قاسم علی شاہ کے خواتین سے متعلق بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم

قاسم علی شاہ

،تصویر کا ذریعہFacebook\Qasim.Ali.Shah

’یہ ایک المیہ ہے کہ اس معاشرے میں مقبولیت حاصل کرنے والا تقریباً ہر شخص اپنے پلیٹ فارم کو پدرشاہی نظام کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ آج کے دور میں ایک شخص ایک عورت کو بنیادی طور پر ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے دیکھتا ہے، مگر انسان کی حیثیت سے نہیں۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ ایک روز سے اچھی ماں اور اچھی بیوی کا کردار، اور کیا ایک عورت اس دنیا میں صرف یہی دو کردار نبھانے کے لیے آئی ہے، زیِر بحث ہے۔

اوپر بیان کیا گیا تبصرہ صحافی نایاب گوہر جان نے وائرل ہونے والے ایک ویڈیو کلپ پر کیا ہے جس میں ایک پاکستانی موٹیویشنل سپیکر کی جانب سے اچھی ماں اور بیوی کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تنقید کی جا رہی ہے۔

مذکورہ کلپ میں موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کہتے ہیں ’اچھی بیوی کیسے بننا ہے، یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ آپ کسی سکول میں چلے جائیں، میٹرک کی ڈگری تک، 10 سالوں میں یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ایک عورت کی زندگی میں ان دو کرداروں کی بڑی اہمیت ہے، اور ان میں سے ایک کردار ہے اچھی بیوی کا اور دوسرا اچھی ماں کا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا مزید کہنا تھا یہ ’سکول میں نہیں پڑھایا جاتا، کالج میں نہیں پڑھایا جاتا اور یونیورسٹی میں بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ اور جو ذریعہ رہ گیا، کہ اچھی ماں اور اچھی بیوی کیا ہوتی ہے، وہ ٹریننگ کا ذریعہ ہے گھر، یعنی بچی اپنی ماں کو دیکھے (اور سیکھے)۔‘

یہ وائرل کلپ قاسم علی شاہ کے فیس بُک چینل پر سوال جواب کے سیشن سے لیا گیا ہے جس میں حور فاطمہ نامی خاتون اُن سے سوال کرتی ہیں کہ ’کیا ملازمت کرنے والی خواتین بچوں کے لیے اچھی مائیں ثابت نہیں ہو پاتیں؟‘

نایاب

،تصویر کا ذریعہ@NayabGJan

قاسم علی شاہ کے کلپ پر تنقید کرتے ہوئے کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر لڑکیوں کو سکول میں اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا نہیں سکھایا جاتا تو لڑکوں کو بھی تو اچھا شوہر اور اچھا باپ بننا نہیں سکھایا جاتا۔

آینہ نامی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’کیا عمران خان (تعلیمی اداروں میں) ’پرفیکٹ بیوی 101‘ کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کروا سکتے ہیں۔ اور جب ہم لڑکیاں یہ مضمون پڑھ رہی ہوں گی تو اُس وقت لڑکے کھیلوں کی کلاس میں جا سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پرفیکٹ ہیں۔‘

ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں ہم ہمیشہ اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ کیا ملازمت کرنے والی خواتین اچھی ماں بن سکتیں ہیں لیکن اس بارے میں کبھی بات نہیں کرتے کہ ملازمت پیشہ مرد اچھے باپ بن سکتے ہیں یا نہیں؟

ایک اور ٹوئٹر صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بھئی یہ تو ظلم ہے۔ جب لڑکے کو پہلی جماعت سے اچھے شوہر اور اچھے باپ ہونے کا نصاب شروع کروا دیتے ہیں، تو لڑکیوں کو کیوں نہیں؟‘

تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین کی رائے میں ’کوئی معاشرہ کیسے ترقی کر سکتا ہے اگر اس میں خواتین کی کامیابی کا معیار اچھی بیوی بننا ہے؟ اس میں ان کا قصور نہیں ہے۔ جس معاشرے میں ہم بڑے ہو رہے ہیں وہ معاشرہ ہی ایسا ہے۔‘

علی نے قاسم شاہ کو اپنا ذہن کھولنے اور ماگریٹ میڈ کی کتابیں پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔

علی

،تصویر کا ذریعہ@aliktareen

دوسری جانب کئی صارفین یہ بھی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ کیا لڑکیاں دنیا میں صرف بیوی بننے اور بچے پیدا کرنے کے لیے آئی ہیں؟ ان کی زندگی کا اور کوئی مقصد نہیں؟

سندس سلیمی نوجوان لڑکیوں کو نصحیت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’شادی سے اجتناب کریں، یہ تو پچھلی صدی کی بات ہے۔ ان مردوں کو یہ یقین دلانے کا موقع نہ دیں کہ شادی ہی واحد یا حتمی چیز ہے جس کی آپ کو خواہش کرنی چاہیے۔ یہ کائنات بہت بڑی ہے، اور بہت کچھ کرنا اور دیکھنا ابھی باقی ہے۔‘

پاکستانی نژاد سائنسدان نرگس ماولوالا کا حوالہ دیتے ہوئے وہ پوچھتی ہیں ’کیا آپ کو معلوم ہے نرگس کس طرح لاکھوں نوری سال فاصلے پر کشش ثقل کی لہروں کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں؟ یہ وہ چیز ہے جس کی آپ کو خواہش کرنی چاہیے۔ فٹ بال، کرکٹ، آرٹ، فوٹو گرافی، میوزک، آپ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ آپ جو کرنا چاہتی ہیں وہ کریں اور کرنے میں لطف اٹھائیں۔‘

’لیکن اگر آپ ایک پاکستانی مرد سے شادی شدہ ہیں تو آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتیں کیونکہ ایک پاکستانی شخص آپ کو باندھ دے گا، آپ کے پروں کو کاٹ دے گا۔ وہ آپ کو کھانا پکانے اور صفائی ستھرائی، کپڑے دھونے اور برتن اور لنگوٹ تبدیل کرنے پر لگا دے گا اور آپ کے لیے وقت بالکل نہیں بچے گا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Scrivenshaft_

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’مرد کا تسلط رکھنے والا معاشرہ عورتوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ انسانوں میں سے ہیں ہی نہیں بلکہ ہمیشہ انھیں مردوں کے حوالے سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ اگر عورتیں کسی نہ کسی حوالے سے مردوں کی خدمت نہیں کر رہی ہیں تو ان کی کوئی قدر نہیں۔ عورت کو خدا کی عطا کردہ آزادی اور اپنی شناخت کے انتخاب سے انکار، جبر کی واضح مثال ہے۔‘

کئی صارفین کا یہ بھی کہنا ہے گھریلو تشدد کے جتنے واقعات سامنے آ رہے ہیں اس کے بعد تو ہمیں سکولوں میں خواتین کے ساتھ کس طرح سلوک کا کرنا ہے اور اچھے شوہر یا والد بننے کے طریقے سکھانے کی زیادہ ضرورت ہے۔

عائشہ خالد نامی صارف نے لکھا ’اس پدر شاہی نظام کو قاسم علی شاہ جیسے سپیکر ہی سوٹ کرتے ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@AyeshDibs

لیکن قاسم علی شاہ سے کی بات سے اتفاق کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

ولید رمضان لکھتے ہیں کہ قاسم علی شاہ نے صحیح بات کہی ہے عورت جتنا بھی پڑھ لکھ لے گھرداری سنبھالنا ہی پڑتی ہے مگر تعلیم دی ہی نہیں جاتی، گھر کیسے چلانا ہے، سب کیسے مینج کرنا ہے، صرف گھرداری اور اپنے بچوں کی تربیت سیکھنے کے لیے اس بیچاری کو اپنے کئی سال کی زندگی برباد کرنا پڑتی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

رانا عمران جاوید کا کہنا تھا ’قاسم علی شاہ بالکل ٹھیک ہیں۔ کنبہ ایک بنیادی اکائی ہے جو معاشرے کی تشکیل کرتی ہے، اگر لڑکیوں اور لڑکوں کو خاندان میں ان کے کردار کے بارے میں تعلیم نہیں دی جاتی ہے تو، کوئی معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔ یہ خواتین کی محرومی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق معاشرتی ترقی سے ہے۔‘

اس حوالے سے جب بی بی سی نے قاسم علی شاہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس موضوع پر مختلف مواقع پر تفصیل سے اپنا موقف دیا ہوا ہے اب وہ اس بحث پر مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اختصار سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہیں گے تو ان کا جواب تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے جو کچھ بھی کہا ہے وہ ریکارڈ پر ہے اسے کوئی بھی دیکھ اور سن سکتا ہے۔