راجن پور: ڈاکوؤں سے مذاکرات کے بعد مغوی پولیس اہلکار سات دن بعد بازیاب

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقع قبائلی علاقوں میں متحرک ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے راجن پور کے علاقے سے چند روز قبل اغوا کیے گئے دو پولیس اہلکاروں کو لگ بھگ سات روز بعد رہا کر دیا ہے۔
جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس آفیسر کیپٹن (ر) فیصل رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں مغوی پولیس اہکاروں کی رہائی کے لیے پولیس کی بھاری نفری کی مدد سے منگل کے روز ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔
تاہم پولیس آپریشن شروع ہونے کے بعد ڈاکوؤں نے مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پولیس سے بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ مقامی قبائلی سرداروں کی مدد سے ہونے والے مذاکرات میں کامیابی کے بعد ڈاکوؤں کے گروہ نے دونوں مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا۔
فیصل رانا کے بقول 'اس میں دونوں طریقوں سے کامیابی ملی۔ مقامی قبائلی سرداروں نے بھی مذاکرات میں مدد کی اور پولیس کی طرف سے آپریشن شروع کیے جانے کے بعد ڈاکوؤں نے خود مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکوؤں کے ایک گروہ لٹھانی گینگ نے لگ بھگ سات روز قبل راجن پور کے کچے کے علاقے سون نیانی میں پولیس کی ایک دریائی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے چار پولیس اہلکار کو اغوا کر لیا تھا۔
تاہم ان چار میں سے دو پولیس اہلکار ڈاکوؤں کی حراست سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ دو پولیس کانسٹیبل لٹھانی گینگ کے قبضے میں تھے۔ آر پی او ڈیرہ غازی خان فیصل رانا کے مطابق لٹھانی گینگ نے دونوں مغوی پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے میں سزا یافتہ ڈاکووں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔
'ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے گرفتار اور جیل میں موجود ساتھیوں کر رہا کیا جائے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنھیں مختلف مقدمات میں 18 مرتبہ سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔'
پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد مختلف کارروائیوں میں پولیس نے گذشتہ چند روز کے دوران گرفتاریاں کی تھیں جن میں لٹھانی گینگ کے افراد کے اہلخانہ اور رشتہ دار وغیرہ سمیت مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے اغوا کے منصوبے کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہPunjab police
یاد رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ڈیرہ غازی خان کے کچے کے علاقے میں متحرک ڈاکوؤں کے ایک گروہ لاڈی گینگ نے اغوا کیے گئے دو افراد کی ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں بےدردی سے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
وزیرِاعظم پاکستان کی طرف سے واقع کا نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر لاڈی گینگ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا تاہم اس آپریشن میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہونے کے بعد وقتی طور پر اسے روک دیا گیا تھا۔
لاڈی گینگ کے لیے بلائی گئی نفری اور بکتر بند گاڑیوں کو ہی راجن پور کے علاقے میں دو مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم ڈیرہ غازی خان پولیس کا کہنا تھا کہ لاڈی گینگ کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کی تیاری کی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPubjab Police
’لٹھانی گینگ پہلے چھوٹو گینگ کا حصہ تھا‘
پولیس کے مطابق لٹھانی گینگ ڈاکوؤں کے ان چند گروہوں میں سے ایک ہے جو پہلے چھوٹو گینگ کا حصہ تھے۔ چھوٹو گینگ راجن پور کے کچے کے علاقے میں متحرک ڈاکوؤں کا ایک ایسا گروہ تھا جو رہزنی کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور قتل جیسی وارداتوں میں ملوث تھا۔
یہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور ساتھ واقع صوبہ سندھ کے ڈیڑھ سو کلومیٹر تک کے کچے کے علاقے کے درمیان موجود درجنوں گروہوں میں سے ایک سرکردہ گروہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
اس گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو نے بھی چند برس قبل کئی پولیس اہلکاروں کو اغوا کے بعد یرغمال بنایا تھا اور اس گروہ کے خلاف پولیس کی طرف سے کیے گئے کئی آپریشن ناکام ہوئے تھے۔
گینگ کے کارندوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی جن کا ذریعۂ معاش اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، بھتہ خوری اور ڈکیتیاں تھیں۔
یہ ڈاکو انتہائی تربیت یافتہ تھے اور پولیس مقابلوں میں شدید مزاحمت کا ریکارڈ رکھتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
سنہ 2016 میں پاکستانی افواج کی سربراہی میں راجن پور کے کچے کے علاقے میں کیے جانے والے ایک آپریشن میں غلام رسول چھوٹو نے اپنے چند ساتھیوں سمیت خود کو آرمی کے حوالے کر دیا تھا۔
حالیہ واقعے میں دو پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے والے ڈاکو غلام رسول چھوٹو اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم یہ ڈاکو پنجاب کی مخلتف جیلوں میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی طرف سے سنائی جانے والی سزائیں کاٹ رہے تھے۔











