درزی کے مشوروں پر خواتین کا شور شرابا: ’امی کیا ہمارا تو درزی بھی اس گریبان کے لیے نہیں مانتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ثنا آصف ڈار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’باجی یہ بہت زیادہ بڑا ہو جائے گا۔۔۔ میں بتا رہا ہوں باجی یہ صحیح نہیں لگے گا۔۔۔ باجی اس عمر میں بغیر آستین کے قمیض۔۔۔ تھوڑے سے بازو لگوا لو نا باجی۔‘
ایسے بہت سے جملے پاکستان کے سوشل میڈیا پر اس وقت گردش کرنے لگے جب ایک خاتون نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ کھلا گریبان بنوانا چاہتی ہیں لیکن وہ اپنی والدہ کو اس بارے میں کیسے رضا مند کریں۔
اس خاتون کو اپنے اس سوال کا جواب تو نہ مل سکا لیکن ایک اور خاتون صارف نے جواب میں لکھا: ’امی کیا، ہمارا تو درزی بھی اس گریبان کے لیے نہیں مانتا۔‘
حنا نامی صارف کے اس ایک جملے نے جیسے ٹوئٹر پر موجود بے شمار خواتین کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھر ایک کے بعد ایک خاتون صارف نے اپنے اپنے ٹیلر ماسٹر سے ملنے والے ’اخلاقیات سے بھرپور‘ مشوروں، نصیحتوں اور حکم ناموں کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک خاتون نے لکھا کہ ان کا درزی پیچے سے تو گلا کھلا بنا دے گا لیکن آگے سے ہرگز نہیں۔
ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں اپنے درزی کی نقل اتارتے ہوئے لکھا: ’باجی یہ بہت زیادہ بڑا ہو جائے گا، میں بتا رہا ہوں باجی یہ صحیح نہیں لگے گا۔‘
عاشا نامی صارف نے لکھا: ’ماں سے زیادہ فکر یہاں درزی کو ہوتی ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ جب میں نے اپنے درزی کو چھوٹی قمیض بنانے کے لیے کہا تو انھوں نے کہا ’بیٹا، آپ سید لوگ ہو، آپ مت بنواؤ ایسے ڈیزائن، میں نہیں بناؤں گا۔‘
رحیمہ نامی صارف نے لکھا: ’میں نے اپنے درزی کو کیپری ٹراؤزر (گھٹنوں سے اوپر) بنانے کا بولا تو اس نے کہا کہ نہیں اتنا چھوٹا اچھا نہیں لگے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@IamHi_na
ایک اور صارف نے لکھا: ’ہمارا درزی بغیر آستین والی قمیض تو کیا چھوٹے آستین پر بھی نہیں مانتا۔‘
ایک صارف نے لکھا: ’ایک دوست کی بہن لہنگے کے ساتھ چولی بنوانا چاہتی تھی لیکن درزی نے کہا کہ میری داڑھی کا لحاظ کر لیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sabaajwad
اس شور شرابے میں کچھ خواتین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ صرف مرد درزی ہی نہیں بلکہ کپڑے سلائی کرنے والی خواتین بھی کچھ ایسے ہی ’انمول مشورے‘ دیتی ہیں۔
ماہرہ نامی صارف نے اپنی اس بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’درزی چھوڑو ہم تو اپنی درزن سے بھی نہیں کہہ پاتے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter@lazydaktar
ایک صارف نے لکھا کہ جب انھوں نے اپنی درزن سے کھلا گریبان بنانے کا کہا تو انھوں نے میری جسامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آپ پر اس ٹائپ کی اچھی سے فٹنگ نہیں آئے گی۔‘
ایک اور خاتون نے باڈی شیمنگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’میری ایک دوست بہت پتلی ہے اور اس کا درزی ہمیشہ اس کی والدہ کو کہتا ہے کہ اس کے لیے پورا سوٹ کیوں لیتی ہیں بس پیس(کپڑے کا ٹکڑا) لے لیا کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
لیکن اس ساری گفتگو میں کچھ مرد حضرات بھی ٹیلر ماسٹر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خواتین کو ’حسب توفیق‘ اپنے مفت مشوروں سے نوازتے نظر آئے۔
ایڈووکیٹ عباسی کے نام سے ایک صارف نے لکھا: ’یہ ذہن میں رکھ لو کہ اگر ٹیلر ماسٹر نے ایسا گریبان بنا بھی دیا تو اسے بس گھر کی چار دیواری میں اپنے شوہر کے سامنے ہی پہننا۔‘
عبداللہ نامی صارف نے لکھا: ’اس سے پتا چلتا ہے کہ درزی اپنی خواتین کسٹمرز کو اپنی بہن سمجھتے ہیں ورنہ خوشی خوشی بنا دیتے۔‘
لیکن کچھ مرد صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے خواتین کا بھرپور ساتھ بھی دیا۔
شہزاد ربانی نے لکھا: اپنے درزی کو بتائیں کہ یہ دنیا آزاد ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آپ کا درزی آپ کا محرم کیوں بن رہا ہے‘ جبکہ حیدر نامی صارف نے لکھا: ’اپنے درزی سے کہیں وہ درزی بنے آپ کا شوہر نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@_Haider_
لیکن اس بحث کو اگر تفصیل سے پڑھا جائے تو نظر آئے گا کہ ٹیلر ماسٹر کے اس ’ظلم‘ کا شکار صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی کبھی کبھی ایسی ’ناانصافی‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عادل خان نے لکھا: ’میرا درزی تو میری شلوار بھی چھوٹی سیتا ہے تاکہ ٹخنے سے نیچے نہ جائے۔‘
فاروق آفریدی نے لکھا: ’ہم درزی کو اپنا ٹراؤزر تنگ کرنے کا کہیں تو تو وہ کہتا ہے کہ بھائی میں ایسا نہیں کر سکتا، یہ بہت زیادہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Justkind01
مرد حضرات کو ملنے والے مشورں کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی ہاں البتہ ٹوئٹر پر جاری اس بحث میں، میں بہت سی خواتین سے اتفاق ضرور کرتی ہوں کیوںکہ میرے ٹیلر ماسٹر نے بھی مجھے کچھ ایسے ہی مشوروں سے ’مالا مال‘ کیا تھا لیکن میں نے موقع اور اچھا درزی ملتے ہی انھیں فوراً تبدیل کر دیا۔
لہذا میرا خواتین کو یہی مشورہ ہے کہ وہ امید کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں اور ثابت قدمی سے اپنے پسند کے درزی کی ’تلاش‘ کو جاری رکھیں۔
اور ہاں سب سے اہم بات۔۔۔ ہمیشہ وہ ہی پہنیں جو آپ کو پسند ہے اور جو آپ کو خود پر اچھا لگتا ہے۔













