہی رہتے ہیں تو وہ فوراً ہی جائے وقوع پر پہنچے جہاں کچھ مسافر بوگیوں میں پھنسے ہوئے تھے اور زخمی درد سے کراہ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ImranKhan PTI
تحقیقات کے احکامات
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’آج صبح ٹرین کو گھوٹکی کے مقام پر پیش آنے والے ہولناک حادثے اور اس کے نتیجے میں 30 مسافروں کی موت پر بے حد رنجیدہ ہوں۔ وزیر ریلوے کو جائےحادثہ پر پہنچنے، زخمیوں کیلیے مکمل طبی امداد کا اہتمام یقینی بنانے اور ہلاک افراد کے اہلخانہ کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس کے ساتھ ریلوے کے حفاظتی نظام میں نقائص کی نشاندہی کیلیے جامع تحقیقات کے احکامات بھی صادر کر رہا ہوں۔‘
وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMunir Ahmed
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کمشنر سکھر کو فون میں وزیر اعلیٰ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے اور مسافروں کو نکالنے کے لیے فوری طور پر مشینری کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے مسافروں کیلیے عارضی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر ردعمل
حادثے کی خبر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے نظر آئے۔
راجہ اعجاز احمد نامی صارف نے لکھا: ’میں صرف وزیر ریلوے کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں کیونکہ ایسے واقعات اب معمول بن گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’اور موجودہ وزیر ریلوے کی نگرانی میں ایک شفاف انکوئری ناممکن ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما محسن رانجھا نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’پچھلے دور حکومت میں ایسا حادثہ ہونے پر وزرا سے استعفیٰ مانگنے کی رسم تھی لیکن پتہ نہیں وہ استعفے مانگنے والے کیوں خاموش ہیں۔‘
’تمام متاثرین خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اللہ تعالی جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔‘
حکمران جماعت تحریک انصاف کے اپنے رکن قومی اسمبلی علی حیدر زیدی نے لکھا: ’اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیں۔ بس بہت ہو گیا۔ پاکستان ریلوے کو اب ہٹ کر سوچنا ہو گا تالہ سروس اور حفاظت کی یقینی بنایا جا سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Ejaz_says
ایک صارف نے لکھا: ’ہمیں نہیں معلوم کہ ذمہ دار کون ہے لیکن ہمیں واضح تحقیقات چاہیں۔‘
سعود فیصل ملک نے لکھا: ’وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ریلوے کے نظام کو ٹھیک کریں اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’یہ 2021 ہے اور ابھی بھی پاکستان میں ٹرین حادثے ہوتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں ریلوے کے متعدد حادثات رونما ہوتے رہے ہیں اور ان میں متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اس سال مارچ میں کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس روہڑی شہر کے نزدیک پٹڑی سے اتر گئی جس کے نتیجے میں 30 افراد زخمی اور کم از کم ایک شخص کی ہلاکت ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HamxaSamla
گذشتہ برس فروری میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر روہڑی میں کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس اور ایک بس کے درمیان تصادم میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس سے قبل نومبر 2019 میں پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے حادثے میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔












