پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ بیانات کا تبادلہ کیا دیرپا امن کی نوید ہے؟

،تصویر کا ذریعہMEA/INDIA
- مصنف, اعظم خان اور نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو
اسلام آباد اور نیو دہلی کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کے بعد حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان اور انڈیا کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں کے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں، جس میں خطے میں پرامن حل کی طرف آگے بڑھنے سے متعلق امکانات پر بات کی گئی ہے۔
اگرچہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگست 2019 میں ختم کی گئی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی سے پہلے انڈیا سے تعلقات معمول پر لے کر جانا کشمیریوں کے خون سے غداری ہو گی مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت دونوں ممالک کی کچھ معاشی اور سٹریٹجک نوعیت کی مجبوریاں ہیں جو انھیں کشیدگی کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں ان بیانات میں نئی بات کوئی نہیں ہے تاہم دونوں اطراف پرامن حل تلاش کرنے کے لیے کسی حد تک مؤقف میں نرمی ضرور آئی ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا کے فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نراونے نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’ٹوٹا ہوا اعتماد‘ بحال کرنا پوری طرح سے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'پاکستان اور انڈیا کے درمیان دہائیوں پرانے عدم اعتماد کو راتوں رات ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہ جنگ بندی کا احترام کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو انڈیا بھیجنا بند کرتے ہیں تو ان اقدامات سے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’اس معاملے میں ذمہ داری پوری طرح سے پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA/STR
پاکستان کس حد تک انڈیا سے معمول کے تعلقات میں سنجیدہ ہے؟
پاکستان کے دفتر خارجہ کی سابق ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا کو اعتماد کی بحالی کے لیے کشمیر اور افغانستان میں کچھ ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جس سے لگے کہ وہ پاکستان سے معمول کے تعلقات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا پہلے دن سے یہ مؤقف رہا ہے کہ انڈیا پہلے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا اعلان کرے، جو بظاہر انڈیا نہیں کرے گا۔
سابق سفارتکار شمشاد احمد خان پرویز مشرف کے ساتھ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے کمپوزٹ ڈائیلاگ کا حصہ رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک کی عسکری اور سویلین قیادت کے بیانات معمول کے کھیل کا حصہ ہیں اور یہ محض دکھاوے کے لیے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا تو ہر دور میں یہی مؤقف رہا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے اور یہ جنگیں مسائل کا حل نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ انڈین آرمی چیف کے بیان سے قبل پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی پر) جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات وہ چابی ہے جس سے مشرقی اور مغربی ایشیاء کے مابین رابطے کو یقینی بناتے ہوئے جنوبی اور وسطی ایشیاء کی صلاحیتوں کو ان لاک کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ تاہم یہ موقع دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے مابین تنازعات کی وجہ سے یرغمال بنا ہوا ہے۔ تنازعہ کشمیر واضح طور پر اس مسئلے کا مرکز ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے سربراہ کے اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارت تجارت نے وفاقی کابینہ کو انڈیا کے ساتھ تجارتی سے متعلق ایک سمری بھیجی تھی۔ عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے اس سمری کو مسترد کر دیا اور انڈیا کی طرف سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بحال کرنے سے اس معاملے کو جوڑ دیا۔
مصنفہ اور دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو یہ امید تھی کہ جب پاکستان تعلقات میں بہتری سے متعلق پیشکش کرے گا تو انڈیا بھی اس کے جواب میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق جب ایسا ممکن نہیں ہوا تو پھر انڈیا سے تجارت سے متعلق سمری مسترد کر دی گئی۔
تسنیم اسلم کے مطابق پالیسی آرمی چیف نہیں بناتے اور جو بیان سیاسی رہنماؤں کے ہوتے ہیں وہی پالیسی ہوتی ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے بیان میں کہیں تضاد نظر نہیں آتا۔ ایل او سی پر جنگ بندی سے متعلق معاہدے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں ڈیڑھ سال سے ہائی کمشنر نہ ہونے کے باوجود کچھ انڈرسٹینڈنگ اور معاہدات ایسے ہیں کہ جن پر عمل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شمشاد احمد خان کے مطابق انڈیا کو معلوم ہے کہ اس سے قبل کہ امریکہ مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالے وہ یہ ثابت کرے کہ وہ پہلے سے ہی پاکستان سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق جہاں تک سوال ہے کہ کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں تو یہ کہنا درست نہیں ہو گا کیونکہ یہ دونوں ممالک تعلقات میں بہتری کے بارے میں ضرور کہہ رہے ہیں مگر دباؤ نہیں ڈال رہے۔
تسنیم اسلم کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے اس وقت معاشی مفادات اہم ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے یہ ممالک ہر جگہ مسلمانوں کو درپیش مسائل سے ہٹ کر مؤقف اختیار کر رہے ہیں جیسا کہ فلسطین کے مسئلے پر مؤقف میں تبدیلی کا آنا ہے۔ تاہم پاکستان نے اپنے مفادات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرنے ہیں۔
عائشہ صدیقہ کے مطابق پاکستان کی اس وقت توجہ افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا پر بھی ہے اور پھر انڈیا اور پاکستان دونوں ہی ایل او سی پر فائرنگ سے اور فضول کے خرچے سے تھک چکے تھے۔ ان کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے انڈیا کی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے اور وہ کچھ وقت تعلقات کو نارمل رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی صورتحال سرحد کے اس طرف بھی ہے جہاں پاکستان کو بھی متعدد معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
’اب مذاکرات کی میز پر فوج نہیں بیٹھے گی‘
عائشہ صدیقہ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ کے انڈیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے متعلق بیان کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور اسی وجہ سے انھوں نے میڈیا سے بھی گلہ کیا کہ بیانیہ بنانے میں مدد نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق فوج یہ سمجھتی ہے کہ راتوں رات بیانیے تبدیل ہو جائیں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔
عائشہ صدیقہ کے مطابق جب انڈیا سے تعلقات میں بہتری کی بات کی گئی تو لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا کہ ایسا تو نواز شریف بھی کرنا چاہتا تھا مگر تب ایسا ہونے نہیں دیا گیا۔
’ابھی پاکستان نے ایک سویلین کو مشیر قومی سلامتی تعینات کر دیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب اگر مذاکرات کا دور شروع بھی ہوا تو فوج سامنے نہیں آئے گی کیونکہ اب فوج پرویز مشرف والی (سامنے آنے کی) غلطی نہیں دہرائے گی۔‘
شمشاد احمد خان کے مطابق انڈیا کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ قابل عمل حل نہیں ہے اور ماضی میں پرویز مشرف نے جو سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی وہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’حالات میں بہتری کی وجہ جنگ بندی نہیں‘
دی ہندو اخبار کے دفاعی نامہ نگار دینکر پیری کا کہنا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان اصل میں زمینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد 'سرحد پر فائرنگ مکمل طور پر رک گئی ہے۔ گذشتہ سال میں تقریباً پانچ ہزار مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مقابلے میں گذشتہ 100 دنوں میں سرحد پر تقریباً خاموشی رہی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ سرحد پر خاموشی واضح ہے لیکن 'اس کے بعد کیا کرنا ہے، وہ حکومت پر منحصر ہے۔'
سرحد پر حالات کی بہتری کی وجوہات وہ پاکستان کی معاشی صورتحال، کووڈ بحران، ایف اے ٹی ایف کا دباؤ اور امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا جیسے مسائل کو سمجھتے ہیں۔
'لیکن یہ حالات کب تک برقرار رہیں گے، یہ صرف آئندہ تین سے چار ماہ میں ہی واضح ہوگا جب پہاڑوں میں موسم گرما ہوگا اور پہاڑی درّے کھل جائیں گے۔'
ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں معاشی بدحالی، کووڈ اور سرحد پر تناؤ کے درمیان زمینی صورتحال میں بہتری انڈیا کے حق میں بھی ہے، 'تاہم اس کی وجہ امریکہ کی طرف سے دباؤ بھی ہو سکتی ہے۔'
ان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر ہوتے ہیں تو اس کی وجہ جنگ بندی نہیں ہے بلکہ جنگ بندی کی وجہ اعلیٰ سطحی بات چیت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
’کشمیری فریق اب بھی بحث میں شامل نہیں‘
پروفیسر رادھا کمار جو کہ سنہ 2010 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے مرکزی حکومت کی 'مصالحت کار' تھیں، انڈیا اور پاکستان کے مابین موجودہ امن عمل کے بارے میں بہت پر امید نہیں ہیں کیونکہ وہ کہتی ہیں کہ کشمیری فریق ابھی بھی اس بحث میں شامل نہیں ہے۔
وہ کشمیر میں 2019 کی 'غیر قانونی اور غیر آئینی' تبدیلیوں کے خلاف انڈین سپریم کورٹ میں مدعی ہیں لیکن اُنھیں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت سے اس محاذ پر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
وہ 2019 میں آئینی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس وقت حکومت کو مجبوراً یہ کہنا پڑا تھا کہ وہ کشمیر کا ریاست کا درجہ اور وہاں انتخابات کی بحالی کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ کیا مودی سرکار کو آخر کار یہ احساس ہوا ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے اُن کی سخت گیر تدبیریں کشمیریوں میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے اور غصے کو سخت کرنے کا سبب بنی ہیں۔
'شاید، شاید یہ ہوا ہو، لیکن جب مودی انتظامیہ کی بات کریں تو اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔'
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ جب تک انڈیا کشمیر سے متعلق 2019 کے فیصلے کو واپس نہیں لیتا تب تک امن عمل آگے نہیں جا سکتا۔
رادھا کمار کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کو واپس لانے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین اس پر پوری سابقہ ریاست کے لیے اتفاق رائے ہو۔ انہوں نے کہا کہ 'اس سے انڈین حکومت کو کچھ گنجائش ملے گی، لیکن میں کسی بھی طرح سے بی جے پی حکومت کو اس راستے کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ہوں'۔
اُنھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرض کرنا کہ پاکستان دوسرے معاملات پر بغیر کسی پیشرفت کے جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھے گا، ایک غیر حقیقی مفروضہ ہے۔
'پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں، مثلاً مرکزی حکومت کا استحکام، افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جنگجو گروپوں کی حوصلہ افزائی اور ایف اے ٹی ایف۔'
’جنگ بندی کے بعد سیاسی عمل کی ضرورت ہے‘
وہ کہتی ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ جنگ بندی کی حمایت سیاسی عمل سے ہو۔
'تقریباً ہر آرمی چیف اور جموں و کشمیر کے تمام کمانڈروں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی عمل درکار ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہی واضح ہیں کہ فوج تشدد کو کم کر سکتی ہے یا اس پر قابو پا سکتی ہے لیکن اس کے بعد تو سیاستدانوں کو ایک حل تلاش کرنے کے لیے قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ فوج اپنے نقطہ نظر کو دہرا رہی ہے۔'
رادھا کمار کا خیال ہے کہ چند ہفتوں قبل پاکستان کی کوششوں کے بعد انڈیا کی مثبت ردعمل کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم وہ کہتی ہیں کہ انڈیا ابھی تک امن عمل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ حکومت نے جنگ بندی کو بھی عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
'جنگ بندی کا مقصد یہ ہے کہ اس کے بعد سیاسی کوششیں ہوں، ورنہ تو جنگ بندی قائم نہیں رہے گی۔ دنیا میں کہیں بھی سیاسی عمل کی غیر موجودگی میں جنگ بندی جاری نہیں رہی ہے۔ آپ اسرائیل و فلسطین کو دیکھ لیں، سوڈان اور آئرلینڈ کو دیکھ لیں۔'
لیکن کیا کشمیر میں موجودہ صورتحال بنی رہے گی یا انڈیا پاکستان کے تعلقات بہتر ہوں گے؟ انڈین حکومت کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ میں کہوں کہ حکومت امن عمل کے لیے کوئی تیاری کر رہی ہے۔'
وہ مزید کہتی ہیں کہ پاکستان کا مثبت جواب دینے کے لیے انڈیا کو راضی کیا گیا تھا۔ 'لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کسی بڑے مسئلے پر بات چیت ہوگی۔ ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی اشارہ نظر نہیں آیا ہے کہ جنگ بندی مزید دیگر عمل کا باعث بنے گی۔ لیکن میں امید کرتی ہوں کہ وہ کوشش کریں گے، کیونکہ یہ کرنا ایک واضح عمل ہے۔'










